Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (الاضْطِبَاعُ سُنَّةٌ)
اضطباع کرنا سنت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2585
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم وأصحابَه اعتمروا من الجعْرانة فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ ثُمَّ قَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمُ الْيُسْرَى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے صحابہ نے جِعرانہ سے عمرہ کیا تو انہوں نے تین چکر تیز تیز چل کر پورے کئے اور انہوں نے اپنی (احرام کی) چادروں کو (داہنی) بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں کے اوپر ڈال رکھا تھا۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2585]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1884)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَمْسُ الرُّكْنِ الْيَمَانِي وَالْحَجَرِ الأَسْوَدِ)
رکن یمانی اور حجر اسود کو ہاتھ لگانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2586
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَا تَرَكْنَا اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ: الْيَمَانِي وَالْحَجَرِ فِي شِدَّةٍ وَلَا رخاء مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يستلمهما
ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے جب سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حجر اسود اور رکنِ یمانی کا استلام (چھونا) کرتے ہوئے دیکھا ہے تب سے ہم نے تنگی یا آسانی کسی بھی حال میں اِن کا استلام کرنا نہیں چھوڑا۔ متفق علیہ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2586]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1606) ومسلم (1268/245)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ الاسْتِلَامِ بِالْيَدِ)
ہاتھ کے ساتھ استیلام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2587
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: قَالَ نَافِعٌ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ وَقَالَ: مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَله
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے: نافع بیان کرتے ہیں، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ سے حجر اسود کو چھوتے پھر ہاتھ چومتے، اور انہوں نے فرمایا: میں نے جب سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا ہے تب سے میں نے اسے ترک نہیں کیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1610) و مسلم (1276/258)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (طَوَافُ الْمَرِيضِ عَلَى دَابَّةٍ)
مریض کا سواری پر طواف کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2588
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ: «طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ» فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ ب (الطُّورِ وكِتَابٍ مسطور)
ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، میں نے اپنی بیماری کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرو۔ میں نے طواف کیا جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کی ایک جانب (بیت اللہ کی دیوار کے ساتھ) نماز پڑھ رہے تھے اور آپ سورۂ طور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2588]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1619) و مسلم (1276/258)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَقْبِيلُ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
حجر اسود کو چُومنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2589
وَعَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْت عمر يقبل الْحجر وَيَقُول: وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقبل مَا قبلتك
عابس بن ربیعہ بیان کرتے ہیں، میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں: میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، تو نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2589]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1597) و مسلم (1270/251)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَعْيِينُ سَبْعِينَ مَلَكًا عَلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِي)
رکن یمانی پر ستر فرشتے مقرر کیے گئے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2590
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وُكِّلَ بِهِ سَبْعُونَ مَلَكًا» يَعْنِي الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ فَمَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالُوا: آمين. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس رکنِ یمانی پر ستر فرشتے مامور ہیں، جو شخص کہتا ہے: اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کی درخواست کرتا ہوں، ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، ہمیں آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ تو وہ فرشتے آمین کہتے ہیں۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2590]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (2957)
٭ قال البوصيري: ’’ھذا إسناد ضعيف، حميد، قال فيه ابن عدي: أحاديثه غير محفوظة، و قال الذهبي: مجھول‘‘ قلت: حميد ھو ابن أبي سوية .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةُ الطَّوَافِ)
طواف کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2591
وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَكُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ. وَمَنْ طَافَ فَتَكَلَّمَ وَهُوَ فِي تِلْكَ الْحَالِ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ بِرِجْلَيْهِ كَخَائِضِ الماءِ برجليه. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور اس دوران سبحان اللہ ........ الا باللہ اللہ پاک ہے، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، گناہ سے بچنا اور نیک عمل کرنا محض اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ ہے۔ کے سوا کوئی بات نہ کرے تو اس کے دس گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے دس درجات بلند کر دیے جاتے ہیں۔ اور جو شخص طواف کرے اور اس دوران باتیں کرے تو وہ اس حال میں ایسے ہے کہ اس کے پاؤں تو رحمت میں ہیں (لیکن اوپر کا حصہ رحمت میں نہیں) جیسے کسی نے اپنے پاؤں پانی میں ڈبو رکھے ہوں۔ اسنادہ حسن، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2591]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه ابن ماجه (2956)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ التَّوَقُّفِ فِي مَيْدَانِ عَرَفَاتٍ)
میدان عرفات میں ٹھہر نے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2592
عَن محمدِ بن أبي بكرٍ الثَقَفيُّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ يُهِلُّ مِنَّا الْمُهِلُّ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنكَرُ عَلَيْهِ
محمد بن ابوبکر ؒ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، جبکہ وہ دونوں منی سے عرفات جا رہے تھے، آپ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس روز کیسے (تکبیر و تہلیل) کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہم میں سے کوئی تلبیہ پڑھتا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور ہم میں سے کوئی اللہ اکبر کہتا تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2592]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1659) و مسلم (274/ 1285)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مِنًى كُلُّهَا مَذْبَحٌ)
منٰی سارا قربان گاہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2593
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نحرتُ هَهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ. وَوَقَفْتُ هَهُنَا وعرفةُ كلُّها موقفٌ. ووقفتُ هَهُنَا وجَمْعٌ كلُّها موقفٌ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے (منی میں) اس جگہ قربانی ذبح کی ہے جبکہ منی سارے کا سارا قربان گاہ ہے اور میں نے یہاں وقوف کیا ہے جبکہ میدانِ عرفات سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے اور میں نے یہاں وقوف کیا ہے جبکہ مزدلفہ سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2593]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1218/149)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْحَجُّ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ)
حج سے گناہ معاف ہوتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2594
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ. رَوَاهُ مُسلم
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ باقی ایام کی نسبت عرفہ کے دن، سب سے زیادہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے۔ اور وہ قریب ہوتا ہے، پھر ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2594]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1348/436)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں