🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (سَبَبُ صِدْقِ بَعْضِ أَقْوَالِ الْكَاهِنِ)
کاہن کی کسی بات کے سچ ہونے کی وجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4594
4594 - وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ - وَهُوَ السَّحَابُ - فَتَذْكُرُ الْأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَاءِ، فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ  فَتُسْمِعُهُ فَتُوحِيهِ إِلَى الْكُهَّانِ، فَيَكْذِبُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک فرشتے «الْعَنَانِ» یعنی بادلوں میں اترتے ہیں، اور وہ آسمان میں ہونے والے فیصلہ شدہ امور کا تذکرہ کرتے ہیں تو شیاطین چوری سے اسے سن لیتے ہیں، پھر وہ اسے کاہنوں تک پہنچا دیتے ہیں، اور کاہن اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو جھوٹ بولتے ہیں۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4594]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (2210)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (زِيَارَةُ الْكُهَّانِ وَالنُّجُومِيِّينَ وَغَيْرِهِمْ كَبِيرَةٌ)
کاہنوں، نجومیوں وغیرہ کے پاس جانا کبیرہ گناہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4595
4595 - وَعَنْ حَفْصَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کاہن کے پاس جا کر اس سے کسی گم شدہ چیز کے بارے میں دریافت کرے تو اس شخص کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4595]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (125/ 2230)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْعَقِيدَةُ بِأَنَّ النُّجُومَ تُمْطِرُ كُفْرٌ)
ستاروں کی وجہ سے بارش کا عقیدہ کفر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4596
4596 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَثَرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:"هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟"قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ:"قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا  فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حدیبیہ کے مقام پر رات بارش ہو جانے کے بعد نمازِ فجر پڑھائی، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے فرمایا ہے: میرے بندوں میں سے بعض نے اس حال میں صبح کی کہ وہ مجھ پر ایمان لائے اور کچھ نے میرے ساتھ کفر کیا، جس شخص نے کہا: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستاروں کا منکر ہے اور رہا وہ شخص جس نے کہا: فلاں فلاں (ستارے کے سقوط) کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور ستاروں پر ایمان رکھنے والا ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4596]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (846) و مسلم (125/ 71)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كُفْرَانُ النِّعْمَةِ بِسَبَبِ الْمَطَرِ)
بارش کے سبب کفران نعمت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4597
4597 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ بَرَكَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنَ النَّاسِ بِهَا كَافِرِينَ  ، يُنْزِلُ اللَّهُ الْغَيْثَ، فَيَقُولُونَ: بِكَوْكَبِ كَذَا وَكَذَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ آسمان سے کوئی برکت نازل کرتا ہے تو لوگوں کا ایک گروہ اس کا انکار کر دیتا ہے، اللہ بارش نازل کرتا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے (بارش ہوئی) ہے۔ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4597]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (72/126)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عِلْمُ النُّجُومِ لِلْكَهَانَةِ كُفْرٌ)
کہانت کے لیے ستاروں کا علم کفر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4598
الْفَصْلُ الثَّانِي 4598 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ  اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے علم نجوم حاصل کیا تو اس نے جادو کا ایک حصہ حاصل کیا، وہ (حصولِ سحر میں) جس قدر بڑھتا گیا اسی قدر وہ (حصولِ علم نجوم میں) بڑھتا گیا۔ اسنادہ حسن، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4598]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (311/1) و أبو داود (3905) و ابن ماجه (3726)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَلَاثَةُ مُنْكِرِي الْوَحْيِ)
وحی کے تین منکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4599
4599 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ  ، أَوْ أَتَى امْرَأَتَهُ حَائِضًا، أَوْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا  فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی یا اس نے اپنی اہلیہ سے جبکہ وہ حالتِ حیض میں ہو، جماع کیا، یا اس نے اپنی اہلیہ کی پشت میں جماع کیا تو وہ اس سے بیزار ہے جو محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اتاری گئی ہے۔ حسن، رواہ احمد و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4599]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (408/2) و أبو داود (3904)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عِلْمُ الْكُهَّانِ مُسْتَعَارٌ مِنَ الشَّيَاطِينِ)
کاہنوں کا علم شیاطین سے مستعار ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4600
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4600 - عَنْ أَبَى هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِذَا قَضَى اللَّهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ، كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا لِلَّذِي قَالَ: الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ. فَسَمِعَهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هَكَذَا، بَعْضُهُ فَوْقَ بَعْضٍ"وَوَصَفَ سُفْيَانُ بِكَفِّهِ فَحَرَّفَهَا، وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ"فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُلْقِيهَا الْآخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، حَتَّى يُلْقِيَهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ  . فَرُبَّمَا أَدْرَكَ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ. فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا؟ فَيَصْدُقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ آسمان پر کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان سے ڈرتے ہوئے اپنے پَر ہلاتے ہیں، جیسا کہ چٹان پر زنجیر مارنے کی آواز آتی ہے، ﴿حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ﴾ [سورة سبإ: 23] جب ان کے دلوں سے خوف جاتا رہتا ہے تو وہ کہتے ہیں، تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ وہ (مقرب فرشتے) کہتے ہیں: ﴿الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾ [سورة سبإ: 23] اس ذات نے جو فرمایا، وہ حق ہے، وہ بلند اور بڑا ہے، چنانچہ چوری سے سننے والے اس فیصلے کو سن لیتے ہیں، اور چوری سننے والے اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں۔ اور سفیان (راوی) نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اس کی کیفیت بیان کی، انہوں نے اس (ہتھیلی) کو کھولا اور انگلیوں کے درمیان فاصلہ کیا: چنانچہ اوپر والا بات سنتا ہے اور وہ اس بات کو اپنے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے، پھر وہ اپنے سے نیچے والے تک پہنچا دیتا ہے، حتیٰ کہ (اس طرح ہوتے ہوئے) آخری ساحر یا کاہن کی زبان تک پہنچا دیتا ہے، اور بسا اوقات شیطان کے پہنچانے سے پہلے پہلے شہابِ ثاقب اسے لگ جاتا ہے اور کبھی شہابِ ثاقب کے اس تک پہنچنے سے قبل وہ القا کر دیتا ہے اور وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر بتاتا ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے: کیا اس نے فلاں وقت اس طرح اس طرح نہیں کہا تھا؟ اس کلمہ کی وجہ سے، جو آسمان سے سنا گیا تھا، تصدیق ہو جاتی ہے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4600]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4800)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّجْمُ لَا يَتَسَاقَطُ بِمَوْتِ أَحَدٍ أَوْ حَيَاتِهِ)
ستارا کسی کی موت یا زندگی سے نہیں ٹوٹتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4601
4601 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَّهُمْ بَيْنَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رُمِيَ بِنَجْمٍ وَاسْتَنَارَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟"قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، كُنَّا نَقُولُ: وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَإِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَا قَالَ فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَيَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ، فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ، وَيُرْمَوْنَ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ  ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انصار صحابہ میں سے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ اس اثنا میں کہ ایک رات ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ستارہ ٹوٹا اور روشن ہوا۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا: جب دورِ جاہلیت میں اس طرح ستارہ ٹوٹتا تھا تو تم کیا کہا کرتے تھے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، تاہم یہ کہا کرتے تھے کہ اس رات کوئی عظیم آدمی پیدا ہوا ہے یا کوئی عظیم آدمی فوت ہوا ہے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ستارہ نہ کسی کی موت پر ٹوٹتا ہے اور نہ کسی کی حیات پر، لیکن جب ہمارا رب، بابرکت ہے نام اس کا، کوئی فیصلہ فرماتا ہے تو حاملینِ عرش تسبیح بیان کرتے ہیں، بعد ازاں ان سے قریب آسمان والے فرشتے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے کہتے ہیں یہاں تک کہ تسبیح کی یہ آواز آسمانِ دنیا کے فرشتوں تک پہنچ جاتی ہے، پھر وہ فرشتے جو عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کے قریب ہوتے ہیں وہ حاملینِ عرش سے کہتے ہیں: تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ تو وہ انہیں بتاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہوتا ہے، آسمان والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، حتی کہ خبر آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتی ہے چنانچہ شیاطین اس بات کو اچک لیتے ہیں، اور وہ اپنے ساتھیوں کو القا کر دیتے ہیں، اور اسی دوران انہیں انگارے مارے جاتے ہیں، جو خبر وہ اصل شکل میں القا کر دیتے ہیں وہ تو حق اور درست ہوتی ہے، لیکن وہ اس میں اور ملا لیتے ہیں، اور اضافہ کر لیتے ہیں۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4601]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2229/124)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَوَائِدُ النُّجُومِ)
ستاروں کے فوائد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4602
4602 - وَعَنْ قَتَادَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: خَلْقَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ النُّجُومَ لِثَلَاثٍ  : جَعَلَهَا زِينَةً لِلسَّمَاءِ، وَرُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ، وَعَلَامَاتٍ يُهْتَدَى بِهَا، فَمَنْ قَالَ فِيهَا بِغَيْرِ ذَلِكَ أَخَطَأَ وَأَضَاعَ نَصِيبَهُ، وَتَكَلَّفَ مَا لَا يَعْلَمُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ تَعْلِيقًا - وَفِي رِوَايَةِ رَزِينٍ: (وَتَكَلَّفَ مَا لَا يَعْنِيهِ وَمَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ، وَمَا عَجَزَ عَنْ عِلْمِهِ الْأَنْبِيَاءُ وَالْمَلَائِكَةُ) .
قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ستارے تین مقاصد کے لیے پیدا فرمائے ہیں: انہیں آسمان کے لیے باعثِ زینت بنایا، شیاطین کے لیے مار اور ایسی علامات و نشانات (بنایا) جن کے ذریعے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ جس نے ان کے علاوہ کچھ اور بیان کیا اس نے غلطی کی، اپنا حصہ (عمر) ضائع کیا اور ایسی چیز کا تکلف کیا جو وہ نہیں جانتا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے معلق روایت کیا ہے۔ اور رزین رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ اس نے ایسی چیز کا تکلف کیا جو نہ تو اس کے متعلق ہے اور نہ اسے اس کا علم ہے اور جس کے علم سے انبیا علیہم السلام اور فرشتے بھی عاجز ہیں۔ اسے بخاری اور رزین نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4602]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (کتاب بدء الخلق باب 3، بعد ح 3198) و رزين (لم أجده) [ورواه ابن حجر في تغليق التعليق (489/3) وسنده صحيح]
٭ وقوله ’’ما لا علم له به‘‘ صحيح .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:رواه البخاري (کتاب بدء الخلق باب 3، بعد ح 3198)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا مَوْتَ وَلَا حَيَاةَ وَلَا رِزْقَ فِي النُّجُومِ)
ستارے میں کسی کی موت، زندگی اور رزق نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4603
4603 - وَعَنِ الرَّبِيعِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - مِثْلُهُ، وَزَادَ: وَاللَّهِ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي نَجْمٍ حَيَاةَ أَحَدٍ، وَلَا رِزْقَهُ، وَلَا مَوْتَهُ  ، وَإِنَّمَا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَيَتَعَلَّلُونَ بِالنُّجُومِ.
ربیع رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، نیز انہوں نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: اللہ کی قسم! اللہ نے کسی ستارے میں نہ تو کسی کی زندگی رکھی ہے اور نہ اس کا رزق رکھا ہے اور نہ اس کی موت رکھی ہے، وہ تو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ستاروں کا فقط بہانہ بناتے ہیں۔ «لَمْ أَجِدْهُ، رَوَاهُ رَزِينٌ» میں نے اسے نہیں پایا، اسے رزین نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4603]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لم أجده، رواه رزين (لم أجده)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:لم أجده

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں