🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (فَائِدَةُ التَّقْوَى)
تقویٰ کا فائدہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5306
5306 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ آيَةً لَوْ أَخَذَ النَّاسُ بِهَا لَكَفَتْهُمْ: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارِمِيُّ.
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر لوگ اس پر عمل کریں تو وہ ان کے لیے کافی ہو جائے: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا * وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [سورة الطلاق: 2-3] ”جو شخص اللہ سے ڈر جائے تو وہ اس کے لیے (تمام مشکلات سے) نکلنے کی راہ پیدا فرما دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق فراہم کرے گا جس کے بارے میں اسے وہم و گمان بھی نہ تھا۔“”اس کی سند ضعیف ہے، اسے امام احمد، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5306]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (5/ 178 ح 21884) و ابن ماجه (4220) و الدارمي (2/ 303 ح 2728)
٭ أعله البوصيري بالانقطاع لأن أبا السليل لم يدرک أبا ذر رضي الله عنه کما في التهذيب وغيره .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنِي هَذِهِ الآيَةَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ آیت سکھائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5307
5307 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ آیت سکھائی: ” «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ» ﴿إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ﴾ [سورة الذاريات: 58] ”بے شک میں ہی رزق عطا کرنے والا، قوت و طاقت والا ہوں۔“”ابوداؤد، ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ صحیح، رواہ ابوداؤد و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5307]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (3993) و الترمذي (2940)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةُ الإِنْفَاقِ عَلَى طُلَّابِ الدِّينِ)
دین کے طالب علموں پرخرچ کرنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5308
5308 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ، فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ:"لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا جبکہ دوسرا کاروبار کیا کرتا تھا، کاروبار کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کی، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”شاید کہ تمہیں اسی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح غریب ہے، اس کی سند حسن ہے، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5308]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2345)»
قال الشيخ الألباني: إِسْنَاده جيد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَمَرَاتُ التَّوَكُّلِ)
توکل کے ثمرات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5309
5309 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّ قَلْبَ ابْنِ آدَمَ بِكُلِّ وَادٍ شُعْبَةٌ، فَمَنْ أَتْبَعَ قَلْبَهُ الشُّعَبَ كُلَّهَا لَمْ يُبَالِ اللَّهُ بِأَيِّ وَادٍ أَهْلَكَهُ، وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ كَفَاهُ الشُّعَبَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بے شک انسان کے دل کا ہر وادی میں حصہ ہے، جو شخص اپنے دل کو تمام حصوں کے پیچھے لگاتا ہے تو اللہ کو اس کی پرواہ نہیں خواہ وہ اسے کسی بھی وادی میں ہلاک کر دے، اور جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہ تمام حصوں سے کفایت کر جاتا ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5309]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (4166)
٭ فيه صالح بن رزين: مجھول وقال الذهبي: ’’حديثه منکر‘‘ و السند ضعفه البوصيري من أجل صالح ھذا .»
قال الشيخ الألباني:
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَعْدُ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى الطَّاعَةِ)
اللہ تعالیٰ کا اطاعت کرنے پر وعدہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5310
5310 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: لَوْ أَنَّ عَبِيدِي أَطَاعُونِي لَأَسْقَيْتُهُمُ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ  ، وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمُ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ، وَلَمْ أُسْمِعْهُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تمہارے رب عز وجل نے فرمایا: اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں رات کے وقت ان پر بارش برساؤں اور دن کے وقت ان پر سورج نکالوں اور انہیں گرج کی آواز بھی نہ سناؤں۔“ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ أَحْمَدُ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5310]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (2/ 359 ح 8693) [و الحاکم (4/ 256) ]
٭ صدقة بن موسي الدقيقي السلمي ضعيف ضعفه الجمھور .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اللَّهُ تَعَالَى يُرْزِقُ مِنَ الغَيْبِ)
اللہ تعالیٰ نے غیب سے رزق پہنچایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5311
5311 - وَعَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ خَرَجَ إِلَى الْبَرِيَّةِ، فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَى فَوَضَعَتْهَا، وَإِلَى التَّنُّورِ، فَسَجَرَتْهُ ثُمَّ قَالَتْ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا، فَنَظَرَتْ فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدِ امْتَلَأَتْ  . قَالَ: وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ، فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا. قَالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ، قَالَ: أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا؟ قَالَتِ امْرَأَتُهُ: نَعَمْ، مِنْ رَبِّنَا، وَقَامَ إِلَى الرَّحَى، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ:"أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا لَمْ تَزَلْ تَدُورُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی اپنے اہل و عیال کے پاس گیا، جب اس نے ان کی (بھوک کی) ضرورت دیکھی تو وہ (عجز و انکساری کرنے کے لیے) صحرا کی طرف چلا گیا، جب اس کی اہلیہ نے دیکھا تو وہ چکی کی طرف گئی اور اسے درست کیا اور تندور کی طرف گئی اور اسے جلایا، پھر اس عورت نے دعا کی: اے اللہ! ہمیں رزق عطا فرما، اس نے دیکھا کہ اچانک ٹب (آٹے سے) بھر چکا ہے، راوی بیان کرتے ہیں، وہ تندور کی طرف گئی تو اسے بھی (روٹیوں سے) بھرا ہوا پایا، راوی بیان کرتے ہیں، شوہر واپس آیا تو اس نے کہا: کیا میرے بعد تمہیں کوئی چیز ملی ہے؟ اہلیہ نے کہا: جی ہاں! ہمارے رب کی طرف سے، وہ چکی کی طرف گیا (تاکہ اسے دیکھے)، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اس (چکی کے پاٹ) کو نہ اٹھاتا تو وہ روز قیامت تک چلتی رہتی۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5311]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (2/ 513 ح 10667) [و الطبراني في الأوسط (5584) ]
٭ ھشام بن حسان مدلس و عنعن عن محمد بن سيرين إلخ .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الرِّزْقُ يَبْحَثُ عَنِ العَبْدِ)
رزق بندے کو تلاش کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5312
5312 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّ الرِّزْقَ لَيَطْلُبُ الْعَبْدَ كَمَا يَطْلُبُهُ أَجَلُهُ"رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي (الْحِلْيَةِ) .
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”یقیناً رزق بندے کو اس طرح تلاش کرتا ہے جس طرح اس کی موت اسے تلاش کرتی ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابونعیم فی حلیۃ الاولیاء۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5312]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو نعيم في حلية الأولياء (6/ 86)
٭ الوليد بن مسلم کان يدلس تدليس التسوية و لم يصرح بالسماع المسلسل و للحديث شاھدان ضعيفان في الحلية (90/7، 246) و الکامل لابن عدي وغيرهما .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَاقِعَةُ نَبِيٍّ)
ایک نبی کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5313
5313 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَأَدْمَوْهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ:"اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”گویا میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی کا واقعہ بیان کر رہے ہیں، ان کی قوم نے انہیں مارا اور لہولہان کر دیا اور وہ اپنے چہرے سے خون صاف کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» ”اے اللہ! میری قوم کی مغفرت فرما، کیونکہ وہ شعور نہیں رکھتے۔““ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5313]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3477) و مسلم (105/ 1792)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَهَمِّيَّةُ الإِخْلَاصِ)
اخلاص کی اہمیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5314
[ 5 ] بَابُ الرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5314 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تمہاری صورتوں اور اموال کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5314]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (34/ 2564)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اللَّهُ تَعَالَى يَرْفُضُ المُشْرِكَ مَعَ شِرْكِهِ)
شرک کرنے والے کو اللہ تعالیٰ شرک سمیت ٹھکرا دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5315
5315 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ". وَفِي رِوَايَةٍ:"فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ، هُوَ لِلَّذِي عَمِلَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں (دوسرے) تمام شریکوں کے مقابلے میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں، جو کوئی ایسا عمل کرے جس میں وہ میرے ساتھ میرے علاوہ کسی اور کو بھی شریک کرے تو میں اس کو اس کے شرک سمیت چھوڑ دیتا ہوں۔“ ایک اور روایت میں ہے: ”میں اس (عمل کرنے والے) سے بیزار ہوں، وہ (عمل) اسی کے لیے ہے جس کے لیے اس نے کیا ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5315]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (46/ 2985)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں