مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَخْذُ الشُّؤْمِ شِرْكٌ)
بدشگونی لینا شرک ہے
حدیث نمبر: 4584
4584 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"الطِّيَرَةُ شِرْكٌ"قَالَهُ ثَلَاثًا"وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ. هَذَا عِنْدِي قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بدشگونی لینا شرک ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا: ”اور ہم میں سے اگر کسی کے دل میں یہ خیال آتا ہے تو اللہ توکل کے ذریعے اسے ختم کر دیتا ہے“۔ ابوداؤد، ترمذی۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری رحمہ اللہ) کو بیان کرتے ہوئے سنا: سلیمان بن حرب اس حدیث کے متعلق کہا کرتے تھے: ”اور ہم میں سے کسی کے دل میں اس کے متعلق خیال آتا ہے تو اللہ توکل کے باعث اسے ختم کر دیتا ہے“ اور میرا خیال ہے کہ یہ جملہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ صحیح، اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4584]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (3910) و الترمذي (1614)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (تَغْذِيَةُ الْمَجْذُومِ مَعَ الْآخَرِينَ)
کوڑھی کو ساتھ کھلانا
حدیث نمبر: 4585
4585 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ ، وَقَالَ:"كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ، وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجذوم شخص کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ ہی کھانے کے برتن میں رکھا اور فرمایا: «كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ» ”اللہ پر اعتماد و بھروسہ اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4585]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (3542) [و أبو داود (3925) و الترمذي (1817) ]
٭ فيه مفضل بن فضالة: ضعيف .»
٭ فيه مفضل بن فضالة: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (لَا نَحْسَ فِي هَذِهِ)
اِن میں نحوست نہیں
حدیث نمبر: 4586
4586 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ. وَإِنْ تَكُنِ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الدَّارِ، وَالْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہ الو منحوس ہے اور نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ ہی کوئی بدشگونی ہے۔ اور اگر بدشگونی (یعنی نحوست) کسی چیز میں ہوتی تو گھر، گھوڑے اور عورت میں ہوتی۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4586]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (3921)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (حَقِيقَةُ التَّفَاؤُلِ الْحَسَنِ)
اچھے فال کی حقیقت
حدیث نمبر: 4587
4587 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُعْجِبُهُ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَةٍ أَنْ يَسْمَعَ: يَا رَاشِدُ، يَا نَجِيحُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کام کے لیے نکلتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم «يَا رَاشِدُ» ”راہنمائی پانے والے“ یا «يَا نَجِيحُ» ”کامیابی پانے والے“ کے الفاظ سننا پسند فرمایا کرتے تھے۔ اس کی سند صحیح ہے، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4587]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1616 وقال: حسن صحيح غريب)
٭ حميد الطويل مدلس و عنعن .
تعديلات [4587] :
إسناده صحيح، رواه الترمذي (1616 وقال: حسن صحيح غريب)»
٭ حميد الطويل مدلس و عنعن .
تعديلات [4587] :
إسناده صحيح، رواه الترمذي (1616 وقال: حسن صحيح غريب)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (سُرُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ سَمَاعِ اسْمٍ حَسَنٍ)
اچھا نام سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسرت
حدیث نمبر: 4588
4588 - وَعَنْ بُرَيْدَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ ، فَإِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ، فَإِذَا أَعْجَبَهُ اسْمُهُ فَرِحَ بِهِ، وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ. وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهُ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ. وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا، فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهَا فَرِحَ بِهِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی چیز سے بدشگونی نہیں لیا کرتے تھے، جب آپ کسی عامل (گورنر و حکمران) کو بھیجتے تو اس کا نام دریافت فرماتے، اگر آپ کو اس کا نام پسند آتا تو آپ اس سے خوش ہوتے اور اس خوشی کے آثار آپ کے چہرے پر نظر آتے، اور اگر آپ اس کا نام ناپسند کرتے تو اس کی ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر نظر آتی۔ اور جب آپ کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام دریافت فرماتے، اگر آپ کو اس کا نام اچھا لگتا تو آپ خوش ہوتے اور خوشی کے آثار آپ کے چہرے پر دکھائی دیتے۔ اور اگر اس کے نام کو ناپسند فرماتے تو ناگواری کے اثرات آپ کے چہرے پر نمایاں ہوتے۔ (اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4588]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3920)
٭ قتادة مدلس و عنعن .»
٭ قتادة مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (أَمْرُ تَرْكِ الْمَكَانِ)
جگہ چھوڑنے کا حکم
حدیث نمبر: 4589
4589 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثُرَ فِيهَا عَدَدُنَا وَأَمْوَالُنَا، فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ قَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَأَمْوَالُنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ذَرُوهَا ذَمِيمَةً". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم ایک گھر میں تھے جس سے ہمارے افراد اور اموال میں اضافہ ہوا، پھر ہم نے وہ گھر بدل لیا تو ہمارے افراد و اموال میں کمی آگئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” «دَعُوهَا ذَمِيمَةً» اس گھر کو چھوڑ دو کیونکہ یہ گھر اچھا نہیں۔“ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4589]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3924)
٭ عکرمة بن عمار مدلس و عنعن .
تعديلات [4589] :
إسناده صحيح، رواه أبو داود (3924)
٭ عکرمة بن عمار صرح بالسماع عند البزار (البحر الزخار 79/13ح 6427)»
٭ عکرمة بن عمار مدلس و عنعن .
تعديلات [4589] :
إسناده صحيح، رواه أبو داود (3924)
٭ عکرمة بن عمار صرح بالسماع عند البزار (البحر الزخار 79/13ح 6427)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (أَمْرُ تَرْكِ الْمِنْطَقَةِ الْوَبَائِيَّةِ)
وبائی علاقہ چھوڑنے کا حکم
حدیث نمبر: 4590
4590 - وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عِنْدَنَا أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا أَبْيَنُ، وَهِيَ أَرْضُ رِيفِنَا وَمِيرَتِنَا، وَإِنَّ وَبَاءَهَا شَدِيدٌ، فَقَالَ:"دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
یحییٰ بن عبداللہ بن بحیر بیان کرتے ہیں، مجھے اس شخص نے بتایا جس نے فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمارے پاس ابین نامی زمین ہے، ہماری زراعت و معیشت اسی زمین سے وابستہ ہے، لیکن وہاں کی وبا شدید ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، کیونکہ بیماری کے قریب رہنا ہلاکت کو دعوت دینا ہے۔“ (اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4590]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3923)
٭ فيه يحيي بن عبد الله بن بحير: مستور و شيخه مجھول لم يسم .»
٭ فيه يحيي بن عبد الله بن بحير: مستور و شيخه مجھول لم يسم .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (الدُّعَاءُ عِنْدَ رُؤْيَةِ شَيْءٍ غَيْرِ مَرْغُوبٍ)
ناپسند چیز دیکھ کر یہ دعا کرے
حدیث نمبر: 4591
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4591 - عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:"أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ، وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عروہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بدشگونی کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے بہتر چیز نیک فال لینا ہے، اور وہ (بدشگونی) کسی مسلمان کو کام سے مت منع کرے، جب تم میں سے کوئی شخص ناپسندیدہ چیز دیکھے تو کہے: «اَللّٰهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ» ”اے اللہ! تمام بھلائیاں تو ہی لاتا ہے اور تمام برائیاں تو ہی دور کرتا ہے، ہر قسم کے گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض تیری توفیق سے ممکن ہے۔““ ابوداؤد رحمہ اللہ نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ اس کی سند ضعیف ہے، اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4591]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3919)
٭ سفيان الثوري و حبيب بن أبي ثابت مدلسان و عنعنا .»
٭ سفيان الثوري و حبيب بن أبي ثابت مدلسان و عنعنا .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (مَنْعُ زِيَارَةِ الْكُهَّانِ)
کاہنوں کے پاس جانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 4592
(2) بَابُ الْكِهَانَةِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 4592 - عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أُمُورًا كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ. قَالَ:"فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ". قَالَ: قُلْتُ: كُنَّا نَتَطَيَّرُ. قَالَ:"ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ، فَلَا يَصُدَنَّكُمْ". قَالَ، قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يُخْطِئُونَ. قَالَ:"كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کچھ ایسے امور و معاملات ہیں جو ہم دورِ جاہلیت میں کیا کرتے تھے، ہم کاہنوں کے پاس جایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم کاہنوں کے پاس نہ جایا کرو۔“ وہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: ہم پرندوں کے ذریعے فال لیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جسے تم میں سے کوئی اپنے دل میں پاتا ہے وہ (فال لینا) تمہیں (کام کرنے سے) نہ روکے۔“ وہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جو لکیریں کھینچا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نبی بھی لکیریں کھینچا کرتے تھے، جس کا خط ان کے خط کے موافق ہو گیا تو وہ ٹھیک ہے۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4592]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (121/ 537)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (صِدْقٌ وَاحِدٌ مَعَ مِائَةِ كَذِبٍ)
ایک سچ سو جھوٹ
حدیث نمبر: 4593
4593 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْكُهَّانِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْءٍ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ، يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلَيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذِبَةٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”ان کی کوئی حیثیت نہیں۔“ انہوں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! بعض اوقات وہ جو کہتے ہیں، ویسے ہی ہو جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی سچی بات کو جن (اوپر سے) اچک لیتا ہے تو پھر وہ مرغی کی آواز کی طرح اسے اپنے ساتھی کے کان تک پہنچا دیتا ہے، کاہن لوگ اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4593]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6213) و مسلم (123/ 2228)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه