🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (أَعْظَمُ الظُّلْمِ؟)
سب سے بڑا ظلم؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5131
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 5131 - عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ: الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ  . شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَيْسَ ذَاكَ؟ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ، أَلَمْ تَسْمَعُوا قَوْلَ لُقْمَانَ لِابْنِهِ: يَابُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ:"لَيْسَ هُوَ كَمَا تَظُنُّونَ، إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب یہ آیت ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ [سورة الأنعام: 82] ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی“ نازل ہوئی تو یہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم پر گراں گزری اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے آپ پر ظلم نہیں کیا؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس سے یہ مراد نہیں، بلکہ اس سے مراد شرک ہے، کیا تم نے لقمان علیہ السلام کا قول نہیں سنا جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة لقمان: 13] ”بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے“؟“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”ایسے نہیں جو تم گمان کرتے ہو، یہ تو وہ ہے جیسے لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا تھا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5131]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4776) و مسلم (124/197)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَسْوَأُ إِنْسَانٍ مَنْ يُفْسِدُ آخِرَتَهُ لِأَجْلِ دُنْيَا غَيْرِهِ)
دوسروں کی دنیا کے بدلے اپنی آخرت خراب کرنے والا بدترین انسان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5132
5132 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبْدٌ أَذْهَبَ آخِرَتَهُ بِدُنْيَا غَيْرِهِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”روزِ قیامت مقام و مرتبے کے لحاظ سے وہ شخص بدترین ہو گا جس نے کسی کی دنیا (بنانے) کی خاطر اپنی آخرت ضائع کر لی۔“ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5132]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (3966) [و حسنه البوصيري المتأخر!]
٭ فيه عبد الحکيم السدوسي لم يوثقه غير ابن حبان من المتقدمين وروي عنه جماعة .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَلَاثَةُ أَقْسَامِ الأَعْمَالِ)
اعمال کی تین اقسام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5133
5133 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الدَّوَاوِينُ ثَلَاثَةٌ: دِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ. يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُهُ اللَّهُ: ظُلْمُ الْعِبَادِ فِيمَا بَيْنَهُمْ حَتَّى يَقْتَصَّ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، وَدِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ ظُلْمُ الْعِبَادِ فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ اللَّهِ، فَذَاكَ إِلَى اللَّهِ: إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ تَجَاوَزَ عَنْهُ".
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اعمال نامے تین قسم کے ہیں، ایک وہ اعمال نامہ جسے اللہ معاف نہیں فرمائے گا، وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 48] ”بے شک اللہ معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے“، ایک وہ اعمال نامہ ہے جسے اللہ نہیں چھوڑے گا، وہ ہے بندوں کا آپس میں ظلم کرنا حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے سے بدلہ لے لیں، اور ایک وہ نامہ اعمال ہے جس کی اللہ پرواہ نہیں کرے گا، وہ ہے بندوں کا اپنے اور اللہ کے درمیان ظلم کرنا، یہ اللہ کے سپرد ہے، اگر وہ چاہے تو اسے عذاب دے دے اور اگر چاہے تو اس سے درگزر فرمائے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5133]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (7473، نسخة محققة: 7069. 7070) [و أحمد (240/6 ح 26559) ]
٭ صححه الحاکم (4/ 575) فتعقبه الذهبي، قال: ’’صدقة (بن موسي) ضعفوه و ابن بابنوس فيه جھالة‘‘ و صححه الحاکم مرة أخري حديثه الآخر (392/2) ووافقه الذهبي، قلت: صدقة بن موسي ضعفه الجمھور فھو ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (احْذَرُوا دَعْوَةَ المَظْلُومِ)
مظلوم کی آہ سے بچو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5134
5134 - وَعَنْ عَلِيٍّ - رِضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ  ، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى حَقَّهُ، وَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمْنَعُ ذَا حَقٍّ حَقَّهُ".
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مظلوم کی بددعا سے بچو، وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے اور بے شک اللہ حق دار سے اس کا حق نہیں روکتا۔“ (إسناده ضعيف جدا، رواه البيهقي في شعب الإيمان) [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5134]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه البيھقي في شعب الإيمان (7464، نسخة محققة: 7061)
٭ فيه صالح بن حسان (کمافي النسخة المحققة):وھو متروک جدًا .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مُسَاعَدَةُ الظَّالِمِ تُخْرِجُ مِنْ دَائِرَةِ الإِسْلَامِ)
ظالم کی معاونت دائرہ اسلام سے خارج کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5135
5135 - وَعَنْ أَوْسِ بْنِ شُرَحْبِيلَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُقَوِّيَهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ  فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ.
اوس بن شرحبیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص ظالم کے ساتھ چلتا ہے تاکہ وہ اس کو تقویت پہنچائے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے، ایسا شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔“ (إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5135]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (7675، نسخة محققة: 7269) [والطبراني في الکبير (619) ]
٭ قال الھيثمي: ’’و فيه عياش بن مؤنس و لم أجد من ترجمه‘‘ (مجمع الزوائد 205/4) قلت: و ثقه ابن حبان وحده فھو مجھول الحال و أبو الحسن نمران بن مخمر: مجھول الحال .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بِسَبَبِ ظُلْمِ الظَّالِمِ يَمُوتُ طَائِرُ الحُبَارَى فِي عُشِّهِ)
ظالم کے ظلم کی وجہ سے حباریٰ پرندہ بھی اپنے گھونسلے میں مر جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5136
5136 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: إِنَّ الظَّالِمَ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ  . فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: بَلَى وَاللَّهِ، حَتَّى الْحُبَارَى لَتَمُوتُ فِي وَكْرِهَا هُزْلًا لِظُلْمِ الظَّالِمِ. رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ظالم شخص اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم! حتیٰ کہ سرخاب ظالم کے ظلم کی وجہ سے دبلی پتلی ہو کر اپنے آشیانے ہی میں مر جاتی ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے چاروں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں۔ اسنادہ ضعیف، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5136]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (7479، نسخة محققة: 7075)
٭ عمر بن جابر الحنفي: مقبول أي مجھول الحال و ثقه ابن حبان وحده و إسماعيل بن حکيم الخزاعي لم أجد من وثقه و أما نعيم بن حماد فھو صدوق حسن الحديث و لم يصب من ضعفه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِزَالَةُ الشَّرِّ بِاليَدِ)
برائی کو ہاتھ سے مٹا دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5137
(22) بَابُ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5137 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، اگر وہ طاقت نہ رکھے تو پھر اپنی زبان سے، اگر وہ (اس کی بھی) استطاعت نہ رکھے تو پھر اپنے دل سے (بدلنے کے لیے منصوبہ بندی کرے اور اس سے نفرت رکھے)، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5137]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (78/ 49)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (العَافِيَةُ فِي مَنْعِ الشَّرِّ)
برائی سے روکنے میں ہی عافیت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5138
5138 - وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَثَلُ الْمُدَاهِنِ فِي حُدُودِ اللَّهِ  وَالْوَاقِعِ فِيهَا مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُّوا سَفِينَةً، فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا، وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلَاهَا، فَكَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّ بِالْمَاءِ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا فَتَأَذَّوْا بِهِ، فَأَخَذَ فَأْسًا، فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: مَا لَكَ؟ قَالَ: تَأَذَّيْتُمْ بِهِ وَلَا بُدَّ لِي مِنَ الْمَاءِ. فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ، وَإِنْ تَرَكُوهُ أَهْلَكُوهُ وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی حدود (قائم کرنے) میں سستی کرنے والے اور ان میں مبتلا ہونے والے شخص کی مثال اس قوم کی مثل ہے جنہوں نے ایک کشتی (میں سوار ہونے) کے متعلق قرعہ اندازی کی تو ان میں سے بعض اس کی نچلی منزل پر اور بعض بالائی منزل پر بیٹھ گئے، جو نچلی منزل میں تھے وہ پانی لینے کے لیے بالائی منزل والوں کے اوپر سے گزرتے، جس سے اوپر والے تکلیف محسوس کرتے، لہٰذا نچلی منزل والوں نے کلہاڑا پکڑا اور کشتی کے نچلے حصے میں سوراخ کرنے لگے، چنانچہ اوپر والے ان کے پاس آئے اور پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ (ہمارے اوپر جانے سے) تمہیں تکلیف ہوتی ہے اور پانی بھی ہماری مجبوری ہے، اگر اوپر والوں نے اس کے ہاتھ روک لیے تو وہ اسے بھی بچا لیں گے اور اپنے آپ کو بھی بچا لیں گے، اور اگر اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیں گے تو وہ اسے بھی ہلاک کر دیں گے اور اپنے آپ کو بھی ہلاک کر لیں گے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5138]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6286)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَاقِبَةُ مَنْ لَا يَعْمَلُ مُخْزِيَةٌ)
خود عمل نہ کرنے والے کا عبرت ناک انجام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5139
5139 - وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ فِي النَّارِ  فَيَطْحَنُ فِيهَا كَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ، فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ فَيَقُولُونَ أَيْ فُلَانُ! مَا شَأْنُكَ؟ أَلَيْسَ كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ: كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”روزِ قیامت ایک آدمی لایا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا، اس کی انتڑیاں آگ میں نکل آئیں گی، وہ ان کے گرد اس طرح چکر لگائے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد چکر لگاتا ہے، جہنمی اس پر جمع ہو جائیں گے اور اس سے دریافت کریں گے: اے فلاں! تمہیں کیا ہوا؟ کیا تو ہمیں نیکی کرنے کا حکم نہیں دیتا تھا اور ہمیں برائی سے نہیں روکتا تھا؟ وہ کہے گا: میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود نیکی نہیں کرتا تھا، اور میں تمہیں برائی سے روکتا تھا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5139]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2267) و مسلم (51/ 2989)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَرْضِيَّةُ الأَمْرِ بِالمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ المُنْكَرِ)
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی فرضیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5140
الْفَصْلُ الثَّانِي 5140 - عَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ عِنْدِهِ ثُمَّ لَتَدْعُنَّهُ وَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تم پر اپنا عذاب نازل کر دے، پھر تم اس سے دعائیں کرو گے لیکن وہ قبول نہ ہوں گی۔“ حسن، «رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5140]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (2169 وقال: حسن)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں