مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الاسْتِعَاذَةُ مِنَ الحَيَوَانَاتِ السَّامَّةِ وَالمُهْلِكَاتِ الفَجْأَةِ)
زہریلے جانور اور اچانک مار دینے والی چیزوں سے پناہ مانگنا
حدیث نمبر: 2473
2473 - (وَعَنْ أَبِي الْيَسَرِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ مِنَ التَّرَدِّي ، وَمِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى وَالْغَمِّ.
ابو یسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ کوئی عمارت مجھ پر گر پڑے، میں کسی اونچی جگہ سے گرنے، ڈوب جانے، جل جانے اور بڑھاپے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ موت کے وقت شیطان مجھے مخبوط الحواس بنا دے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں تیری راہ میں پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے فوت ہوں، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ کسی چیز کے ڈسنے سے میری موت واقع ہو۔“ ابوداؤد اور نسائی نے اسے روایت کیا ہے، اور انہوں (نسائی) نے دوسری روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے: «وَالْغَمِّ» ”اور غم سے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2473]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1552) والنسائي (282/8 ح 5533) [و صححه الحاکم (531/1) ووافقه الذهبي] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (الاسْتِعَاذَةُ مِنَ الطَّمَعِ)
لالچ سے پناہ مانگنا
حدیث نمبر: 2474
2474 - (وَعَنْ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى طَبَعٍ) . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ.
معاذ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ایسی طمع سے پناہ طلب کرو جو گناہ کی طرف لے جائے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد والبیہقی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2474]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (232/5 ح 22371 مختصرًا) والبيھقي في الدعوات الکبير (53/2 ح 286) [والحاکم (533/1) ]
٭ فيه عبد الله بن عامر الأسلمي ضعيف: ضعفه الجمھور .»
٭ فيه عبد الله بن عامر الأسلمي ضعيف: ضعفه الجمھور .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (الاسْتِعَاذَةُ مِنْ شَرِّ غُرُوبِ القَمَرِ)
چاند کے غروب ہونے کی برائی سے پناہ مانگنا
حدیث نمبر: 2475
2475 - (وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا فَإِنَّ هَذَا هُوَ الْغَاسِقُ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاند کی طرف دیکھا تو فرمایا: ”عائشہ رضی اللہ عنہا! اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو، کیونکہ یہی وہ «الْغَاسِقُ» ہے جب بے نور ہو جائے۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2475]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3366 وقال: حسن صحيح) [و صححه الحاکم (540/2. 541) ووافقه الذهبي] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (دُعَاءٌ قَصِيرٌ وَوَافٍ)
چھوٹی اور بھرپور دعا
حدیث نمبر: 2476
2476 - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي: يَا حُصَيْنُ كَمْ تَعْبُدُ إِلَهًا؟ قَالَ أَبِي: سَبْعَةً سِتًّا فِي الْأَرْضِ وَوَاحِدًا فِي السَّمَاءِ، فَأَيُّهُمْ تَعُدُّ لِرَغْبَتِكَ وَرَهْبَتِكَ؟ قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ قَالَ يَا حُصَيْنُ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَسْلَمْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَتَيْنِ تَنْفَعَانِكَ، قَالَ: فَلَمَّا أَسْلَمَ حَصِينٌ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي الْكَلِمَتَيْنِ اللَّتَيْنِ وَعَدْتَنِي فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے والد سے فرمایا: ”حصین! آج تم کتنے معبودوں کی پوجا کرتے ہو؟“ میرے والد نے کہا: سات کی، چھ زمین پر ہیں اور ایک آسمان میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے نفع و نقصان کے لیے کسے خاص کرتے ہو؟“ اس نے کہا: جو آسمانوں میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”حصین! سن لو! اگر تم اسلام قبول کر لو تو میں تمہیں دو کلمے سکھاؤں گا جو تمہیں فائدہ پہنچائیں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں، جب حصین رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وہ دو کلمے سکھائیں جن کا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي، وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي» ”اے اللہ! میری بھلائی مجھے الہام فرما دے، اور مجھے میرے نفس کی خرابی سے بچا لے۔““ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2476]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3483 وقال: حسن غريب)
٭ الحسن البصري مدلس و عنعن .»
٭ الحسن البصري مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (دُعَاءُ الفَزَعِ فِي النَّوْمِ)
نیند میں ڈر جانے کی دعا
حدیث نمبر: 2477
2477 - (وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِذَا فَزِعَ أَحَدُكُمْ فِي النَّوْمِ فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونَ فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يُعَلِّمُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ وَمَنْ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهُمْ كَتَبَهَا فِي صَكٍّ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَهَذَا لَفْظُهُ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نیند میں گھبرا جائے تو وہ یوں کہے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ» ”میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے، اس کے غضب، اس کے عقاب، اس کے بندوں کے شر اور شیاطین کے وسوسوں سے کہ وہ میرے پاس آئیں، پناہ چاہتا ہوں“ وہ (وسوسے) اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچائیں گے۔“ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے بالغ بچوں کو یہ کلمات سکھایا کرتے تھے، اور جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے تو آپ انہیں کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں ڈال دیا کرتے تھے۔ ابوداؤد، ترمذی۔ اور یہ الفاظ ترمذی کے ہیں۔ (اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد والترمذی) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2477]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3893) و الترمذي (3528 و قال: حسن غريب)
٭ محمد بن إسحاق بن يسار مدلس و لم أجده تصريح سماعه .»
٭ محمد بن إسحاق بن يسار مدلس و لم أجده تصريح سماعه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (دُعَاءُ طَلَبِ الجَنَّةِ وَالاسْتِعَاذَةِ مِنَ النَّارِ)
جنت مانگنے اور جھنم سے پناہ مانگنے کی دعا
حدیث نمبر: 2478
2478 - (وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تین مرتبہ اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے: «اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ» ”اے اللہ! اسے جنت میں داخل فرما“، اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ طلب کرتا ہے تو جہنم عرض کرتی ہے: «اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! اسے جہنم سے بچا۔““ صحیح، رواہ الترمذی والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2478]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (2572) والنسائي (279/8 ح 5523)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (دُعَاءُ الحِمَايَةِ مِنَ السِّحْرِ وَغَيْرِهِ)
جادو وغیرہ سے بچنے کی دعا
حدیث نمبر: 2479
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 2479 - (عَنِ الْقَعْقَاعِ أَنَّ كَعْبَ الْأَحْبَارِ قَالَ: لَوْلَا كَلِمَاتٌ أَقُولُهُنَّ لَجَعَلَتْنِي يَهُودُ حِمَارًا. فَقِيلَ لَهُ: مَا هُنَّ قَالَ: أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ ، وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، وَبِأَسْمَاءِ اللَّهِ الْحُسْنَى مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ) . رَوَاهُ مَالِكٌ.
قعقاع بیان کرتے ہیں کہ کعب احبار رحمہ اللہ نے کہا: اگر میں چند کلمات نہ کہوں تو یہودی (جادو کے ذریعے) مجھے گدھا بنا دیں، ان سے پوچھا گیا: وہ کلمات کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا: «أَعُوذُ بِوَجْهِ اللّٰهِ الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ، وَبِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، وَبِأَسْمَاءِ اللّٰهِ الْحُسْنَىٰ كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ» ”میں اللہ عظیم کی ذات کے ذریعے پناہ حاصل کرتا ہوں جس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، اور اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے (پناہ حاصل کرتا ہوں) جن سے نہ کوئی نیک تجاوز کر سکتا ہے اور نہ کوئی فاجر، اور اللہ کے تمام اسمائے حسنیٰ کے ذریعے جنہیں میں جانتا ہوں اور جنہیں میں نہیں جانتا، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی، پھیلائی اور بنائی۔“ (اسنادہ صحیح، رواہ مالک) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2479]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه مالک (951/2. 952 ح 1839)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (دُعَاءٌ بَعْدَ الصَّلَاةِ الفَرِيضَةِ)
فرض نماز کے بعد پڑھنے کی دعا
حدیث نمبر: 2480
2480 - (وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ كَانَ أَبِي يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، فَكُنْتُ أَقُولُهُنَّ فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ عَمَّنْ أَخَذْتَ هَذَا؟ قُلْتُ: عَنْكَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُهُنَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُذْكَرْ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ، وَرَوَى أَحْمَدُ لَفْظَ الْحَدِيثِ وَعِنْدَهُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ.
مسلم بن ابی بکرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میرے والد (ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) نماز کے بعد دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کفر و فقر اور عذابِ قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ میں بھی انہیں پڑھا کرتا تھا، انہوں نے کہا: بیٹا! تم نے انہیں کس سے سیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ سے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں نماز کے بعد کہا کرتے تھے۔“ ترمذی، نسائی۔ البتہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”نماز کے بعد“ کا ذکر نہیں کیا۔ اور امام احمد رحمہ اللہ نے حدیث کے الفاظ روایت کیے اور ان کی روایت میں ہے ”ہر نماز کے بعد۔“ اسنادہ حسن، رواہ النسائی والترمذی واحمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2480]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه النسائي (73/3. 74 ح 1348) والترمذي (3503 وقال: غريب) و أحمد (44/5 ح 20720 [وھو حسن] )»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (الاسْتِعَاذَةُ مِنَ الكُفْرِ وَالدَّيْنِ)
کفر اور قرض سے پناہ مانگنا
حدیث نمبر: 2481
2481 - (وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْدِلُ الْكُفْرَ بِالدَّيْنِ قَالَ: نَعَمْ) . وَفِي رِوَايَةٍ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ قَالَ رَجُلٌ: وَيُعْدَلَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ» ”اے اللہ! میں کفر و قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ کسی آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کفر، قرض کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اور دوسری روایت میں ہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ» ”اے اللہ! میں کفر و فقر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ کسی آدمی نے عرض کیا: وہ دونوں برابر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اسنادہ حسن، رواہ النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2481]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه النسائي (264/8. 265ح 5475. 5476، 267/8 ح 5487)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (بَيَانُ الجَوَامِعِ مِنَ الأَدْعِيَةِ)
جامع دعاوں کا بیان
حدیث نمبر: 2482
(بَابُ جَامِعِ الدُّعَاءِ) الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 2482 - (عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي ، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَدِّي وَهَزْلِي، وَخَطَئِي وَعَمْدِي وَكُلَّ ذَلِكَ عِنْدِي، اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ) . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جِدِّي وَهَزْلِي، وَخَطَئِي وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اے اللہ! میری خطائیں، میری جہالت، اور تمام امور میں جو مجھ سے زیادتی ہوئی جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، معاف فرما دے، اے اللہ! میں نے جو دانستہ کیا، جو بھول چوک سے ہوا اور جو کچھ عمداً کیا، یہ سب کچھ مجھ میں ہے، تو اسے معاف کر دے، اے اللہ! میں نے جو آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا، میں نے جو علانیہ کیا اور جو چھپ کر کیا اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، سب معاف کر دے، تو ہی آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2482]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6389. 6399) و مسلم (2719/70)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه