صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ يُقَاتِلُونَ» . وَهُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”میری امت کی ایک جماعت حق پر غالب رہے گی اور جنگ کرتی رہے گی“ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس گروہ سے دین کے عالموں کا گروہ مراد ہے۔
حدیث نمبر: 7311
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ".
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے، ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا (اس میں علمی و دینی غلبہ بھی داخل ہے) یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ غالب ہی رہیں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7311]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی، وہ غالب ہی رہیں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7311]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7312
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَخْطُبُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ وَلَنْ يَزَالَ أَمْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مُسْتَقِيمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، أَوْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے انہیں حمید نے خبر دی، کہا کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے اور اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7312]
حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں، عطا اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے یا اللہ کا امر آ پہنچے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7312]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
11. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الانعام میں) یوں فرمانا ”یا وہ تمہارے کئی فرقے کر دے“۔
حدیث نمبر: 7313
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" لَمَّا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ سورة الأنعام آية 65، قَالَ: أَعُوذُ بِوَجْهِكَ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ، قَالَ: أَعُوذُ بِوَجْهِكَ، فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ سورة الأنعام آية 65، قَالَ: هَاتَانِ أَهْوَنُ أَوْ أَيْسَرُ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم» کہ ”کہو کہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیجے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں تیرے با عظمت و بزرگ منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ «أو من تحت أرجلكم» ”یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے“ (عذاب بھیجے) تو اس پر پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں تیرے مبارک منہ کی پناہ مانگتا ہوں، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی «أو يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض» کہ ”یا تمہیں فرقوں میں تقسیم کر دے اور تم میں سے بعض کو بعض کا خوف چکھائے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں آسان و سہل ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7313]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب یہ آیت ﴿قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ﴾ [سورة الأنعام: 65] ”کہہ دیجیے وہی قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے“ نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے باعظمت چہرے کی پناہ میں آتا ہوں۔“ یا ﴿أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ﴾ [سورة الأنعام: 65] ”یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے (عذاب آجائے)“ تو اس مرتبہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے مبارک چہرے کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر جب یہ الفاظ ﴿أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ﴾ [سورة الأنعام: 65] ”یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر دے اور تمہارے بعض کو بعض کی لڑائی (کا مزہ) چکھائے“ نازل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هَذَا أَهْوَنُ أَوْ أَيْسَرُ» ”یہ دونوں آسان اور سہل ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7313]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
12. بَابُ مَنْ شَبَّهَ أَصْلاً مَعْلُومًا بِأَصْلٍ مُبَيَّنٍ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ حُكْمَهُمَا، لِيُفْهِمَ السَّائِلَ:
باب: ایک امر معلوم کو دوسرے امر واضح سے تشبیہ دینا جس کا حکم اللہ نے بیان کر دیا ہے تاکہ پوچھنے والا سمجھ جائے۔
حدیث نمبر: 7314
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا؟، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟، قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: فَأَنَّى تُرَى ذَلِكَ جَاءَهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِرْقٌ نَزَعَهَا، قَالَ: وَلَعَلَّ هَذَا عِرْقٌ نَزَعَهُ وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ".
ہم سے اصبغ بن الفرج نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میری بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوا ہے جس کو میں اپنا نہیں سمجھتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہیں۔ دریافت کیا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ کہا کہ سرخ ہیں۔ پوچھا کہ ان میں کوئی خاکی بھی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ان میں خاکی بھی ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ پھر کس طرح تم سمجھتے ہو کہ اس رنگ کا پیدا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ممکن ہے اس بچے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بچے کے انکار کرنے کی اجازت نہیں دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7314]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ”میری بیوی کے ہاں سیاہ لڑکا پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا انکار کر دیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ نے پوچھا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: ”وہ سرخ رنگ کے ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی بھورے رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، ان میں بھورے رنگ کے بھی ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے وہ رنگ کدھر سے آیا ہے؟“ اس نے کہا: ”اللہ کے رسول! کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہوگا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ممکن ہے اس (بچے) کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کے انکار کی اجازت نہیں دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7314]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7315
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ، أَفَأَحُجَّ عَنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا، أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: اقْضُوا اللَّهَ الَّذِي لَهُ فَإِنَّ اللَّهَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی اور وہ (ادائیگی سے پہلے ہی) وفات پا گئیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے حج کر لو۔ تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو تم اسے پورا کرتیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس قرض کو بھی پورا کر جو اللہ تعالیٰ کا ہے کیونکہ اس قرض کا پورا کرنا زیادہ ضروری ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7315]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: ”میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی لیکن وہ ادائیگی سے پہلے ہی فوت ہوگئی ہیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تم ان کی طرف سے حج کر لو، تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس قرض کو بھی ادا کرو جو اللہ تعالیٰ کا ہے، بلاشبہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7315]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي اجْتِهَادِ الْقُضَاةِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:
باب: قاضیوں کو کوشش کر کے اللہ کی کتاب کے موافق حکم دینا چائیے۔
حدیث نمبر: Q7316
لِقَوْلِهِ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ}. وَمَدَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الْحِكْمَةِ حِينَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا، لاَ يَتَكَلَّفُ مِنْ قِبَلِهِ، وَمُشَاوَرَةِ الْخُلَفَاءِ وَسُؤَالِهِمْ أَهْلَ الْعِلْمِ.
اللہ پاک نے فرمایا «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الظالمون» جو لوگ اللہ کے اتارے موافق فیصلہ نہ کریں وہی لوگ ظالم ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علم والے کی تعریف کی جو علم (قرآن و حدیث) کے موافق فیصلہ کرتا ہے اور لوگوں کو قرآن و حدیث سکھلاتا ہے اور اپنی طرف سے کوئی بات نہیں بتاتا۔ اس بات میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ خلفاء نے اہل علم سے مشورے لیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: Q7316]
حدیث نمبر: 7316
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَآخَرُ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا".
ہم سے شہاب بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن حمید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رشک دو ہی آدمیوں پر ہو سکتا ہے، ایک وہ جیسے اللہ نے مال دیا اور اسے (مال کو) راہ حق میں لٹانے کی پوری طرح توفیق ملی ہوتی ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی ہے اور اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7316]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قابل رشک تو دو ہی آدمی ہیں: ایک وہ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے راہ حق میں لٹانے کی توفیق بھی دی اور دوسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت دی ہو، پھر وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7316]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7317
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: سَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ هِيَ الَّتِي يُضْرَبُ بَطْنُهَا فَتُلْقِي جَنِينًا؟، فَقَالَ: أَيُّكُمْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا؟، فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ: مَا هُوَ؟، قُلْتُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِيهِ:" غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، فَقَالَ: لَا تَبْرَحْ حَتَّى تَجِيئَنِي بِالْمَخْرَجِ فِيمَا قُلْتَ.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے متعلق (صحابہ سے) پوچھا۔ یہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے پیٹ پر مار دیا گیا (جبکہ وہ حاملہ ہو) ہو اور اس کا ناتمام (ادھورا) بچہ گر گیا ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ لوگوں میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے سنی ہے۔ پوچھا کیا حدیث ہے؟ میں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایسی صورت میں ایک غلام یا باندی تاوان کے طور پر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اب چھوٹ نہیں سکتے یہاں تک کہ تم نے جو حدیث بیان کی ہے اس سلسلے میں نجات کا کوئی ذریعہ (یعنی کوئی شہادت کہ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث فرمائی تھی) لاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7317]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے «الْإِمْلَاصِ» (اس سے مراد وہ عورت ہے جس کے پیٹ پر چوٹ لگا کر اس کا ناتمام بچہ ضائع کر دیا جائے) کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا: ”کیا آپ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کوئی حدیث سنی ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ انہوں نے پوچھا: ”بتاؤ تم نے کیا سنا ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ میں نے کہا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”ایسی صورت میں ایک غلام یا لونڈی بطور تاوان دینی ہوگی۔““ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہاری خلاصی نہیں ہوگی جب تک اس حدیث پر کوئی گواہ پیش نہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7317]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7318
فَخَرَجْتُ فَوَجَدْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ، فَجِئْتُ بِهِ، فَشَهِدَ مَعِي، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِ: غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ"، تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ.
پھر میں نکلا تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مل گئے اور میں انہیں لایا اور انہوں نے میرے ساتھ گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اس میں ایک غلام یا باندی کی تاوان ہے۔ ہشام بن عروہ کے ساتھ اس حدیث کو ابن ابی الزناد نے بھی اپنے باپ سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے مغیرہ سے روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7318]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں باہر نکلا تو حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مل گئے۔ انہوں نے میرے ساتھ گواہی دی کہ انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اس کی دیت لونڈی یا غلام ہے۔“ ابن زناد نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عروہ سے، انہوں نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرنے میں ہشام بن عروہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7318]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
14. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اے مسلمانو! تم اگلے لوگوں کی چال پر چلو گے“۔
حدیث نمبر: 7319
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي بِأَخْذِ الْقُرُونِ قَبْلَهَا شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَفَارِسَ، وَالرُّومِ، فَقَالَ: وَمَنِ النَّاسُ إِلَّا أُولَئِكَ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت اس طرح پچھلی امتوں کے مطابق نہیں ہو جائے گی جیسے بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔“ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! اگلی امتوں سے کون مراد ہیں، پارسی اور نصرانی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر اور کون۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7319]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک میری امت بھی پہلی امتوں کی چال پر نہ چلے گی، بالشت کے ساتھ بالشت اور ہاتھ کے برابر ہاتھ کی پیروی کرے گی۔“ عرض کیا گیا: ”اللہ کے رسول! پہلی امتوں سے کون مراد ہیں؟ پارسی اور رومی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے علاوہ اور کون ہو سکتے ہیں؟“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7319]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة