🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مَسْأَلَةُ هَرَبِ الْعَبْدِ)
غلام کے بھاگ جانے کا معاملہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3350
3350 - وَعَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ". وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ:"أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ فَقَدْ بَرِئَتْ فِيهِ الذِّمَّةُ". وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ:"أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ فَقَدْ كَفَرَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب غلام فرار ہو جاتا ہے تو اس کی نماز قبول نہیں کی جاتی۔“ اور انہی سے ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو غلام فرار ہو جاتا ہے تو اس سے ذمہ ختم ہو جاتا ہے۔“ اور انہی سے ایک اور روایت میں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو غلام اپنے مالکوں سے فرار ہو جائے تو اس نے کفر کیا حتی کہ وہ ان کے پاس لوٹ آئے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3350]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (70/124، 69/122)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (70/124، 69/122)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَذَابُ مَنْ يَتَّهِمُ عَبْدَهُ بِالزِّنَا)
اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگانے والے کا عذاب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3351
3351 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ جُلِدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ  إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابوالقاسم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنے مملوک پر بہتان باندھا جبکہ وہ اس سے بری ہو جو اس نے کہا تو روزِ قیامت اسے کوڑے مارے جائیں گے مگر یہ کہ وہ ویسا ہی ہو جیسا اس نے کہا۔“ (متفق علیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3351]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6858) و مسلم (1660/37)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَوَازُ اسْتِعْبَادِ الْعَبْدِ حَتَّى حَدِّ الضَّرْبِ)
غلام کرنا جائز حد مارنے کا کنارہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3352
3352 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ  ، أَوْ لَطَمَهُ، فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے اپنے غلام پر اس کے ناکردہ جرم پر حد قائم کی یا اس کو تھپڑ رسید کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3352]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (657/30)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَرَّرَ السَّيِّدُ مَسْعُودٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَبْدًا بَدَلًا مِنْ عُقُوبَتِهِ)
حضرت مسعود ڑضی اللہ عنہ نے سزا دینے کے بدلے غلام کو آزاد کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3353
3353 - وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي  ، فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا:"اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ". فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ. فَقَالَ:"أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ - أَوْ لَمَسَّتْكَ النَّارُ -". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں اپنے غلام کو مار رہا تھا اسی دوران میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی: ”ابومسعود! جان لو، اللہ تم پر اس سے کہیں زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس پر قدرت رکھتے ہو۔“ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہے۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”سن لو! اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں جہنم کی آگ جلاتی“ یا (فرمایا): ”تمہیں آگ چھوتی۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3353]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1659/35)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يُمْكِنُ لِلْأَبِ التَّصَرُّفُ فِي مَالِ أَوْلَادِهِ)
اولاد کے مال پر باپ بھی تصرف کر سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3354
الْفَصْلُ الثَّانِي 3354 - عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ لِي مَالًا، وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ إِلَى مَالِي. قَالَ:"أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ  ، إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، كُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: میرے پاس مال ہے، اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارا مال تمہارے والد کا ہے، کیونکہ تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے، تم اپنی اولاد کی کمائی کھاؤ۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3354]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (3530) و ابن ماجه (2292)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يُمْكِنُ لِلْمُتَوَلِّي أَنْ يَأْكُلَ مِنْ مَالِ الْيَتِيمِ بِحَسَبِ الْحَاجَةِ)
متولی یتیم کے مال سے ضرورت کے مطابق کھا سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3355
3355 - وَعَنْهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي فَقِيرٌ لَيْسَ لِي شَيْءٌ، وَلِي يَتِيمٌ، فَقَالَ:"كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَادِرٍ وَلَا مُتَأَثِّلٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: میں فقیر آدمی ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں، اور میری زیر نگرانی ایک یتیم ہے۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”یتیم کے مال سے اس طرح کھاؤ کہ اس میں اسراف نہ ہو، نہ جلد بازی ہو (کہ یتیم کے بڑا ہونے سے پہلے وہ مال ختم ہو جائے) اور نہ اس سے جائیداد بنانی چاہیے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد والنسائی وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3355]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2872) و النسائي (256/6 ح 3698) و ابن ماجه (2718)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (التَّرْغِيبُ فِي أَدَاءِ حَقِّ الْمَتَابِعِينَ)
ماتحتوں کا حق ادا کرنے کی ترغیب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3356
3356 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ: الصَّلَاةَ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے مرض الموت میں فرما رہے تھے: «الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ» ”نماز اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا۔“ سند ضعیف ہے، اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3356]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (8553، نسخة محققة: 8193 و في دلائل النبوة 205/7) [و ابن ماجه (1625) ]
٭ قتادة عنعن و انظر الحديث الآتي (3357)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (التَّرْغِيبُ فِي أَدَاءِ حَقِّ الْمَتَابِعِينَ، بِرِوَايَةِ أَحْمَدَ وَأَبِي دَاوُدَ)
ماتحتوں کا حق ادا کرنے کی ترغیب، بروایت احمد و ابوداؤد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3357
3357 - وَرَوَى أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَهُ.
امام احمد اور ابوداؤد نے علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ «سَنَدُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ» ”اس کی سند حسن ہے، اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3357]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (290/6 ح 27016) و أبو داود (5156) [و ابن ماجه (2698) ]
٭ مغيرة بن مقسم مدلس و عنعن و فيه علة أخري و للحديث شواھد ضعيفة .
تعديلات [3357] :
سنده حسن، رواه أحمد (290/6 ح 27016) و أبو داود (5156) [و ابن ماجه (2698) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ مَنْ يُسِيءُ مُعَامَلَةَ الْعَبْدِ)
غلام سے بدسلوکی کرنے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3358
3358 - وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”غلاموں کے ساتھ بُرا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3358]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1946 و قال: غريب) و ابن ماجه (3691)
٭ فرقد السبخي: ضعيف مشھور .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ الْإِحْسَانِ وَسُوءِ الْمُعَامَلَةِ مَعَ الْعَبْدِ)
غلام کے ساتھ بھلائی اور بدسلوکی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3359
3359 - وَعَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: حُسْنُ الْمَلَكَةِ يُمْنٌ، وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَلَمْ أَرَ فِي غَيْرِ الْمَصَابِيحِ مَا زَادَ عَلَيْهِ فِيهِ مِنْ قَوْلِهِ: وَالصَّدَقَةُ تَمْنَعُ السُّوءَ، وَالْبِرُّ زِيَادَةٌ فِي الْعُمُرِ.
رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”(غلاموں، رعایا سے) اچھا سلوک کرنے والا باعثِ برکت ہے جبکہ بُرے اخلاق والا باعثِ نحوست ہے۔“ اور میں (صاحبِ مشکوٰۃ) نے «مصابیح» کے علاوہ کسی اور نسخے میں یہ اضافہ نہیں دیکھا جو صاحبِ مصابیح نے نقل کیا ہے: ”صدقہ بُری موت سے بچاتا ہے اور نیکی عمر میں اضافے کا باعث ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3359]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (5162)
٭ عثمان بن زفر الدمشقي مجھول لم يوثقه غير ابن حبان .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں