مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (عِدَّةُ الأَرْمَلَةِ)
بیوہ کی عدت
حدیث نمبر: 3330
3330 - وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وَزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ام حبیبہ اور زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن کے سوگ کے علاوہ کسی اور میت پر تین دن سے زائد سوگ کرے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3330]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5334. 5335) و مسلم (1486/58)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (أَحْكَامُ وَمَسَائِلُ الْعِدَّةِ)
عدت کے احکام و مسائل
حدیث نمبر: 3331
3331 - وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَلْمِسُ طِيبًا، إِلَّا إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ:"لَا تَخْتَضِبُ".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ نہ کرے، البتہ خاوند پر چار ماہ دس دن کا سوگ کرے، اور وہ یمنی لکیر دار چادر کے سوا رنگے ہوئے کپڑے بھی نہ پہنے، نہ سرمہ ڈالے اور نہ خوشبو لگائے، البتہ جب وہ حیض سے پاک ہو جائے تو پھر «قُسْطٍ» ”قُسط“ یا «أَظْفَارٍ» ”اظفار“ کی معمولی سی خوشبو لگا لے۔“ بخاری، مسلم۔ اور ابو داود نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ”وہ مہندی نہ لگائے۔“ متفق علیہ، رواہ ابو داود۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3331]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5342) و مسلم (938/66) و أبو داود (2302)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (عَلَى الأَرْمَلَةِ قَضَاءُ عِدَّتِهَا فِي مَنْزِلِ زَوْجِهَا)
بیوہ اپنی عدت خاوند کے مکان میں پوری کرے
حدیث نمبر: 3332
الْفَصْلُ الثَّانِي 3332 - عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ - وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا فَقَتَلُوهُ. قَالَتْ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَنْزِلٍ يَمْلِكُهُ وَلَا نَفَقَةٍ. فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"نَعَمْ". فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، دَعَانِي، فَقَالَ:"امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ"قَالَتْ: فَأَعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا. رَوَاهُ مَالِكٌ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارِمِيُّ.
زینب بنت کعب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن فُریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ وہ اپنے قبیلے بنو خدرہ میں اپنے گھر چلی جائیں، کیونکہ ان کا شوہر اپنے مفرور غلاموں کی تلاش میں نکلا تھا جسے ان غلاموں نے قتل کر دیا تھا، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں کیونکہ میرے شوہر نے نہ تو اپنا ذاتی گھر چھوڑا ہے اور نہ نفقہ، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں واپس مڑی، حتیٰ کہ جب حجرے میں تھی یا مسجد میں تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”اپنے گھر میں رہو حتیٰ کہ عدت پوری ہو جائے۔“ وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے وہاں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ اسنادہ صحیح، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3332]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه مالک (591/2 ح 1290) والترمذي (1204 وقال: حسن صحيح) و أبو داود (2300) والنسائي (199/6. 200 ح 3558. 3560) و ابن ماجه (2031) والدارمي (2/ 168 ح 2292) [وأخطأ من ضعفه] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (ذِكْرُ أَيَّامِ عِدَّةِ السَّيِّدَةِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے عدت کے دنوں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 3333
3333 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَيَّ صَبِرًا. قَالَ:"مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟) : قُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ صَبِرٌ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ. فَقَالَ:"إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ، وَتَنْزِعِيهِ بِالنَّهَارِ، وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ خِضَابٌ". قُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ أَمْتَشِطُ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:"بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِهِ رَأْسَكِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ایلوے کا عرق لگایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ تو ایلوے کا عرق ہے! اس میں کوئی خوشبو نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چہرے کو چمکا دیتا ہے، اسے رات کے وقت لگا لیا کرو اور دن کے وقت صاف کر دیا کرو، خوشبو لگا کر کنگھی بھی نہ کرو اور نہ مہندی لگا کر کنگھی کرو، کیونکہ وہ خضاب ہے۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس چیز کے ساتھ کنگھی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیری (کے پتوں) کے ساتھ، تم اپنے سر پر ان کا لیپ کر لیا کرو۔“ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ» ”اس کی سند ضعیف ہے“، اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3333]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (2305) والنسائي (204/6 ح 3567)
٭ أم حکيم: لا يعرف حالھا و المغيرة بن الضحاک: مستور.»
٭ أم حکيم: لا يعرف حالھا و المغيرة بن الضحاک: مستور.»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (كَيْفَ تَقْضِي الأَرْمَلَةُ عِدَّتَهَا؟)
بیوہ اپنی عدت کیسے گزارے؟
حدیث نمبر: 3334
3334 - وَعَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ، وَلَا الْمُمَشَّقَةَ، وَلَا الْحُلِيَّ، وَلَا تَخْتَضِبُ، وَلَا تَكْتَحِلُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے تو وہ نہ تو زرد رنگ کے کپڑے پہنے اور نہ سرخ رنگ کے، اور نہ وہ زیور پہنے، نہ خضاب لگائے اور نہ ہی سرمہ لگائے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3334]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2304) و النسائي (203/6 ح 3565)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (فَتْوَى السَّيِّدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِشَأْنِ الْعِدَّةِ)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا عدت سے متعلق فتویٰ
حدیث نمبر: 3335
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3335 - عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَنَّ الْأَحْوَصَ هَلَكَ بِالشَّامِ حِينَ دَخَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ، وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ. فَكَتَبَ إِلَيْهِ زِيدٌ: إِنَّهَا إِذَا دَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا، وَلَا تَرِثُهُ . رَوَاهُ مَالِكٌ.
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ احوص نے شام میں اس وقت وفات پائی جب اس کی بیوی کو (طلاق کے بعد) تیسرا حیض شروع ہو چکا تھا، وہ اسے طلاق دے چکا تھا، معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے اس بارے میں مسئلہ دریافت کرنے کے لیے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا تو زید رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا کہ وہ تیسرے حیض میں داخل ہو چکی ہے، وہ (عورت) اس سے بری الذمہ ہے اور وہ اس سے بری الذمہ ہے، وہ اس کا وارث نہیں اور یہ اس کی وارث نہیں۔ «إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ، رَوَاهُ مَالِكٌ» ”اس کی سند صحیح ہے، اسے مالک نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3335]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه مالک (577/2 ح 1256)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (قَوْلُ السَّيِّدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي شَأْنِ الْعِدَّةِ)
عدت کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول
حدیث نمبر: 3336
3336 - وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَيُّمَا امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ فَحَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ، ثُمَّ رُفِعَتْهَا حَيْضَتُهَا ; فَإِنَّهَا تَنْظُرُ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ ، فَإِنْ بَانَ بِهَا حَمْلٌ فَذَلِكَ، وَإِلَّا اعْتَدَّتْ بَعْدَ التِّسْعَةِ الْأَشْهَرِ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ حَلَّتْ. رَوَاهُ مَالِكٌ.
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس عورت کو طلاق دی گئی اور اسے ایک یا دو حیض آ گئے اور پھر اس کا حیض موقوف ہو گیا تو وہ نو ماہ انتظار کرے گی، اگر اس کا حمل ظاہر ہو گیا تو پھر یہی (وضع حمل) ہے ورنہ وہ نو ماہ کے بعد تین ماہ عدت گزارے گی اور پھر حلال ہو جائے گی (اور وہ دوسری جگہ نکاح کر سکے گی)۔ صحیح، رواہ مالک رحمہ اللہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3336]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه مالک (582/2 ح 1270)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَسْأَلَةُ أَمَةٍ حَامِلٍ)
ایک حاملہ لونڈی کا معاملہ
حدیث نمبر: 3337
(16) بَابُ الِاسْتِبْرَاءِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3337 - عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ، فَسَأَلَ عَنْهَا، فَقَالُوا: أَمَةٌ لِفُلَانٍ. قَالَ:"أَيُلِمُّ بِهَا؟"قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ، كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟ أَمْ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ ؟". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو بچہ جننے کے قریب تھی، تو آپ نے اس کے متعلق سوال کیا، انہوں نے بتایا کہ یہ فلاں شخص کی لونڈی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ اس سے جماع کرتا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر تک اس کے ساتھ جائے، وہ اس سے کیسے خدمت کا تقاضا کر سکتا ہے جبکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں، یا وہ اسے کیسے وارث بنا سکتا ہے جبکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3337]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1441/139)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَنْعُ الْجِمَاعِ مَعَ أَمَةٍ حَامِلٍ قَبْلَ وِلَادَتِهَا)
حاملہ لونڈی کے بچّہ پیدا ہونے سے پہلے جماع کرنا منع ہے
حدیث نمبر: 3338
الْفَصْلُ الثَّانِي 3338 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسٍ:"لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالدَّارِمِيُّ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ اوطاس میں حاصل ہونے والی لونڈیوں کے بارے میں فرمایا: ”وضع حمل سے پہلے حاملہ (لونڈی) سے جماع نہ کیا جائے اور جو حاملہ نہیں اس سے بھی جماع نہ کیا جائے حتی کہ اسے ایک حیض آ جائے۔“ سندہ ضعیف، رواہ احمد و ابوداؤد و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3338]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (62/3 ح 11618) و أبو داود (2157) والدارمي (171/2 ح 2300)
٭ شريک القاضي عنعن و حديث أبي داود الطيالسي (1687) يغني عنه .»
٭ شريک القاضي عنعن و حديث أبي داود الطيالسي (1687) يغني عنه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (لَا يَجُوزُ الْجِمَاعُ مَعَ أَمَةٍ حَامِلٍ قَبْلَ وِلَادَتِهَا)
حاملہ لونڈی کے بچّہ پیدا ہونے سے پہلے جماع جائز نہیں
حدیث نمبر: 3339
3339 - وَعَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ:"لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ - يَعْنِي إِتْيَانَ الْحُبَالَى - وَلَا يَحُلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَى يُقَسَّمَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ إِلَى قَوْلِهِ:"زَرْعَ غَيْرِهِ".
رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے روز فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنا پانی کسی اور کی کھیتی کو دے، یعنی حاملہ سے جماع کرے، جو شخص اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی لونڈی سے جماع کرے حتی کہ اس کا رحم خالی ہو جائے، اور جو شخص اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ مالِ غنیمت کو اس کی تقسیم سے پہلے فروخت کرے۔“ ابوداود۔ اور امام ترمذی نے اسے «زَرْعَ غَيْرِهِ» تک روایت کیا ہے۔ اس کی سند حسن ہے، اسے ابوداود اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3339]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2158) و الترمذي (1131 وقال: غريب)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن