🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (يَجِبُ تَقْوَى اللَّهِ تَعَالَى فِي مُعَامَلَةِ الْبَهَائِمِ أَيْضًا)
بےزبانوں کے معاملے میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3370
3370 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَعِيرٍ قَدْ لَحِقَ ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ، فَقَالَ:"اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ الْمُعْجَمَةِ". فَارْكَبُوهَا صَالِحَةً وَاتْرُكُوهَا صَالِحَةً". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک لاغر اونٹ کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، ان پر اس حال میں سواری کرو کہ وہ سواری کے قابل ہوں، اور انہیں اس حال میں چھوڑو کہ وہ اچھے ہوں (ابھی تھکے نہ ہوں)۔“ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3370]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (2548)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ إِشْرَاكِ الْيَتَامَى فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ)
یتیموں کے کھانے پینے کو اپنے ساتھ شامل کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3371
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3371 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: لَمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ تَعَالَى: وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ  ، وَقَوْلُهُ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا الْآيَةَ انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَتِيمٌ فَعَزَلَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ شَرَابِهِ، فَإِذَا فَضَلَ مِنْ طَعَامِ الْيَتِيمِ وَشَرَابِهِ شَيْءٌ حُبِسَ لَهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ أَوْ يَفْسُدَ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فَخَلَطُوا طَعَامَهُمْ بِطَعَامِهِمْ، وَشَرَابَهُمْ بِشَرَابِهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جب اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [سورة الأنعام: 152] ”تم یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اسی کے ساتھ کہ وہ احسن ہو۔“ اور اس کا فرمان ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا﴾ [سورة النساء: 10] ”بے شک جو لوگ یتیموں کا مال از راہِ ظلم کھاتے ہیں۔“ نازل ہوا تو پھر جس شخص کے پاس یتیم تھا اس نے اس کا کھانا اپنے کھانے سے، اس کا پینا اپنے پینے سے الگ کر دیا، اور جب یتیم کے کھانے پینے سے کچھ بچ جاتا تو وہ اسی کے لیے رکھ دیتے حتی کہ وہ اسے کھا لیتا یا وہ خراب ہو جاتا، یہ چیز ان پر بہت دشوار گزری تو انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا تذکرہ کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ [سورة البقرة: 220] ”وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرما دیجئے ان کے لیے اصلاح کرنا بہتر ہے، اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔“ انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ اور پینا اپنے پینے کے ساتھ ملا لیا۔ (سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد والنسائی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3371]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (2871) و النسائي (256/6 ح 3699)
٭ عطاء بن السائب اختلط .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَعْنَةٌ عَلَى مَنْ يُفَرِّقُ بَيْنَ الْإِخْوَةِ)
بھائیوں کے درمیان تفریق ڈالنے والے پر لعنت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3372
3372 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ، وَبَيْنَ الْأَخِ وَبَيْنَ أَخِيهِ  . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ”والد اور اس کے بچے کے درمیان، نیز بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالنے والے پر لعنت فرمائی۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ و الدارقطنی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3372]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (2250) و الدارقطني (67/3)
٭ إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع الأنصاري: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَسْرَى بَيْتٍ وَاحِدٍ يُسَلَّمُونَ إِلَى شَخْصٍ وَاحِدٍ)
ایک گھر کے قیدی ایک ہی شخص کے حوالے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3373
3373 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أُتِيَ بِالسَّبْيِ أَعْطَى أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا، كَرَاهِيَةَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ  . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس قیدی لائے جاتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک گھر کے تمام افراد کسی ایک کو عطا فرما دیتے تھے کیونکہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان میں جدائی ڈالنا ناپسند تھا۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا»، اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3373]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه ابن ماجه (2248)
٭ فيه جابر الجعفي ضعيف رافضي مدلس اتھمه بعضھم، و في السند علة أخري .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَلَامَاتُ الأَشْرَارِ)
برے لوگوں کی نشانیاں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3374
3374 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمُ الَّذِي يَأْكُلُ وَحْدَهُ، وَيَجْلِدُ عَبْدَهُ، وَيَمْنَعُ رِفْدَهُ". رَوَاهُ رَزِينٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے برے لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ وہ شخص ہے جو (بخل و تکبر کی وجہ سے) اکیلا کھاتا ہے، اپنے غلام کو مارتا ہے اور اپنا عطیہ اس کے مستحق کو نہیں دیتا۔“ «لَمْ أَجِدْهُ» ”میں نے اسے نہیں پایا“، اسے رزین نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3374]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لم أجده، رواه رزين (لم أجده)
٭ قوله ’’و يجلد عبده و يمنع رفده‘‘ له شاھد عند الطبراني في الکبير (387/10ح 10775) فيه ابن ميمون متروک، انظر مجمع الزوائد (183/8) فلا يستشھد به .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:لم أجده

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ يُسِيءُ مُعَامَلَةَ الْعَبْدِ بَعِيدٌ عَنِ الْجَنَّةِ)
غلام کے ساتھ بد تمیزی کرنے والا جنت سے دور
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3375
3375 - وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ  قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَيَتَامَى قَالَ: نَعَمْ فَأَكْرِمُوهُمْ كَكَرَامَةِ أَوْلَادِكُمْ وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ قَالُوا: فَمَا يَنْفَعُنَا قَالَ:"فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ، تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"وَمَمْلُوكٌ يَكْفِيكَ فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”(مملوکوں سے) بُرا سلوک کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا کہ اس امت میں تمام امتوں سے زیادہ مملوک اور یتیم ہوں گے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تم ان کی اپنی اولاد کی طرح تکریم کرو اور جو خود کھاؤ وہی انہیں کھلاؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: ہمیں دنیا میں کون سی چیز فائدہ دے گی؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”گھوڑا جسے تو تیار رکھے تاکہ تو اس پر اللہ کی راہ میں جہاد کرے، اور مملوک جو تجھے کفایت کرے، جب وہ نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3375]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (3691) [والترمذي: 1946]
٭ فيه فرقد ضعيف و تقدم طرفه (3358)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْعُمْرُ لِلْجِهَادِ)
جہاد کے لیے عمر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3376
(18) بَابُ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ فِي الصِّغَرِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3376 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَدَّنِي  ، ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ عَامَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: هَذَا فَرْقُ مَا بَيْنَ الْمُقَاتِلَةِ وَالذُّرِّيَّةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، غزوہ احد کے موقع پر چودہ سال کی عمر میں مجھے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے مجھے واپس کر دیا، پھر غزوہ خندق کے موقع پر پندرہ سال کی عمر میں مجھے پیش کیا گیا تو آپ نے مجھے (جہاد کرنے کی) اجازت مرحمت فرما دی۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: یہی عمر (پندرہ سال) لڑنے والے جوانوں اور لڑکوں (نابالغ) میں فرق کرنے والی ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3376]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2664) و مسلم (1868/91)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَسْلِيمُ ابْنَةِ السَّيِّدِ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى خَالَتِهَا)
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو خالہ کے سپرد کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3377
3377 - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ  : عَلَى أَنَّ مَنْ أَتَاهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَدَّهُ إِلَيْهِمْ، وَمَنْ أَتَاهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَرُدُّوهُ، وَعَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا مِنْ قَابِلٍ وَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ خَرَجَ، فَتَبِعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي: يَا عَمِّ! يَا عَمِّ! فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ، فَأَخَذَ بِيَدِهَا، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ. قَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي. وَقَالَ جَعْفَرٌ: بِنْتُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي. وَقَالَ زَيْدٌ: بِنْتُ أَخِي فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِخَالَتِهَا، وَقَالَ:"الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ". قَالَ لَعَلِيٍّ:"أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ". وَقَالَ لِجَعْفَرٍ:"أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي". وَقَالَ لِزَيْدٍ:"أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر تین اشیاء پر صلح فرمائی، کہ مشرکین میں سے جو شخص ان کی طرف آئے گا اسے ان (مشرکین) کی طرف واپس کیا جائے گا، اور جو مسلمانوں کی طرف سے ان کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آئندہ سال مکہ میں داخل ہوں گے اور وہاں تین روز قیام کریں گے، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس (مکہ) میں داخل ہوئے اور مدت پوری ہو گئی اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے واپسی کا ارادہ فرمایا تو حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے ”چچا جان! چچا جان!“ کہہ کر آوازیں دینے لگی تو علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ کر لیا، اس کے ساتھ ہی علی رضی اللہ عنہ، جعفر رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے درمیان حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں تنازع شروع ہو گیا؛ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اسے پکڑا ہے اور وہ میرے چچا کی بیٹی ہے، جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے، اور زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے بھائی کی بیٹی ہے، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق اس کی خالہ کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا: «الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ» ”خالہ ماں کی جگہ پر ہے۔“ اور علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ» ”تم مجھ سے ہو اور میں تجھ سے ہوں۔“ جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي» ”تم خَلق و خُلق (سیرت و صورت) میں مجھ سے مشابہ ہو۔“ اور زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا» ”تم ہمارے بھائی اور ہمارے چہیتے ہو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3377]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4251) و مسلم (1783/90)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الأُمُّ لَهَا حَقٌّ أَكْبَرُ عَلَى الطِّفْلِ)
بچے پر ماں کا زیادہ ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3378
الْفَصْلُ الثَّانِي 3378 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -: أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً، وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً، وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً، وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي، وَأَرَادَ أَنْ يَنْزِعَهُ مِنِّي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا یہ بیٹا (کہ دورانِ حمل) میرا پیٹ اس کے لیے ظرف تھا، (دورانِ رضاعت) میری چھاتی اس کے لیے مشکیزہ (دودھ پینے کی جگہ) تھی اور میری گود اس کے لیے ٹھکانا تھی، اور (اب) اس کے والد نے مجھے طلاق دے دی ہے اور وہ اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تک تو (نئے خاوند سے) نکاح نہ کرے، اس وقت تک تم اس کی زیادہ حق دار ہو۔“ (اسنادہ حسن، رواہ احمد و ابوداؤد)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3378]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (182/2 ح 6707) و أبو داود (2276)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لِلْأَطْفَالِ الْكِبَارِ اخْتِيَارٌ)
بڑے بچوں کو اختیار ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3379
3379 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بالغ لڑکے کو اس کے والد اور اس کی والدہ کے درمیان اختیار دیا۔ [صحیح، رواہ الترمذی] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3379]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (1357 وقال: حسن صحيح)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں