🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (فَائِدَةُ حِفْظِ اللِّسَانِ)
زبان کو محفوظ رکھنے کا فائدہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5121
5121 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مَنْ خَزَنَ لِسَانَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ كَفَّ اللَّهُ عَنْهُ عَذَابَهُ  يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلَى اللَّهِ قَبِلَ اللَّهُ عُذْرَهُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے، اللہ اس کے عیبوں پر پردہ ڈال دیتا ہے، جو شخص اپنے غصے کو روک لیتا ہے، روزِ قیامت اللہ اس سے اپنا عذاب روک لے گا اور جو شخص اللہ کے حضور معذرت کرتا ہے، اللہ اس کی معذرت قبول فرما لیتا ہے۔“ اس کی سند سخت ضعیف ہے، اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5121]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه البيھقي في شعب الإيمان (8311، نسخة محققة: 7958) [و أبو يعلي (302/7 ح 4338) ]
٭ الربيع بن سليم الخلقاني ضعيف و أبو عمرو مولي أنس بن مالک: مجھول و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَلَاثُ خَصَالٍ مُنْجِيَةٌ وَثَلَاثُ خَصَالٍ مُهْلِكَةٌ)
تین چیزیں نجات والی اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5122
5122 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"ثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ، وَثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ  ؟ فَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ: فَتَقْوَى اللَّهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ، وَالْقَوْلُ بِالْحَقِّ فِي الرِضَا وَالسُّخْطِ، وَالْقَصْدُ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ. وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتُ: فَهَوًى مُتَّبَعٌ، وَشُحٌّ مُطَاعٌ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ، وَهِيَ أَشَدُّهُنَّ". رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْخَمْسَةَ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں باعثِ نجات ہیں اور تین چیزیں باعثِ ہلاکت ہیں، باعثِ نجات چیزیں یہ ہیں: ظاہر و باطن میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا، رضا و ناراضی میں حق بات کرنا، اور تونگری و محتاجی میں میانہ روی اختیار کرنا، اور باعثِ ہلاکت چیزیں یہ ہیں: ایسی خواہش جس کی اتباع کی جائے، ایسا بخل جس کی اطاعت کی جائے، اور انسان کی خود پسندی، اور یہ ان سب سے زیادہ مہلک ہے۔“ امام بیہقی رحمہ اللہ نے پانچوں احادیث شعب الایمان میں نقل کی ہیں۔ [سندہ ضعیف، رواہ البیھقی فی شعب الایمان] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5122]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (7252، نسخة محققة: 6865)
٭ بکر بن سليم ضعفه الجمھور و باقي السند حسن، و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: حسن بشواهده
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ القِيَامَةِ)
ظلم قیامت کے دن اندھیرا ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5123
(21) بَابُ الظُّلْمِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5123 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"الظُّلْمُ ظُلْمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ظلم روز قیامت کئی اندھیروں کا باعث ہو گا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5123]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2447) و مسلم (2579/57)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الظَّالِمُ لَا يُفْلِتُ)
ظالم کی چُھوٹ نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5124
5124 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ"ثُمَّ قَرَأَ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ الْآيَةَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے لیکن وہ جب اسے پکڑتا ہے تو پھر اسے چھوڑتا نہیں۔“ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ﴾ [سورة هود: 102] ”تیرے رب کی پکڑ اسی طرح ہوتی ہے جب وہ بستی کے ظالموں کو پکڑتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5124]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه رواه البخاري (4686) و مسلم (61/ 2583)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا تَدْخُلْ بُيُوتَ الظَّالِمِينَ)
ظالموں کے گھر میں داخل نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5125
5125 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ:"لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ"ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَهُ وَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى اجْتَازَ الْوَادِيَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مقام حجر کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”تم ان مساکن میں، جہاں کے باشندوں نے اپنے اوپر ظلم کیا، روتے ہوئے داخل ہونا کیونکہ جس عذاب میں وہ مبتلا ہوئے کہیں تم بھی اس میں مبتلا نہ ہو جاؤ۔“ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور رفتار تیز کر دی حتیٰ کہ وہ وادی سے گزر گئے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5125]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4419) و مسلم (39/ 2980)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَاقِبَةُ الظَّالِمِ المُخْزِيَةُ)
ظالم کا عبرت ناک انجام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5126
5126 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ  الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلِمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس شخص پر اپنے (مسلمان) بھائی کا، اس کی عزت سے متعلق یا کسی اور چیز سے متعلق کوئی حق ہو تو وہ (دنیا میں) اس سے معافی تلافی کروا لے، قبل اس کے کہ وہ دن آ جائے جب اس کے پاس درہم و دینار نہیں ہوں گے، اگر اس کے پاس عمل صالح ہوں گے تو وہ اس سے اس کے ظلم کے بقدر لے لیے جائیں گے اور اگر اس کی نیکیاں نہیں ہوں گی تو حق دار کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیے جائیں گے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5126]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (2449)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ هُوَ المُفْلِسُ؟)
مفلس کون ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5127
5127 - وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟". قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ. فَقَالَ:"إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا  ، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جس شخص کے پاس درہم ہوں نہ مال و متاع، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے مفلس وہ شخص ہے جو روزِ قیامت نماز، روزے اور زکاۃ لے کر آئے گا اور وہ بھی آ جائے گا جسے اس نے گالی دی ہو گی، جس کسی پر بہتان لگایا ہو گا، جس کسی کا مال کھایا ہو گا، جس کسی کا خون بہایا ہو گا اور جس کسی کو مارا پیٹا ہو گا، اس (مظلوم) کو اس کی نیکیوں میں سے نیکیاں دے دی جائیں گی، اور اگر اس کے ذمے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان (حق داروں) کے گناہ لے کر اس شخص پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5127]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (59/ 2581)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يَوْمَ القِيَامَةِ سَتُرَدُّ الحُقُوقُ لِأَصْحَابِهَا)
قیامت کے دن سب کے حق دلوائے جائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5128
5128 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَتُؤَدَّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَذَكَرَ حَدِيثَ جَابِرٍ:"اتَّقَوُا الظُّلْمَ". فِي"بَابِ الْإِنْفَاقِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم روز قیامت حق داروں کو ان کے حقوق ضرور ادا کرو گے، حتیٰ کہ سینگوں والی بکری سے سینگوں کے بغیر بکری کو بدلہ دلایا جائے گا۔“ رواہ مسلم۔ اور جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: ”ظلم سے بچو۔“ باب الانفاق میں ذکر کی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5128]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (60/ 2582)
حديث جابر تقدم (1865)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَزَاءُ الظُّلْمِ بِالإِحْسَانِ)
ظلم کا بدلہ نیکی سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5129
الْفَصْلُ الثَّانِي 5129 - عَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ. وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” «إِمَّعَةً» نہ بنو، (وہ اس طرح کہ) تم کہو: اگر لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے، اور اگر انہوں نے ظلم کیا تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ تم اپنے آپ سے عزم کرو کہ اگر لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو تم بھی اچھا سلوک کرو گے اور اگر انہوں نے برا سلوک کیا تو تم ظلم نہیں کرو گے۔“ (رواہ الترمذی، اسنادہ حسن) [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5129]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2007 وقال: حسن غريب)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (نَصِيحَةُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لِلسَّيِّدِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو نصیحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5130
5130 - وَعَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلَا تُكْثِرِي. فَكَتَبَتْ: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَا اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ  كَفَاهُ اللَّهُ مَئُونَةَ النَّاسِ، وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ  وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ"وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام خط لکھا کہ آپ اختصار کے ساتھ مجھے وصیت لکھیں، چنانچہ انہوں نے لکھا: «السَّلَامُ عَلَيْكَ» ”تم پر سلامتی ہو“، «أَمَّا بَعْدُ!» ”حمد و ثنا کے بعد!“ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص لوگوں کی ناراضی کے بدلے میں اللہ کی رضا تلاش کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں کے شر سے کافی ہو جاتا ہے، اور جو شخص اللہ کی ناراضی کے بدلے میں لوگوں کی خوشی تلاش کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے۔“ «وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ» ”اور تم پر سلامتی ہو“۔ [سندہ ضعیف، رواہ الترمذی] [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5130]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2414)
٭ رجل من أھل المدينة مجھول و روي ابن حبان (الإحسان: 277) عن عائشة رضي الله عنھا أن رسول الله ﷺ قال:
((من أرضي الناس بسخط الله کفاه الله و من أسخط الله برضا الناس و کله الله إلي الناس .)) وسنده صحيح و رواه أحمد في الزھد (ص 164 ح 908) عن عائشة موقوفًا وسنده صحيح و حديث ابن حبان و أحمد يغني عن حديث الترمذي .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں