🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَيَانُ الأَمَةِ الَّتِي لَا تَحِيضُ)
جس لونڈٰی کو حیض نہیں آتا اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3340
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3340 - عَنْ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُ بِاسْتِبْرَاءِ الْإِمَاءِ  بِحَيْضَةٍ إِنْ كَانَتْ مِمَّنْ تَحِيضُ، وَثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ إِنْ كَانَتْ مِمَّنْ لَا تَحِيضُ، وَيَنْهَى عَنْ سَقْيِ مَاءِ الْغَيْرِ.
امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ”ان لونڈیوں کو جنہیں حیض آتا تھا ایک حیض کے ذریعے اور جنہیں حیض نہیں آتا تھا تین ماہ کے ذریعے استبرائے رحم کا حکم فرمایا کرتے تھے“ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ”کسی غیر کی کھیتی کو پانی دینے سے منع فرمایا کرتے تھے۔“ لم اجدہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3340]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لم أجده،
فائدة: کل حديث، قلت فيه: لم أجده، فھو ضعيف باطل مردود، إلا أن يثبت بسند آخر أو صرحت بخلافه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:لم أجده

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ الأَمَةِ الَّتِي يُجَامِعُهَا)
جس لونڈٰی سے جماع کیا جاتا ہو اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3341
3341 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -: أَنَّهُ قَالَ: إِذَا وُهِبَتِ الْوَلِيدَةُ الَّتِي تُوطَأُ، أَوْ بِيعَتْ، أَوْ أُعْتِقَتْ فَلْتَسْتَبْرِئْ رَحِمَهَا بِحَيْضَةٍ  وَلَا تُسْتَبْرَئُ الْعَذْرَاءُ. رَوَاهُمَا رَزِينٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”جب ایسی لونڈی، جس سے جماع کیا جاتا ہو، ہبہ کی جائے یا بیع کی جائے یا آزاد کی جائے، تو وہ ایک حیض کے ذریعے اپنے رحم کے خالی ہونے کا یقین کر لے، اور کنواری سے استبرائے رحم کا نہیں کہا جائے گا“۔ دونوں روایتیں رزین نے روایت کی ہیں۔ صحیح، رزین (لم اجدہ) [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3341]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رزين (لم أجده)
٭ وعلقه البخاري (قبل ح 2235، البيوع باب: 111) وانظر تغليق التعليق (272/3. 273) و تنقيح الرواة (51/2)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِلَى أَيِّ حَدٍّ يُمْكِنُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُنْفِقَ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا؟)
عورت اپنے شوہر کے مال سے کس حد تک خرچ کر سکتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3342
3342 - عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلَيْسَ يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي، إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ وَهُوَ يَعْلَمُ، فَقَالَ: «خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ»
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ہندہ بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ابوسفیان رضی اللہ عنہ ایک بخیل آدمی ہے، وہ مجھے اس قدر نہیں دیتا جو میرے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو، مگر میں اس سے اس طرح لے لیتی ہوں کہ اسے پتہ نہیں ہوتا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس قدر لے لیا کرو جو دستور کے مطابق تیرے اور تیری اولاد کے لیے کافی ہو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3342]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5364) و مسلم (1714/7)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَلَى مَاذَا تُنْفِقُ الْمَالَ؟)
مال کی پر خرچ کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3343
3343 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدَكُمْ خَيْرًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تم میں سے کسی کو مال عطا کرے تو اسے چاہیے کہ وہ پہلے اپنی ذات اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3343]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1822/10)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَقُّ الْعَبْدِ عَلَى مَالِكِهِ الطَّعَامُ وَالْكِسْوَةُ)
مالک پر غلام کا حق روٹی کپڑا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3344
3344 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ، وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا يُطِيقُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مملوک کا کھانا اور لباس (دستور کے مطابق مالک پر واجب) ہے اور اس سے کام صرف اس کی طاقت کے مطابق ہی لیا جائے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3344]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1662/41)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُسْنُ مُعَامَلَةِ الْعَبِيدِ وَالْمَتَابِعِينَ)
غلاموں اور ماتحتوں سے حسن سلوک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3345
3345 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ  ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا يُكَلِّفْهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”(غلام) تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے انہیں تمہارے زیرِ تصرف کر دیا ہے، اللہ جس کے بھائی کو اس کے زیرِ تصرف کر دے تو وہ اسے ویسا ہی کھلائے جیسا خود کھائے اور ویسا ہی پہنائے جیسا خود پہنے اور اس سے کوئی ایسا کام نہ لے جو اس کی طاقت سے زیادہ ہو، اور اگر وہ اس کے ذمے کوئی ایسا کام لگا دے جو اس کی طاقت سے بڑھ کر ہو تو پھر وہ اس میں اس کی اعانت کرے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3345]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6050) و مسلم (1661/38»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْعِنَايَةُ بِطَعَامِ وَشَرَابِ الْمَتَابِعِينَ)
ماتحتوں کے کھانے پینے کا خیال رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3346
3346 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ فَقَالَ لَهُ: أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: كَفَى بِالرَّجُلِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ". وَفِي رِوَايَةٍ:"كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ان کا منشی ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے فرمایا: کیا تم نے غلاموں کو ان کے کھانے کا سامان دے دیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے فرمایا: جاؤ اور انہیں (کھانے کا سامان) دو، کیونکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بندے کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ وہ اپنے مملوک کے کھانے کا سامان روک لے۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”آدمی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ جن کی خوراک اس کے ذمے ہے وہ اس کی روزی ضائع کر دے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3346]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (م996/4)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مِنَ الأَفْضَلِ أَنْ يُطْعِمَ صَانِعُ الطَّعَامِ مَعَ الآخَرِينَ)
کھانا بنانے والے کو بھی ساتھ کھلانا بہتر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3347
3347 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ فَلْيَأْكُلْ  ، فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارا خادم تمہارے لیے کھانا تیار کر کے لائے تو وہ (مالک) اسے اپنے ساتھ بٹھائے تاکہ وہ کھائے، کیونکہ اس نے آگ کی حرارت اور دھواں برداشت کیا ہے، اگر کھانا، کھانے والوں کے حساب سے کم ہو تو وہ اس میں ایک یا دو لقمے اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3347]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1663/42)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بُشْرَى لِلْعَبِيدِ)
غلاموں کے لیے خوش خبری
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3348
3348 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب غلام اپنے آقا کے لیے مخلص و خیر خواہ ہو اور وہ اللہ کی عبادت بھی احسن انداز میں کرتا ہو تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3348]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2546) و مسلم (1664/43)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (صِفَاتُ الْعَبْدِ الصَّالِحِ)
ایک اچھے غلام کی خوبیاں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3349
3349 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ بِحُسْنِ عِبَادَةِ رَبِّهِ  وَطَاعَةِ سَيِّدِهِ نِعِمَّا لَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مملوک کے لیے کیا خوب ہے کہ اللہ اسے اس حال میں فوت کرے کہ وہ اپنے رب کی عبادت بھی اچھے انداز میں کرتا ہو اور اپنے آقا کی اطاعت بھی اچھے انداز میں کرتا ہو، کیا خوب ہے اس کے لیے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3349]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2549) و مسلم (1667/46)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں