مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (ثَلَاثُ صِدْقَاتٍ)
تین سچائیاں
حدیث نمبر: 5102
5102 - وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ يَتَعَجَّبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَامَ فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ. قَالَ: كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ". ثُمَّ قَالَ:"يَا أَبَا بَكْرٍ! ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ: مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلِمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَهُ ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةً ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَ اللَّهُ بِهَا قِلَّةً". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دی، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ تعجب کر رہے تھے اور مسکرا رہے تھے، جب اس نے زیادہ بدتمیزی کی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی کسی بات کا جواب دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس گئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ مجھے گالیاں دیے جا رہا تھا جبکہ آپ تشریف فرما تھے، جب میں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھ فرشتہ تھا جو اسے جواب دے رہا تھا، اور جب تم نے اسے جواب دیا تو شیطان واقع ہو گیا۔“ پھر فرمایا: ”ابوبکر! تین چیزیں مکمل طور پر حق ہیں؛ جس شخص کی حق تلفی کی جائے اور وہ اللہ عزوجل کی خاطر اس سے چشم پوشی کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ اسے قوت و نصرت عطا فرماتا ہے، جو شخص صلہ رحمی کی خاطر عطیہ دیتا ہے تو اللہ اس کے بدلے میں اسے زیادہ عطا فرماتا ہے اور جو شخص کثرت (مال) کی خاطر دست سوال دراز کرتا ہے تو اللہ مزید قلت فرما دیتا ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5102]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (436/2 ح 9622) [و أبو داود (4897 مختصرًا) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (العَائِلَةُ ذَاتُ الخَيْرِ)
بھلائی والا خاندان
حدیث نمبر: 5103
5103 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يُرِيدُ اللَّهُ بِأَهْلِ بَيْتٍ رِفْقًا إِلَّا نَفَعَهُمْ ، وَلَا يَحْرِمُهُمْ إِيَّاهُ إِلَّا ضَرَّهُمْ"رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جس گھر والوں کے ساتھ نرمی کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ انہیں نفع پہنچاتا ہے، اور جس گھر والوں کو اس سے محروم کر دیتا ہے تو وہ انہیں اس کی وجہ سے نقصان پہنچا دیتا ہے۔“ صحیح، رواہ البیہقی فی شعب الإیمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5103]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه البيھقي في شعب الإيمان (6557، نسخة ثانية: 6137 وسنده ضعيف)
٭ و له شاھد في معرفة الصحابة لأبي نعيم (1877/4 ح 4722) بسند صحيح عن عبيد الله بن معمر رضي الله عنه و اختلف في صحابيته و رجح الحافظ ابن حجر و الذھبي بأنه صحابي (انظر تجريد أسماء الصحابة للذھبي 364/1 والإصابة)»
٭ و له شاھد في معرفة الصحابة لأبي نعيم (1877/4 ح 4722) بسند صحيح عن عبيد الله بن معمر رضي الله عنه و اختلف في صحابيته و رجح الحافظ ابن حجر و الذھبي بأنه صحابي (انظر تجريد أسماء الصحابة للذھبي 364/1 والإصابة)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَابٌ)
حدیث نمبر:
Moved
قال الشيخ الألباني:
--. (نَصِيحَةُ ضَبْطِ الغَضَبِ)
غصے پر قابور رکھنے کی نصیحت
حدیث نمبر: 5104
[ 20 ] بَابُ الْغَضَبِ وَالْكِبْرِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5104 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي. قَالَ:"لَا تَغْضَبْ". فَرَدَّدَ ذَلِكَ مِرَارًا قَالَ:"لَا تَغْضَبْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی: مجھے وصیت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”غصہ نہ کیا کر۔“ اس نے کئی بار یہی درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ہر بار یہی) فرمایا: ”غصہ نہ کیا کر۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5104]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6016)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (القَوِيُّ مَنْ يَتَغَلَّبُ عَلَى غَضَبِهِ)
مضبوط وہ جو اپنے غصے پر قابو پا لے
حدیث نمبر: 5105
5105 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کو پچھاڑنے والا شخص زیادہ طاقتور نہیں، بلکہ طاقتور شخص تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5105]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6114) و مسلم (107/ 2609)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَنْ هُوَ الجَنِّيُّ وَمَنْ هُوَ الجَهَنَّمِيُّ؟)
جنتی اور جہنمی کون؟
حدیث نمبر: 5106
5106 - وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ:"كُلُّ جَوَّاظٍ زَنِيمٍ مُتَكَبِّرٍ".
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنتیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر ضعیف شخص کہ لوگ اسے ضعیف و ناتواں سمجھیں، اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لے تو وہ اسے پورا فرما دے۔ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر سرکش، بخیل اور متکبر۔“ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”ہر بخیل، کمینہ اور متکبر شخص۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5106]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4918) و مسلم (47، 46/ 2853)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَنْ لَهُ إِيمَانٌ بِقَدْرِ حَبَّةِ خَرْدَلٍ لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ)
رائی کے برابر ایمان والا بھی دوزخ میں نہیں جائے گا
حدیث نمبر: 5107
5107 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ جہنم میں نہیں جائے گا اور جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5107]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (91/148)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (التَّكَبُّرُ وَجَحْدُ الحَقِّ وَاحْتِقَارُ النَّاسِ)
تکبر، حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا
حدیث نمبر: 5108
5108 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ". فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنًا. قَالَ:"إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ. الْكِبَرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اور اس کے جوتے اچھے ہوں۔ (کیا یہ بھی تکبر ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ صاحبِ جمال ہے اور وہ جمال کو پسند فرماتا ہے، تکبر سے مراد، حق بات کو ٹھکرانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5108]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (91/147)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (ثَلَاثَةُ أَشْقِيَاءَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ تَعَالَى)
تین بدبخت جن سے اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 5109
5109 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ". وَفِي رِوَايَةٍ:"وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: شَيْخٌ زَانٍ، وَمَلِكٌ كَذَّابٌ، وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ روزِ قیامت کلام نہیں فرمائے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا۔“ ایک روایت میں ہے: ”اور نہ ہی ان کی طرف نظرِ رحمت سے دیکھے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا: بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ اور متکبر فقیر۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5109]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (107/172)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (صِفَاتُ اللَّهِ تَعَالَى)
اللہ تعالیٰ کی صفات
حدیث نمبر: 5110
5110 - وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: الْكِبْرَيَاءُ رِدَائِي، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي ، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَدْخَلْتُهُ النَّارَ". وَفِي رِوَايَةٍ:"قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ"؟ رَوَاهُ مُسْلِمٌ [ ص: 3191 ]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے، جو شخص ان دونوں میں سے کسی ایک کو کھینچے گا میں اسے آگ میں داخل کروں گا۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”میں اسے آگ میں پھینکوں گا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5110]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (136/ 2620)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح