مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَعِيذُ مِنَ الْعَيْنِ الْبَرِيَّةِ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نظر بد سے پناہ مانگتے تھے
حدیث نمبر: 4564
4564 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَلْ رُئِيَ فِيكُمُ الْمُغَرِّبُونَ؟"قُلْتُ: وَمَا الْمُغَرِّبُونَ؟ قَالَ:"الَّذِينَ يَشْتَرِكُ فِيهِمُ الْجِنُّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا تم میں «مُغَرِّبُونَ» دیکھے گئے؟“ میں نے عرض کیا: «مُغَرِّبُونَ» کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ (جو اللہ کا ذکر نہیں کرتے) ان میں جن (شیطان) شریک ہو جاتا ہے۔“ (إسناده ضعيف، رواه أبو داود)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4564]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (5107)
٭ ابن جريج مدلس: عنعن و أبوه لين و أم حميد: لا يعرف حالھا .»
٭ ابن جريج مدلس: عنعن و أبوه لين و أم حميد: لا يعرف حالھا .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (الْمَغْرِبُونَ أَتْبَاعُ الشَّيْطَانِ)
مغربون لوگ شیطان کے چیلے
حدیث نمبر: 4565
وَذُكِرَ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ:"خَيْرُ مَا تَدَوَايْتُمْ"فِي"بَابِ التَّرَجُّلِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث: ”بہترین علاج جس کے ....“ «بَابُ التَّرَجُّلِ» ”کنگھی کرنے کا باب“ میں ذکر کی گئی ہے، جو کہ ضعیف ہے اور پہلے گزر چکی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4565]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف تقدم (4473)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف تقدم (4473)
--. (الْمَعِدَةُ مَرْكَزُ إِصْلَاحِ الْجِسْمِ كُلِّهِ)
معدہ سارے جسم کی اصلاح کا مرکز ہے
حدیث نمبر: 4566
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4566 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الْمَعِدَةُ حَوْضُ الْبَدَنِ، وَالْعُرُوقُ إِلَيْهَا وَارِدَةٌ، فَإِذَا صَحَّتِ الْمَعِدَةُ صَدَرَتِ الْعُرُوقُ بِالصِّحَّةِ، وَإِذَا فَسَدَتِ الْمَعِدَةُ صَدَرَتِ الْعُرُوقُ بِالسَّقَمِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”معدہ بدن کا حوض ہے، جبکہ رگیں (ہر طرف سے) اس کی طرف آتی ہیں، جب معدہ درست ہو گا تو رگیں تندرستی لے کر واپس آتی ہیں، اور جب معدہ بیمار ہوتا ہے، تو رگیں بیماری لے کر واپس آتی ہیں۔“ (موضوع، رواہ البیہقی فی شعب الإیمان) [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4566]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «موضوع، رواه البيھقي في شعب الإيمان (5796، نسخة محققة: 5414) [و ابن الجوزي في الموضوعات (284/2) ]
٭ فيه إبراهيم بن جريج الرھاوي متھم و يحيي بن عبد الله البابلتي: ضعيف .»
٭ فيه إبراهيم بن جريج الرھاوي متھم و يحيي بن عبد الله البابلتي: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:موضوع
--. (عِنْدَمَا لَسَعَتِ الْعَقْرَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچھو نے کاٹ لیا
حدیث نمبر: 4567
4567 - وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، فَلَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ ، فَنَاوَلَهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَعْلِهِ فَقَتَلَهَا. فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:"لَعَنَ اللَّهُ الْعَقْرَبَ، مَا تَدَعُ مُصَلِّيًا وَلَا غَيْرَهُ - أَوْ نَبِيًّا وَغَيْرَهُ"- ثُمَّ دَعَا بِمِلْحٍ وَمَاءٍ، فَجَعَلَهُ فِي إِنَاءٍ، جَعَلَ يَصُبُّهُ عَلَى أُصْبُعِهِ حَيْثُ لَدَغَتْهُ وَيَمْسَحُهَا وَيُعَوِّذُهَا بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ"
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا تو بچھو نے آپ کو ڈس لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا جوتا مار کر اسے مار دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اللہ بچھو پر لعنت فرمائے وہ کسی نمازی کو چھوڑتا ہے نہ کسی اور کو۔“ یا فرمایا: ”کسی نبی کو چھوڑتا ہے نہ کسی اور کو۔“ پھر آپ نے نمک اور پانی منگایا اور انہیں ایک برتن میں جمع کر دیا۔ پھر آپ اس انگلی پر جہاں اس نے ڈسا تھا ڈالنے لگے، اسے ملنے لگے اور معوذتین کے ذریعے اس سے پناہ طلب کرنے لگے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے دونوں روایتیں شعب الایمان میں ذکر کی ہیں۔ حسن، رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4567]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه البيھقي في شعب الإيمان (2575، نسخة محققة: 2340 وسنده حسن) [و ابن أبي شيبة في المصنف (398/7، 10/ 418. 419) ] و حسنه الھيثمي وغيره .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (نَيْلُ رَحْمَةِ اللَّهِ مِنْ شَعْرِ رَسُولِ الرَّحْمَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں سے رحمت الٰہی کا حصول
حدیث نمبر: 4568
4568 - وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ، وَكَانَ إِذَا أَصَابَ الْإِنْسَانَ عَيْنٌ أَوْ شَيْءٌ بَعَثَ إِلَيْهَا مِخْضَبَهُ، فَأَخْرَجَتْ مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ تُمْسِكُهُ فِي جُلْجُلٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَخَضْخَضَتْهُ لَهُ، فَشَرِبَ مِنْهُ، قَالَ: فَاطَّلَعْتُ فِي الْجُلْجُلِ فَرَأَيْتُ شَعَرَاتٍ حَمْرَاءَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عثمان بن عبداللہ بن موہب بیان کرتے ہیں، میرے اہل خانہ نے پانی کا پیالہ دے کر مجھے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، اور یہ دستور تھا کہ جب کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی اور مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ پانی کا برتن ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا کرتے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال، جو کہ انہوں نے چاندی کی گھنٹی میں رکھے ہوئے تھے، نکالتیں اور انہیں اس شخص کے لیے (پانی میں) ہلاتیں اور بیمار آدمی وہ پانی پی لیتا۔ راوی بیان کرتے ہیں، میں نے اس ڈبیا میں جھانک کر دیکھا تو میں نے سرخ بال دیکھے۔ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4568]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5896)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (نَوْعٌ مِنَ الْكَمْأَةِ)
کھنبی من کی قِسم
حدیث نمبر: 4569
4569 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْكَمْأَةُ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَخَذْتُ ثَلَاثَةَ أَكْمُؤٍ أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَعَصَرْتُهُنَّ، وَجَعَلْتُ مَاءَهُنَّ فِي قَارُورَةٍ، وَكَحَّلْتُ بِهِ جَارِيَةً لِي عَمْشَاءَ، فَبَرَأَتْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: کھنبی زمین کی چیچک ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کھنبی، من (من و سلوی) کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے باعث شفا ہے، اور عجوہ (کھجور) جنت سے ہے اور وہ زہر کا تریاق ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے تین یا پانچ یا سات کھنبیاں لیں، انہیں نچوڑ کر ان کے پانی کو ایک شیشی میں رکھ لیا، اور میں نے اپنی اس لونڈی کی آنکھوں میں وہ پانی ڈالا جس کی آنکھوں سے پانی بہتا رہتا تھا، تو وہ اس سے صحت یاب ہو گئی۔ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4569]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` « [4569/1] حسن، رواه الترمذي (2068)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (تَأْثِيرُ الْعَسَلِ عَلَى الصَّبَاحِ)
نہار منھ شہد کی تاثیر
حدیث نمبر: 4570
4570 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَعِقَ الْعَسَلَ ثَلَاثَ غَدَوَاتٍ فِي كُلِّ شَهْرٍ لَمْ يُصِبْهُ عَظِيمٌ مِنَ الْبَلَاءِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہر ماہ تین روز شہد چاٹتا ہے تو اسے کوئی بڑی بیماری لاحق نہیں ہوتی۔“ اس کی سند ضعیف ہے، اسے ابن ماجہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4570]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (3450) و البيھقي في شعب الإيمان (5938)
٭ الزبير بن سعيد: لين الحديث و عبد الحميد: مجھول .»
٭ الزبير بن سعيد: لين الحديث و عبد الحميد: مجھول .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (تَمَسَّكْ بِشِفَاءَيْنِ)
دو شفائیں لازم پکڑو
حدیث نمبر: 4571
4571 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"عَلَيْكُمْ بِالشِّفَاءَيْنِ: الْعَسَلِ وَالْقُرْآنِ". رَوَاهُمَا ابْنُ مَاجَهْ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. قَالَ: وَالصَّحِيحُ أَنَّ الْأَخِيرَ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” «عَلَيْكُمْ بِالشِّفَاءَيْنِ: الْعَسَلِ وَالْقُرْآنِ» ”شفا دینے والی دو چیزوں کو لازم پکڑو (یعنی) شہد اور قرآن۔““ امام ابن ماجہ نے دونوں روایتیں نقل کی ہیں، اور امام بیہقی نے انہیں شعب الایمان میں نقل کیا اور فرمایا: صحیح بات یہ ہے کہ آخری (دوسری) حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ و البیہقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4571]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (3452) و البيھقي في شعب الإيمان (3581)
٭ أبو إسحاق مدلس و عنعن و أخرج الخطيب بإسناد ضعيف منکر عن زيد بن حباب عن شعبة عن أبي إسحاق به .»
٭ أبو إسحاق مدلس و عنعن و أخرج الخطيب بإسناد ضعيف منکر عن زيد بن حباب عن شعبة عن أبي إسحاق به .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (الْحِجَامَةُ عَلَى الرَّأْسِ لِإِزَالَةِ السُّمِّ)
زہر مٹانے کے لئے سر پر سینگی
حدیث نمبر: 4572
4572 - وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - احْتَجَمَ عَلَى هَامَتِهِ مِنَ الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ . قَالَ مَعْمَرٌ: فَاحْتَجَمْتُ أَنَا مِنْ غَيْرِ سُمٍّ كَذَلِكَ فِي يَافُوخِي، فَذَهَبَ حُسْنُ الْحِفْظِ عَنِّي، حَتَّى كُنْتُ أُلَقَّنُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ رَزِينٌ.
ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زہر والی بکری (کھانے) کی وجہ سے اپنے سر کے وسط میں پچھنے لگوائے۔ معمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے بھی زہر کے اثر کے بغیر ہی اپنے سر کے وسط میں پچھنے لگوائے تو میرا حافظہ جاتا رہا حتیٰ کہ دورانِ نماز مجھے سورۂ فاتحہ کا لقمہ دیا جاتا تھا۔ «لَمْ أَجِدْهُ، رَوَاهُ رَزِينٌ» ”میں نے اسے نہیں پایا، اسے رزین نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4572]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لم أجده، رواه رزين (لم أجده) [و لم أجده في مصنف عبد الرزاق] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:لم أجده
--. (فَائِدَةُ الْحِجَامَةِ)
سینگی کا فائدہ
حدیث نمبر: 4573
4573 - وَعَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: يَا نَافِعُ! يَنْبُعُ بِي الدَّمُ، فَأْتِنِي بِحَجَّامٍ وَاجْعَلْهُ شَابًّا، وَلَا تَجْعَلْهُ شَيْخًا وَلَا صَبِيًّا. قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ، وَهِيَ تُزِيدُ فِي الْعَقْلِ، وَتُزِيدُ فِي الْحِفْظِ، وَتُزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا، فَمَنْ كَانَ مُحْتَجِمًا فَيَوْمَ الْخَمِيسِ عَلَى اسْمِ اللَّهِ تَعَالَى، وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ، فَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ ؟ فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي أُصِيبَ بِهِ أَيُّوبُ فِي الْبَلَاءِ. وَمَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ إِلَّا فِي يَوْمِ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
نافع بیان کرتے ہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نافع! میرا فشارِ خون بڑھ رہا ہے کسی پچھنے لگانے والے نوجوان کو میرے پاس لاؤ، دیکھنا وہ بوڑھا یا بچہ نہ ہو، راوی بیان کرتے ہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”خالی پیٹ پچھنے لگوانا زیادہ بہتر ہے، وہ عقل و فہم اور حافظہ میں اضافہ کرتا ہے، جس شخص نے پچھنے لگوانے ہوں تو وہ جمعرات کے روز اللہ تعالیٰ کا نام لے کر پچھنے لگوائے، جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو پچھنے لگوانے سے اجتناب کرو۔ پیر اور منگل کو پچھنے لگواؤ اور بدھ کے روز پچھنے لگوانے سے اجتناب کرو، کیونکہ یہ وہ دن ہے جس روز ایوب علیہ السلام آزمائش کا شکار ہوئے، جذام اور برص بدھ کے روز یا بدھ کی رات ہی ظاہر ہوتے ہیں“۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4573]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (3487)
٭ فيه الحسن بن أبي جعفر و عثمان بن مطر: ضعيفان و للحديث شواھد ضعيفة .»
٭ فيه الحسن بن أبي جعفر و عثمان بن مطر: ضعيفان و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف