مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (دُعَاءُ القِيَامِ مِنَ المَجْلِسِ)
مجلس سے اٹھتے وقت کی دعا
حدیث نمبر: 2433
2433 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس کی بے مقصد اور بے ہودہ باتیں زیادہ ہو جائیں اور پھر وہ اٹھنے سے پہلے یہ دعا: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔“ پڑھتا ہے تو اس کی اس مجلس میں ہونے والی خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں۔“ [إسناده صحيح، رواہ الترمذي والبیہقي] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2433]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (3433 وقال: حسن صحيح) و البيھقي في الدعوات الکبير (لم أجده ورواه في شعب الإيمان:628)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (دُعَاءُ رُكُوبِ المَطِيَّةِ)
سواری پر سوار ہوتے وقت کی دعا
حدیث نمبر: 2434
2434 - وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا، سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيلَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي يَقُولُ: يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي) . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی سواری کے لیے ایک جانور لایا گیا، جب انہوں نے رکاب میں پاؤں رکھا تو کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے۔“ جب اس کی پشت پر براجمان ہو گئے تو کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔“ پھر فرمایا: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] ”پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا جبکہ ہم تو اس کی قدرت نہیں رکھتے تھے، اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔“ پھر انہوں نے تین مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ اور تین مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، پھر کہا: «سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”پاک ہے تو، میں نے ہی اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔“ پھر وہ مسکرائے، ان سے پوچھا گیا: امیر المؤمنین! آپ کس چیز سے مسکرائے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا جس طرح میں نے کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کس چیز سے مسکرائے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا رب اپنے اس بندے سے بہت خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي» ”اے میرے رب! میرے گناہ معاف کر دے۔“ رب تعالیٰ فرماتا ہے: ”وہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی اور گناہ معاف نہیں کرتا۔““ (صحیح، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2434]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (97/1 ح 753) و الترمذي (3446 وقال: غريب) و أبو داود (2602)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (تَوْدِيعُ المُسَافِرِ سُنَّةٌ)
مسافر کو رخصت کرنا مسنون عمل ہے
حدیث نمبر: 2435
2435 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا وَدَّعَ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهِ فَلَا يَدَعُهَا حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ يَدَعُ يَدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَقُولُ: (أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَآخِرَ عَمَلِكَ) . وَفِي رِوَايَةٍ:"وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَتِهِمَا لَمْ يُذْكَرْ وَآخِرَ عَمَلِكَ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی شخص کو الوداع کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا ہاتھ تھامے رکھتے حتیٰ کہ وہ آدمی خود نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ چھوڑ دیتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھتے: «أَسْتَوْدِعُ اللّٰهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» ”میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے آخری عمل کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔ اور ایک روایت میں ہے: ”تیرے عملوں کے خاتمے کو“۔ ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، اور ان دونوں (ابوداؤد، ابن ماجہ) کی روایت میں «وَآخِرَ عَمَلِكَ» کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صحیح، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2435]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (3443 وقال: حسن صحيح) و أبو داود (2600) و ابن ماجه (2866)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كَيْفِيَّةُ تَوْدِيعِ المُسَافِرِ)
مسافر کو الوداع کرنے کا طریقہ
حدیث نمبر: 2436
2436 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْخَطْمِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَوْدِعَ الْجَيْشَ قَالَ : (أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ خطمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لشکر روانہ کرنے کا ارادہ فرماتے تو یوں دعا فرماتے: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ» ”میں تمہارے دین، تمہاری امانتوں اور تمہارے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2436]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (2601)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (ثُبُوتُ طَلَبِ الدُّعَاءِ مِنَ الأَكَابِرِ)
اپنے اکابرین سے دعا کروانے کا ثبوت
حدیث نمبر: 2437
2437 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِي فَقَالَ: (زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى) قَالَ: زِدْنِي قَالَ: (وَغَفَرَ ذَنْبَكَ) قَالَ: زِدْنِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: (وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُ كُنْتَ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں، آپ مجھے زاد راہ عطا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «زَوَّدَكَ اللّٰهُ التَّقْوَىٰ» ”اللہ تمہیں تقویٰ کا زاد راہ عطا فرمائے۔“ اس نے عرض کیا: کچھ زیادہ فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «وَغَفَرَ ذَنْبَكَ» ”وہ تمہارے گناہ بخش دے۔“ اس نے عرض کیا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں، زیادہ فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ» ”تم جہاں بھی ہو اللہ تمہارے لیے خیر و بھلائی آسان فرما دے۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2437]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3444)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (نَصِيحَةُ المُسَافِرِ سُنَّةٌ)
مسافر کو نصیحت کرنا مسنون ہے
حدیث نمبر: 2438
2438 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُسَافِرَ فَأَوْصِنِي ، قَالَ: (عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ) ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ: (اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْبُعْدَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں سفر کرنا چاہتا ہوں، لہذا آپ مجھے کوئی وصیت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” «عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ» ”اللہ کے تقویٰ اور ہر اونچی جگہ پر اللہ اکبر پڑھنے کا التزام کرنا۔“”جب وہ آدمی واپس چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْبُعْدَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» ”اے اللہ! اس کی دوری و مسافت کو لپیٹ (کر سمیٹ) دے اور سفر کو اس کے لیے آسان کر دے۔“”اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2438]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3445 و قال: حسن)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (الاسْتِعَاذَةُ مِنَ المُؤْذِيَاتِ)
تکلیف دینے والی چیزوں سے پناہ مانگنا
حدیث نمبر: 2439
2439 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَافَرَ فَأَقْبَلَ اللَّيْلُ قَالَ : (يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ وَشَرِّ مَا يَدِبُّ عَلَيْكِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ أَسَدٍ وَأَسْودَ وَمِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں ہوتے اور رات ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: ”زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں تیرے شر سے، جو کچھ تجھ میں ہے اس کے شر سے، جو تجھ میں پیدا کیا گیا ہے اس کے شر سے اور جو چیز تیری سطح پر چل رہی ہے اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ میں شیر، کالے ناگ، سانپ و بچھو کے شر سے اور بستی کے باسیوں اور والد (شیطان) اور ذریت (اولاد شیطان) کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں“۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2439]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2603)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (دُعَاءُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عِنْدَ الجِهَادِ)
جہاد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا
حدیث نمبر: 2440
2440 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا غَزَا قَالَ : (اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَنَصِيرِي بِكَ أَحُولُ وَبِكَ أَصُولُ وَبِكَ أُقَاتِلُ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاد کے لیے نکلتے تو یوں دعا فرماتے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي، وَأَنْتَ نَصِيرِي، بِكَ أَحُولُ، وَبِكَ أَصُولُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ» ”اے اللہ! تو ہی میرا بازو ہے، تو ہی میرا مددگار ہے، میں تیری ہی توفیق سے دشمن کی چالوں کو رد کرتا ہوں، تیری ہی مدد سے (دشمن پر) حملہ کرتا ہوں اور تیری توفیق و نصرت سے قتال کرتا ہوں۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی وابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2440]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3584 وقال: حسن غريب) و أبو داود (2632)
٭ قتادة مدلس و لم أجد تصريح سماعه .»
٭ قتادة مدلس و لم أجد تصريح سماعه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (دُعَاءُ الخَوْفِ مِنَ العَدُوِّ)
دشمن سے خوف کے وقت کی دعا
حدیث نمبر: 2441
2441 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا قَالَ (اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ) . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ.
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی قوم سے اندیشہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا فرماتے تھے: ” «اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ» ”اے اللہ! ہم ان کے مقابلے میں تجھے کرتے ہیں، اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔““ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2441]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (414/4 ح 19958) و أبو داود (1537)
٭ قتادة مدلس و لم أجد تصريح سماعه .»
٭ قتادة مدلس و لم أجد تصريح سماعه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (الدُّعَاءُ المَأْثُورُ عِنْدَ الخُرُوجِ مِنَ البَيْتِ)
گھر سے نکلتے وقت کی مسنون دعا
حدیث نمبر: 2442
2442 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ: (بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ، أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا) رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ، وَابْنِ مَاجَهْ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: مَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا رَفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ".
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو دعا فرماتے: «بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ، أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ، أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا» ”اللہ کے نام کے ساتھ، میں نے اللہ پر توکل کیا، اے اللہ! ہم تیری پناہ چاہتے ہیں کہ ہم (صراط مستقیم سے) پھسل جائیں یا گمراہ ہو جائیں، یا ہم ظلم کریں یا ہم پر ظلم کیا جائے، یا ہم کسی سے جہالت سے پیش آئیں یا ہمارے ساتھ جہالت سے پیش آیا جائے۔“ (احمد، ترمذی، نسائی)۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابوداؤد اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے، ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی میرے گھر سے تشریف لے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دعا فرماتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کر دیا جاؤں، یا میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں جہالت سے پیش آؤں یا مجھ سے جہالت سے پیش آیا جائے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2442]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (306/6 ح 27151) والترمذي (3427) والنسائي (في عمل اليوم والليلة:89 والسنن الکبري:9917) و أبو داود (5094) و ابن ماجه (2884)
٭ عامر الشعبي لم يسمع من أم سلمة عند ابن المديني و قوله ھو الراجح .»
٭ عامر الشعبي لم يسمع من أم سلمة عند ابن المديني و قوله ھو الراجح .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٍ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف