🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: ضَعُوا الْحِجَامَةَ)
فرشتوں نے کہا: کہ سینگی لگواؤ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4544
4544 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِهِ: أَنَّهُ لَمْ يَمُرَّ عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا أَمَرُوهُ:"مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شبِ معراج کے متعلق حدیث بیان فرمائی کہ وہ فرشتوں کی جس بھی جماعت کے پاس سے گزرے تو وہ یہی کہتے کہ: اپنی امت کو پچھنے لگوانے کا حکم فرمائیں۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (سندہ ضعیف، رواہ الترمذی وابن ماجہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4544]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2052) و ابن ماجه (3479 بسند آخر عن أنس رضي الله عنه، فيه جبارة و کثير بن سليم مجروحان)
٭ عبد الرحمٰن بن إسحاق الکوفي الواسطي ضعيف و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ اسْتِخْدَامِ الضِّفْدَعِ لِلْعِلَاجِ)
علاج کے لئے مینڈک کا استعمال منع کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4545
4545 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ: إِنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ  ، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبد الرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مینڈک کو دوائی میں ڈالنے کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اس کے قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ «إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ» اس کی سند صحیح ہے، «رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ» اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4545]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (3871)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَوَارِيخُ مُعَيَّنَةٌ لِلْحِجَامَةِ)
سینگی کی خاص تاریخیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4546
4546 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ؟ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ. وَكَانَ يَحْتَجِمُ لِسَبْعَ عَشْرَةَ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ، وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گردن کی دونوں رگوں اور کندھوں کے درمیان پچھنے لگوایا کرتے تھے۔ ابوداؤد، امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (چاند کی) سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگوایا کرتے تھے۔ اس کی سند ضعیف ہے، اسے ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4546]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3860) و الترمذي (2051 وقال: حسن غريب) و ابن ماجه (3483)
٭ قتادة عنعن .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَضْعُ الْحِجَامَةِ فِي إِحْدَى هَذِهِ التَّوَارِيخِ الثَّلَاثَةِ)
ان تین تاریخوں میں سے ایک میں سینگی لگوانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4547
4547 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَسْتَحِبُّ الْحِجَامَةَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ  . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (چاند کی) سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگانا پسند فرماتے تھے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ» اس کی سند ضعیف ہے، «رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ» اسے شرح السنہ میں روایت کیا گیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4547]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (150/12 ح 3235) [والترمذي (2052 بلفظ آخر) والحاکم (409/4) ]
٭ فيه عباد بن منصور ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَصْفَةٌ لِلْحِفَاظِ مِنْ كُلِّ مَرَضٍ)
ہر مرض سے حفاظت کا نسخۃ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4548
4548 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مَنِ احْتَجَمَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ، وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ  كَانَ شِفَاءً لَهُ مِنْ كُلِّ دَاءٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص (چاند کی) سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگوائے وہ ہر بیماری سے محفوظ رہے گا۔ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ»، «رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4548]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (3861)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ وَضْعِ الْحِجَامَةِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ)
منگل کے دن سینگی لگوانا منع کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4549
4549 - وَعَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ أَبِي بَكَرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ أَبَاهَا كَانَ يُنْهِي أَهْلَهُ عَنِ الْحِجَامَةِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ  ، وَيَزْعُمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَنَّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ يَوْمُ الدَّمِ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَرْقَأُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
کبشہ بنت ابی بکرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد منگل کے روز پچھنے لگوانے سے اپنے اہل خانہ کو منع کیا کرتے تھے، اور وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ منگل کا دن (غلبہِ) خون کا دن ہے اور اس میں ایک گھڑی ہے کہ اس میں خون تھمتا نہیں۔ اس کی سند ضعیف ہے، اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4549]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3862)
٭ عمة بکار: لا يعرف حالھا و الحديث ضعفه البيھقي .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ وَضْعِ الْحِجَامَةِ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ أَوِ السَّبْتِ)
بدھ یا ہفتہ کے دن سینگی لگوانے سے منع کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4550
4550 - وَعَنِ الزُّهْرِيِّ مُرْسَلًا، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَنِ احْتَجَمَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، أَوْ يَوْمَ السَّبْتِ  ، فَأَصَابَهُ وَضَحٌ؟ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ) . رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ: وَقَدْ أُسْنِدَ وَلَا يَصِحُّ.
امام زہری رحمہ اللہ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مرسل روایت کرتے ہیں: جو شخص بدھ یا ہفتہ کے روز پچھنے لگوائے اور وہ برص کا شکار ہو جائے تو وہ اس صورت میں خود کو ہی ملامت کرے۔ امام احمد رحمہ اللہ، امام ابوداؤد رحمہ اللہ، اور امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یہ مشہور ہے کہ یہ روایت مسند ہے، لیکن یہ صحیح نہیں۔ اس کی سند ضعیف ہے، اسے امام احمد رحمہ اللہ اور امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4550]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود في المراسيل (451، نسخة أخري: 445)
٭ السند ضعيف لإرساله و الرواية المسندة عند الحاکم (409/4. 410) والبيھقي (340/9) من طريق سليمان بن أرقم (ضعيف جدًا) عن الزھري عن سعيد بن المسيب عن أبي ھريرة إلخ به .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ضَرَرُ وَضْعِ الْحِجَامَةِ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَالسَّبْتِ)
بدھ اور ہفتہ کو سینگی لگوانے کا نقصان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4551
4551 - وَعَنْهُ مُرْسَلًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَنِ احْتَجَمَ أَوِ اطَّلَى يَوْمَ السَّبْتِ أَوِ الْأَرْبِعَاءِ  فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ، فِي الْوَضَحِ) . رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ"
امام زہری رحمہ اللہ سے مرسل روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص ہفتے یا بدھ کے روز پچھنے لگوائے یا کوئی دوائی لیپ کرے تو وہ برص کا شکار ہونے کی صورت میں صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4551]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (151/12. 152 بعد ح 3235 بدون سند)
٭ السند مرسل، إن صح إلي الزھري رحمه الله .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (التَّعْوِيذُ وَالْجَنْدَلُ شِرْكٌ)
تعویذ گنڈا شرک ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4552
4552 - وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَأَى فِي عُنُقِي خَيْطًا، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: خَيْطٌ رُقِيَ لِي فِيهِ قَالَتْ: فَأَخَذَهُ فَقَطَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَنْتُمْ آلَ عَبْدَ اللَّهِ لَأَغْنِيَاءٌ عَنِ الشِّرْكِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ"فَقُلْتُ: لِمَ تَقُولُ هَكَذَا؟ لَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تُقْذَفُ، وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ، فَإِذَا رَقَاهَا سَكَنَتْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّمَا ذَلِكِ عَمَلُ الشَّيْطَانِ، كَانَ يَنْخَسُهَا بِيَدِهِ، فَإِذَا رُقِيَ كُفَّ عَنْهَا، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"اذْهِبِ الْبَأْسَ، رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سَقَمًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے میری گردن میں ایک دھاگہ دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میرے لیے دم کیا ہوا دھاگہ ہے، انہوں نے اسے پکڑ کر کاٹ دیا، پھر فرمایا: تم آلِ عبداللہ شرک سے بے نیاز ہو، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک دم، تعویذ اور جادو شرک ہے۔ میں نے کہا: آپ اس طرح کیوں کہتے ہیں؟ میری آنکھ میں شدید درد تھا میں فلاں یہودی کے پاس جاتی تھی، جب وہ دم کرتا تو درد رک جاتا تھا، (یہ سن کر) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ محض شیطان کا عمل ہے، وہ اپنا ہاتھ آنکھ پر مارتا ہے، جب دم کیا جاتا ہے تو وہ ہاتھ مارنا چھوڑ دیتا ہے، تمہارے لیے اتنا کہنا ہی کافی تھا جیسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» لوگوں کے رب! بیماری لے جا، اور شفا عطا فرما، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے، شفا صرف تیری ہی ہے، ایسی شفا عطا کر کہ وہ کوئی بیماری نہ چھوڑے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4552]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3883) [و ابن ماجه (3530) ]
٭ سليمان الأعمش مدلس و عنعن و للحديث شواھد ضعيفة و أخرج الحاکم (217/4 ح 7505، اتحاف المھرة 453/10ح 13163) عن قيس بن السکن الأسدي قال: ’’دخل عبد الله بن مسعود رضي الله عنه علي امرأة فرأي عليھا حرزًا من الحمرة فقطعه قطعًا عنيفًا ثم قال: إن آل عبد الله عن الشرک أغنياء و قال: کان مما حفظنا عن النبي ﷺ أن الرقي و التمائم والتولة من الشرک‘‘ و صححه ووافقه الذهبي، ابن موسي ھو عبيد الله و السند صحيح .»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّشْرَةُ مَرَضٌ نَتِيجَةُ حَرَكَةٍ شَيْطَانِيَّةٍ)
نشرہ بیماری شیطانی حرکت کا نتیجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4553
4553 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النُّشْرَةِ  فَقَالَ:"هُوَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جادو، منتر (سفلی عمل کو سفلی علم سے دور کرنے) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شیطانی عمل ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4553]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (3868)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں