صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب ما جاء فى اجتهاد القضاة بما أنزل الله تعالى:
باب: قاضیوں کو کوشش کر کے اللہ کی کتاب کے موافق حکم دینا چائیے۔
حدیث نمبر: 7317
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: سَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ هِيَ الَّتِي يُضْرَبُ بَطْنُهَا فَتُلْقِي جَنِينًا؟، فَقَالَ: أَيُّكُمْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا؟، فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ: مَا هُوَ؟، قُلْتُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِيهِ:" غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، فَقَالَ: لَا تَبْرَحْ حَتَّى تَجِيئَنِي بِالْمَخْرَجِ فِيمَا قُلْتَ.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے متعلق (صحابہ سے) پوچھا۔ یہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے پیٹ پر مار دیا گیا (جبکہ وہ حاملہ ہو) ہو اور اس کا ناتمام (ادھورا) بچہ گر گیا ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ لوگوں میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے سنی ہے۔ پوچھا کیا حدیث ہے؟ میں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایسی صورت میں ایک غلام یا باندی تاوان کے طور پر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اب چھوٹ نہیں سکتے یہاں تک کہ تم نے جو حدیث بیان کی ہے اس سلسلے میں نجات کا کوئی ذریعہ (یعنی کوئی شہادت کہ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث فرمائی تھی) لاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7317]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے «الْإِمْلَاصِ» (اس سے مراد وہ عورت ہے جس کے پیٹ پر چوٹ لگا کر اس کا ناتمام بچہ ضائع کر دیا جائے) کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا: ”کیا آپ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کوئی حدیث سنی ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ انہوں نے پوچھا: ”بتاؤ تم نے کیا سنا ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ میں نے کہا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”ایسی صورت میں ایک غلام یا لونڈی بطور تاوان دینی ہوگی۔““ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہاری خلاصی نہیں ہوگی جب تک اس حدیث پر کوئی گواہ پیش نہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7317]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
0
| الغرة عبد أو أمة |
صحيح البخاري |
6907
| قضى فيه بغرة عبد أو أمة |
صحيح البخاري |
7317
| فيه غرة عبد أو أمة |
Sahih Bukhari Hadith 7317 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← المغيرة بن شعبة الثقفي