مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا تَظُنُّوا شَيْئًا عَنِ الحَالَةِ الظَّاهِرَةِ لِلنَّاسِ)
لوگوں کی ظاہری حالت پر کوئی گمان نہ کیا جائے
حدیث نمبر: 5236
5236 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ:"مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟"فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ: هَذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ. قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟"فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ، هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لَا يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لَا يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ لَا يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے فرمایا: ”اس (شخص) کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟“ اس نے کہا: (یہ) معزز لوگوں میں سے ہے، اللہ کی قسم! یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں پیغام نکاح بھیجے تو اس کی شادی کر دی جائے، اور اگر کہیں سفارش کرے تو وہ قبول کی جائے، راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، پھر ایک اور آدمی گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اس شخص کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ شخص غریب مسلمانوں میں سے ہے، یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں پیغام نکاح بھیجے تو اس کی شادی نہ کی جائے اور اگر کہیں سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے اور اگر بات کرے تو اس کی بات نہ سنی جائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (تنہا) شخص اس شخص جیسے لوگوں سے بھری زمین سے بہتر ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5236]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6447) و مسلم (لم أجده)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (فَقْرُ مَوْلَى الكَوْنِ وَفَاقَتُهُ)
مولائے کائنات کا فقر و فاقہ
حدیث نمبر: 5237
5237 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو دن متواتر جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5237]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5416) و مسلم (22/ 2970)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (سَبَبُ عَدَمِ أَكْلِ السَّيِّدِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِشِوَاءِ الضَّأْنِ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھنی ہوئی بکری نہ کھانے کا سبب
حدیث نمبر: 5238
5238 - وَعَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، فَدَعَوْهُ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ، وَقَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
سعید مقبری رحمہ اللہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، ان کے سامنے بھنی ہوئی بکری تھی، انہوں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور آپ نے پیٹ بھر کر جو کی روٹی نہیں کھائی۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5238]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5414)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (لَا مَسَاءَ إِلَّا وَفِيهِ صَاعٌ مِنَ القَمْحِ)
کوئی شام ایسی نہیں جس میں ایک صاع گندم ہو
حدیث نمبر: 5239
5239 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دِرْعًا لَهُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ يَهُودِيٍّ ، وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ:"مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ بُرٍّ وَلَا صَاعُ حَبٍّ، وَإِنَّ عِنْدَهُ لَتِسْعُ نِسْوَةٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جَو کی روٹی اور رنگت بدلی ہوئی چربی لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئے، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے پاس گروی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جَو لیے تھے، اور میں نے انس رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں شام کے وقت نہ ایک صاع گندم ہوتی تھی اور نہ ایک صاع کوئی اور اناج ہوتا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن تھیں۔ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5239]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5414)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الكُفَّارُ يُعْطَوْنَ فِي الدُّنْيَا فَقَطْ)
کافروں کو دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 5240
5240 - وَعَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ، قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ، مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ ; فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ! فَقَالَ:"أَوَ فِي هَذَا أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا"وَفِي رِوَايَةٍ:"أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ؟"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ نے کوئی بستر وغیرہ نہیں بچھایا ہوا تھا، اور اس چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو پر تھے، اور آپ نے چمڑے کے تکیے پر ٹیک لگائی ہوئی تھی، جس میں کھجور کے درخت کے پتے بھرے ہوئے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کے حضور دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی امت پر فراخی فرمائے، کیونکہ فارسیوں اور رومیوں پر بہت نوازشات ہیں، حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ابن خطاب! کیا تم ابھی تک اسی مقام پر ہو؟ یہ (کفار) وہ لوگ ہیں کہ انہیں ان کی لذتیں اس دنیا کی زندگی میں جلد عطا کر دی گئی ہیں۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”کیا تم خوش نہیں کہ ان کے لیے دنیا میں ہوں اور ہمارے لیے آخرت میں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5240]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2468) و مسلم (31، 30 / 1479)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (ضِيقُ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ)
اصحاب صفہ کی تنگ دستی
حدیث نمبر: 5241
5241 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ سَبْعِينَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ ، مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، إِمَّا إِزَارٌ وَإِمَّا كِسَاءٌ، قَدْ رُبِطُوا فِي أَعْنَاقِهِمْ، فَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ نِصْفَ السَّاقَيْنِ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الْكَعْبَيْنِ فَيَجْمَعُهُ بِيَدِهِ كَرَاهِيَةَ أَنْ تُرَى عَوْرَتُهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ستر اصحابِ صفہ سے ملاقات ہوئی ہے، ان میں سے کسی ایک آدمی پر بھی بڑی چادر نہیں تھی، ان کے پاس یا تو ایک ایک تہبند تھا یا ایک چادر تھی، انہوں نے اس کے کنارے کو گردنوں کے ساتھ باندھ رکھا تھا، ان میں سے کچھ چادریں ایسی تھیں جو نصف پنڈلیوں تک پہنچتی تھیں اور کچھ کی ٹخنوں تک پہنچتی تھیں، اور وہ اسے اپنے ہاتھ کے ساتھ اکٹھا کرتا تھا کہ کہیں اس کا ستر نہ کھل جائے۔ [رواہ البخاری] [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5241]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (442)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (يَنْبَغِي النَّظَرُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَكَ)
اپنے سے کم تر کو دیکھنا چاہے
حدیث نمبر: 5242
5242 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ، قَالَ:"انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مال اور صورت و جمال میں اپنے سے بہتر شخص کو دیکھے تو وہ اپنے سے کمتر شخص کو دیکھ لے۔“ اور مسلم کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(دنیوی امور میں) اپنے سے کمتر شخص کو دیکھو اور اپنے سے بہتر شخص کو نہ دیکھو، کیونکہ یہ زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ کی ان نعمتوں کو حقیر نہ جانو جو اس نے تم پر انعام کی ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5242]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6490) و مسلم (9، 8 / 2963)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بُشْرَى لِلفُقَرَاءِ وَالمَسَاكِينِ)
فقیروں مسکینوں کے لیے خوش خبری
حدیث نمبر: 5243
الْفَصْلُ الثَّانِي 5243 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِخَمْسِمِائَةِ عَامٍ نِصْفِ يَوْمٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فقراء مال داروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے جو کہ آدھا دن ہے۔“ (حسن، رواہ الترمذی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5243]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2353 وقال: غريب) و البيھقي في شعب الإيمان (10507)
٭ الحارث بن النعمان: ضعيف و للحديث شواھد کلھا ضعيفة .»
٭ الحارث بن النعمان: ضعيف و للحديث شواھد کلھا ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (الفُقَرَاءُ وَالمَسَاكِينُ يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ قَبْلَ أَرْبَعِينَ سَنَةً)
مسکین اور فقراء جنت میں چالیس سال پہلے داخل ہوں گے
حدیث نمبر: 5244
5244 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا ، وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:"إِنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا، يَا عَائِشَةُ! لَا تَرُدِّي الْمِسْكِينَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، يَا عَائِشَةُ أَحِبِّي الْمَسَاكِينَ وَقَرِّبِيهِمْ، فَإِنَّ اللَّهَ يُقَرِّبُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي (شُعَبِ الْإِيمَانِ) .
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ» ”اے اللہ! مجھے مسکین زندہ رکھنا، مسکین ہی فوت کرنا اور مجھے مساکین کے گروہ میں جمع فرمانا۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ وہ مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے، اے عائشہ! کسی مسکین کو خالی ہاتھ نہ موڑنا خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہو، اے عائشہ! مساکین سے محبت کرنا، انہیں قریب رکھنا چنانچہ روزِ قیامت اللہ تجھے (اپنے) قریب کرے گا۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی والبیہقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5244]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2352) وقال: ’’غريب‘‘-والبيهقي في شعب الإيمان (10507) * الحارث بن نعمان: ضعيف، وللحديث شواهد کلھا ضعيفة.»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (الفُقَرَاءُ وَالمَسَاكِينُ يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ قَبْلَ أَرْبَعِينَ سَنَةً، بِرِوَايَةِ ابْنِ مَاجَةَ)
مسکین اور فقراء جنت میں چالیس سال پہلے داخل ہوں گے، براویت ابن ماجہ
حدیث نمبر: 5245
5245 - وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ إِلَى قَوْلِهِ (فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ) .
اور ابن ماجہ نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے «وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ» ”مساکین کے گروہ میں اٹھا“ تک روایت کیا ہے۔ اس کی سند ضعیف ہے، اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5245]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (4126)
٭ يزيد بن سنان: ضعيف و أبو المبارک مجھول و للحديث شواھد ضعيفة و لم يصب من صححه .»
٭ يزيد بن سنان: ضعيف و أبو المبارک مجھول و للحديث شواھد ضعيفة و لم يصب من صححه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف