صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب ما جاء فى اجتهاد القضاة بما أنزل الله تعالى:
باب: قاضیوں کو کوشش کر کے اللہ کی کتاب کے موافق حکم دینا چائیے۔
حدیث نمبر: 7318
فَخَرَجْتُ فَوَجَدْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ، فَجِئْتُ بِهِ، فَشَهِدَ مَعِي، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِ: غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ"، تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ.
پھر میں نکلا تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مل گئے اور میں انہیں لایا اور انہوں نے میرے ساتھ گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اس میں ایک غلام یا باندی کی تاوان ہے۔ ہشام بن عروہ کے ساتھ اس حدیث کو ابن ابی الزناد نے بھی اپنے باپ سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے مغیرہ سے روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7318]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں باہر نکلا تو حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مل گئے۔ انہوں نے میرے ساتھ گواہی دی کہ انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اس کی دیت لونڈی یا غلام ہے۔“ ابن زناد نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عروہ سے، انہوں نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرنے میں ہشام بن عروہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7318]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥المغيرة بن شعبة الثقفي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عيسى | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← المغيرة بن شعبة الثقفي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن ذكوان القرشي ← عروة بن الزبير الأسدي | إمام ثقة ثبت | |
👤←👥عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي، أبو محمد عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي ← عبد الله بن ذكوان القرشي | وكان فقيها، صدوق تغير حفظه لما قدم بغداد | |
👤←👥محمد بن مسلمة الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن محمد بن مسلمة الأنصاري ← عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي | صحابي |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7318 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7318
حدیث حاشیہ:
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ وقت تھے مگر انہوں نے دوسرے صحابہ سے یہ مسئلہ پوچھا۔
اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو صرف مغیرہ رضی اللہ عنہ کا بیان قبول نہ کیا تو خبر واحد کیوں کر حجت ہوگی وہ حجت ہے جیسے اوپر گزر چکا ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مزید احتیاط اور مضبوطی کے لیے دوسری گواہی طلب کی نہ کہ اس لیے کہ خبر واحد ان کے پاس حجت نہ تھی کیونکہ محمد بن مسلمہ کی شہادت کے بعد بھی یہ خبر واحد ہی رہی۔
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ وقت تھے مگر انہوں نے دوسرے صحابہ سے یہ مسئلہ پوچھا۔
اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو صرف مغیرہ رضی اللہ عنہ کا بیان قبول نہ کیا تو خبر واحد کیوں کر حجت ہوگی وہ حجت ہے جیسے اوپر گزر چکا ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مزید احتیاط اور مضبوطی کے لیے دوسری گواہی طلب کی نہ کہ اس لیے کہ خبر واحد ان کے پاس حجت نہ تھی کیونکہ محمد بن مسلمہ کی شہادت کے بعد بھی یہ خبر واحد ہی رہی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7318]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7318
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ راشد تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں محدث اور ملہم بھی قراردیا تھا، اس کے باوجود انھوں نے فیصلے کرتے ہوئے علماء سے مشورہ کیا، چنانچہ انھوں نے ایک مقدمے میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ لیا کہ تم نے کوئی حدیث اس کے متعلق سنی ہے؟ انھوں نے مزید احتیاط کے پیش نظر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیان کی ہوئی حدیث پر گواہی طلب کی۔
بہرحال حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں خبر واحد حجت تھی۔
2۔
اس سے بھی یہ معلوم ہوا کہ قاضی حضرات کو مقدمات کا فیصلہ کرتے ہوئے انتہائی دوراندیشی اور احتیاط کی ضرورت ہے، انھیں چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ پوری چھان بین کرنے کے بعد کتاب وسنت کے مطابق فیصلے کریں۔
واللہ المستعان۔
1۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ راشد تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں محدث اور ملہم بھی قراردیا تھا، اس کے باوجود انھوں نے فیصلے کرتے ہوئے علماء سے مشورہ کیا، چنانچہ انھوں نے ایک مقدمے میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ لیا کہ تم نے کوئی حدیث اس کے متعلق سنی ہے؟ انھوں نے مزید احتیاط کے پیش نظر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیان کی ہوئی حدیث پر گواہی طلب کی۔
بہرحال حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں خبر واحد حجت تھی۔
2۔
اس سے بھی یہ معلوم ہوا کہ قاضی حضرات کو مقدمات کا فیصلہ کرتے ہوئے انتہائی دوراندیشی اور احتیاط کی ضرورت ہے، انھیں چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ پوری چھان بین کرنے کے بعد کتاب وسنت کے مطابق فیصلے کریں۔
واللہ المستعان۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7318]
Sahih Bukhari Hadith 7318 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← المغيرة بن شعبة الثقفي