مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (اهْتِمَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصِّيَامِ النَّفْلِيِّ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نفلی روزوں کا اہتمام
حدیث نمبر: 2036
بَابُ صِيَامِ التَّطَوُّعِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 2036 - عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا ربَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ، وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ: كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَكَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نفلی روزے (مسلسل) رکھتے رہتے حتیٰ کہ ہم کہتیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ رکھنا ترک نہیں کریں گے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ رکھنا ترک فرما دیتے حتیٰ کہ ہم کہتیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ نہیں رکھیں گے، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماہِ رمضان کے سوا کسی اور مہینے کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شعبان کے علاوہ کسی اور ماہ میں زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ایک دوسری روایت میں ہے، آپ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورا شعبان روزے رکھا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان میں زیادہ روزے رکھا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2036]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1969) و مسلم (175. 176 /1156)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَا لَمْ يَصُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَهْرٍ غَيْرَ رَمَضَانَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی بھی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے
حدیث نمبر: 2037
2037 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟ قَالَتْ: مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں، میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورا مہینہ روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: میں آپ کے بارے میں نہیں جانتی کہ آپ نے رمضان کے علاوہ کسی ماہ کے پورے روزے رکھے ہوں، اور ایسے بھی نہیں کہ آپ نے کسی ماہ میں کوئی روزہ نہ رکھا ہو بلکہ آپ ہر ماہ کچھ روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ آپ وفات پا گئے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2037]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (173 / 1156)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ أَيَّامِ شَعْبَانَ)
شعبان کے آخری دنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان
حدیث نمبر: 2038
2038 - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سَأَلَهُ أَوْ سَأَلَ رَجُلًا وَعِمْرَانَ يَسْمَعُ فَقَالَ:"يَا أَبَا فُلَانٍ أَمَا صُمْتَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ؟"قَالَ: لَا، قَالَ:"فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (یعنی مجھ) سے یا کسی آدمی سے دریافت کیا جبکہ عمران سن رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ابو فلاں! کیا تم نے شعبان کے آخر کے روزے نہیں رکھے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم (رمضان کے) روزے رکھنا چھوڑ دو تو پھر دو دن کے روزے رکھ لینا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2038]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1983) و مسلم (199/ 1161)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (أَفْضَلُ الصِّيَامِ وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ)
بہترین روزہ اور بہترین نماز
حدیث نمبر: 2039
2039 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمِ ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے بعد اللہ کے مہینے محرم کا روزہ بہترین روزہ ہے، اور فرض نماز کے بعد رات کی نماز (یعنی تہجد) بہترین نماز ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2039]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (202 / 1163)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (أَهَمِّيَّةُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ)
عاشوراء کے دن کے روزے کی اہمیت
حدیث نمبر: 2040
2040 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ: يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، وَهَذَا الشَّهْرُ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دن یومِ عاشورہ اور اس ماہ یعنی ماہِ رمضان کے روزوں کے سوا کسی اور دن اور کسی اور ماہ کے روزے کا اہتمام کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (عاشورہ کے) دن کو باقی ایام پر فضیلت دی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2040]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2006) و مسلم (131 / 1132)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (صَوْمُ عَاشُورَةَ الْمُحَرَّمِ)
عاشورۂ محرم کا روزہ
حدیث نمبر: 2041
2041 - وَعَنْهُ قَالَ: حِينَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَوْمٌ يُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو وہ دن ہے کہ یہود و نصاریٰ اس کی تعظیم کرتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو میں نویں (محرم) کا (بھی) روزہ رکھوں گا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2041]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (133. 134 / 1134)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (صَوْمُ يَوْمِ عَرْفَةَ)
یوم عرفہ کا روزہ
حدیث نمبر: 2042
2042 - وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن ان کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا تو کچھ نے کہا: آپ روزے سے ہیں، اور کچھ نے کہا کہ آپ روزے سے نہیں ہیں، میں نے دودھ کا پیالہ آپ کی خدمت میں بھیجا، آپ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار تھے، تو آپ نے اسے نوش فرمایا۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2042]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1988) و مسلم (110 / 1123)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (ذِكْرُ صِيَامِ عَشَرَةِ أَيَّامِ ذُو الْحِجَّةِ)
ذوالحجہ کے دس دن کے روزوں کا ذکر
حدیث نمبر: 2043
2043 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (ذوالحجہ کے) عشرہ میں کبھی روزے سے نہیں دیکھا۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2043]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1176/9)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (أَحْكَامُ الصِّيَامِ النَّفْلِيِّ وَعَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
نفلی روزوں کے احکام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل
حدیث نمبر: 2044
2044 - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: كَيْفَ تَصُومُ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَوْلِهِ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ غَضَبَهُ قَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ، فَجَعَلَ عُمَرُ يُرَدِّدُ هَذَا الْكَلَامَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ ؟ قَالَ:"لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ"أَوْ قَالَ:"لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ"قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:"وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ؟"قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:"ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ"قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ:"وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ"ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ، صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے دریافت کیا کہ آپ روزہ کیسے رکھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات سے ناراض ہوئے، جب عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضی دیکھی تو کہا: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا» ”ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں“، ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ بار بار یہ بات دہراتے رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ جاتا رہا تو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کی کیا حالت ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا۔“ پھر انہوں نے عرض کیا: اس شخص کا کیا حال ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن نہیں رکھتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے۔“ پھر انہوں نے عرض کیا: اس کا کیا حال ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن نہیں رکھتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ اور پھر انہوں نے عرض کیا: اس شخص کا کیا حال ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور دو دن نہیں رکھتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ مجھے اس کی طاقت مل جائے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ماہ (ایامِ بیض کے) تین روزے اور رمضان کے روزے رکھنا یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے جبکہ یومِ عرفہ (9 ذوالحجہ) کے روزے کے بارے میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ سابقہ اور آئندہ سال کے گناہ مٹا دے گا اور یومِ عاشورہ کے روزے کے بارے میں میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ سابقہ سال کے گناہ مٹا دے گا۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2044]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (196 / 1162)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (صَوْمُ يَوْمِ الْإِثْنَيْنِ)
بروز پیر روزہ رکھنا
حدیث نمبر: 2045
2045 - وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ:"فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے روزہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہی میرا یومِ پیدائش ہے اور یہی یومِ نبوت (یعنی اسی روز مجھ پر وحی نازل کی گئی)۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2045]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (198 / 1162)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح