مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (اشْكُرُوا اللَّهَ تَعَالَى عِنْدَ رُؤْيَةِ مَنْ هُوَ دُونَكُمْ)
اپنے سے کمتر آدمی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو
حدیث نمبر: 5256
5256 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا : مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ، فَاقْتَدَى بِهِ، وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ ; كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا. وَمَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ، وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَأَسِفَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنْهُ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ:"أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ"فِي بَابٍ بَعْدَ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دو خصلتیں جس شخص میں ہوں اللہ اسے شاکر صابر لکھ دیتا ہے، جو شخص اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھتا ہے اور پھر اس کی اقتدا کرتا ہے، اور دنیا کے معاملے میں وہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھتا ہے اور اللہ نے جو اس کو اس پر فضیلت عطا کی ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، تو اللہ اسے شکر گزار صبر کرنے والا لکھ دیتا ہے، اور جو شخص اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے برتر کو دیکھتا ہے اور جو چیز اسے نہیں ملی اس پر افسوس کرتا ہے تو اللہ اسے شاکر و صابر نہیں لکھتا۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: ”مہاجرین کی فقیر جماعت خوش ہو جاؤ“ فضائل القرآن کے باب کے بعد ذکر کی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5256]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2512)
٭ مثني بن الصباح: ضعيف .»
٭ مثني بن الصباح: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (بُشْرَى نَبَوِيَّةٌ لِلفُقَرَاءِ وَالمُهَاجِرِينَ)
فقراء مہاجرین کے لیے بشارتِ نبوی
حدیث نمبر: 5257
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 5257 - وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ قَالَ: أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَلَكَ مَسْكَنٌ تَسْكُنُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ قَالَ: فَإِنَّ لِي خَادِمًا قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْمُلُوكِ. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ! إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ. لَا نَفَقَةَ وَلَا دَابَّةَ وَلَا مَتَاعَ. فَقَالَ لَهُمْ: مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا، فَأَعْطَيْنَاكُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ، وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا". قَالُوا: فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَيْئًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوعبدالرحمن حبلی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا، ایک آدمی نے ان سے سوال پوچھا: کیا ہم مہاجر فقرا میں سے نہیں؟ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: کیا تمہاری بیوی ہے جس کے پاس تم رات بسر کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: کیا تیرے رہنے کے لیے گھر ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: تم تو مال داروں میں سے ہو، اس نے کہا: میرے پاس تو ایک خادم بھی ہے، انہوں نے فرمایا: تم تو بادشاہ ہو، ابوعبدالرحمن نے کہا کہ تین آدمی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، میں اس وقت ان کے پاس تھا، انہوں نے کہا: اے ابومحمد! اللہ کی قسم! ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، کوئی خرچہ ہے، نہ سواری اور نہ ہی ساز و سامان، انہوں نے انہیں فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم کچھ چاہو تو تم ہمارے پاس آنا، اللہ نے تمہارے لیے جو میسر فرمایا وہ ہم تمہیں عطا کریں گے، اور اگر تم چاہو تو ہم تمہارا معاملہ بادشاہ سے ذکر کریں گے؟ اور اگر تم چاہو تو صبر کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مہاجر فقرا روزِ قیامت مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔“ انہوں نے کہا: ہم صبر کرتے ہیں اور ہم کوئی چیز نہیں مانگیں گے۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5257]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (37/ 2979)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (دُخُولُ الفُقَرَاءِ وَالمُهَاجِرِينَ الجَنَّةَ قَبْلَ أَرْبَعِينَ سَنَةً)
فقراء اور مہاجرین کا چالیس سال پہلے جنت میں جانا
حدیث نمبر: 5258
5258 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحَلْقَةٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ قُعُودٌ إِذْ دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَعَدَ إِلَيْهِمْ، فَقُمْتُ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لِيُبْشِرْ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ بِمَا يَسُرُّ وُجُوهَهُمْ، فَإِنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِينَ عَامًا"قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَلْوَانَهُمْ أَسْفَرَتْ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ أَوْ مِنْهُمْ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا جبکہ فقراء مہاجرین کا بھی ایک حلقہ لگا ہوا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ ان کے حلقے میں شامل ہو گئے، میں بھی اٹھ کر ان کی طرف چلا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فقراء مہاجرین کو اس بات کی بشارت دی جائے جس سے ان کے چہرے خوش ہو جائیں، کیونکہ وہ مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں، میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے چمکنے لگے، اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، حتیٰ کہ میں نے تمنا کی کہ میں ان کے ساتھ ہوتا یا ان میں سے ہوتا۔ (صحیح، رواہ الدارمی) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5258]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الدارمي (2/ 339 ح 2847) [و النسائي في السنن الکبري 443/3 ح 5876) وسنده حسن و له شاھد عند مسلم في صحيحه (2979) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (سَبْعُ هَدَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سات ہدایات
حدیث نمبر: 5259
5259 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَمَرَنِي خَلِيلِي بِسَبْعٍ: أَمَرَنِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوَقِي ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهُنَّ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میرے خلیل نے مجھے سات چیزوں کے متعلق حکم فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”مساکین سے محبت کرنے اور ان کے قریب رہنے“ کا مجھے حکم فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ ”میں اپنے سے کم تر کی طرف دیکھوں اور جو مجھ سے (دنیا کے لحاظ سے) برتر ہے اس کی طرف نہ دیکھوں“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ”صلہ رحمی کا حکم فرمایا اگرچہ وہ قطع رحمی کریں“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ ”میں کسی سے کوئی چیز نہ مانگوں“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ ”میں حق بات کروں اگرچہ وہ کڑوی ہو“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ ”میں اللہ کے (حق کے) بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈروں“، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ”اللہ کے سوا کوئی طاقت اور قوت نہیں“ کثرت سے پڑھا کروں، کیونکہ وہ (کلمات) عرش کے نیچے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہیں۔ اسنادہ حسن، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5259]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (5/ 159 ح 21745)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (مَا يُحِبُّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند
حدیث نمبر: 5260
5260 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْجِبُهُ مِنَ الدُّنْيَا ثَلَاثَةٌ: الطَّعَامُ وَالنِّسَاءُ، وَالطِّيبُ ، فَأَصَابَ اثْنَيْنِ وَلَمْ يُصِبْ وَاحِدًا، أَصَابَ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ، وَلَمْ يُصِبِ الطَّعَامَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا کی تین چیزیں پسند تھیں: کھانا، عورتیں اور خوشبو، آپ کو دو چیزیں مل گئیں اور ایک نہ مل سکی، آپ کو عورتیں (ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن) اور خوشبو مل گئی لیکن (شکم سیر) کھانا نہ ملا۔“ (اسنادہ ضعیف، رواہ احمد) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5260]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (6/ 72 ح 24944)
٭ فيه رجل: مجھول و الحديث الآتي (5261) يغني عنه .»
٭ فيه رجل: مجھول و الحديث الآتي (5261) يغني عنه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (قُرَّةُ عَيْنَيَّ فِي الصَّلَاةِ)
میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں
حدیث نمبر: 5261
5261 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"حُبِّبَ إِلَيَّ الطِّيبُ وَالنِّسَاءُ، وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالنَّسَائِيُّ. وَزَادَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ بَعْدَ قَوْلِهِ (حُبِّبَ إِلَيَّ) :"مِنَ الدُّنْيَا".
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”خوشبو اور عورتیں میرے لیے پسندیدہ بنا دی گئی ہیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔“ احمد، نسائی اور ابن جوزی نے «حُبِّبَ إِلَيَّ» ”میرے لیے پسندیدہ بنا دی گئی ہیں“ کے بعد «مِنَ الدُّنْيَا» ”دنیا میں سے“ کا اضافہ نقل کیا ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ احمد والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5261]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (3/ 199 ح 13088) و النسائي (7/ 61 ح 3391)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (نَصِيحَةُ التَّجَنُّبِ مِنْ عَيْشِ الدُّنْيَا وَرَفَاهِيَتِهَا)
دنیاوی عیش و آرام سے بچنے کی نصیحت
حدیث نمبر: 5262
5262 - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا بَعَثَ بِهِ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ:"إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ ; فَإِنَّ عِبَادَ اللَّهِ لَيْسُوا بِالْمُتَنَعِّمِينَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: ”زیادہ ناز و نعمت کی زندگی سے بچنا، کیونکہ اللہ کے (مخلص) بندے زیادہ نعمت گزار نہیں ہوتے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5262]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (5/ 243 ح 22456) [و أبو نعيم في حلية الأولياء (5/ 155) ]
٭ مريح بن مسروق روي عنه جماعة ووثقه ابن حبان وحده و أرسل عن عمر ففي سماعه من معاذ نظر لأنه توفي قبل عمر رضي الله عنهما .»
٭ مريح بن مسروق روي عنه جماعة ووثقه ابن حبان وحده و أرسل عن عمر ففي سماعه من معاذ نظر لأنه توفي قبل عمر رضي الله عنهما .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (مَنْ رَضِيَ بِرِزْقٍ قَلِيلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْ عَمَلِهِ القَلِيلِ)
جو تھوڑے رزق پر راضی ہو اللہ تعالیٰ اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 5263
5263 - وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ رَضِيَ مِنَ اللَّهِ بِالْيَسِيرِ مِنَ الرِّزْقِ رَضِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِالْقَلِيلِ مِنَ الْعَمَلِ".
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی طرف سے ملنے والے تھوڑے سے رزق پر راضی ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے تھوڑے عمل سے راضی ہو جاتا ہے۔“ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ» ”اس کی سند ضعیف ہے“، «رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعْبِ الْإِيمَانِ» ”اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5263]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (4585، نسخة محققة: 4265)
٭ إسحاق بن محمد الفروي ضعيف ضعفه الجمھور و الراوي شک في سماعه من أبيه والسند منقطع .»
٭ إسحاق بن محمد الفروي ضعيف ضعفه الجمھور و الراوي شک في سماعه من أبيه والسند منقطع .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (مَنْ أَخْفَى حَاجَتَهُ يُرْزَقُهُ اللَّهُ تَعَالَى)
جو اپنی محتاجی کو چُھپا کر رکھے اللہ تعالیٰ اس کو رزق پہنچاتا ہے
حدیث نمبر: 5264
5264 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ جَاعَ أَوِ احْتَاجَ، فَكَتَمَهُ النَّاسُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَرْزُقَهُ رِزْقَ سَنَةٍ مِنْ حَلَالٍ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي (شُعَبِ الْإِيمَانِ) .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھوک میں مبتلا ہوا یا کسی چیز کا ضرورت مند ہوا اور اس نے اسے لوگوں سے چھپائے رکھا تو اللہ عزوجل پر حق ہے کہ وہ اسے سال بھر کے لیے رزقِ حلال عطا فرمائے۔“ دونوں روایتوں کو امام بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے، اس کی سند بہت زیادہ ضعیف ہے، اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5264]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه البيھقي في شعب الإيمان (10054، نسخة محققة: 9581)
٭ فيه أبو عبد الرحمٰن السلمي ضعيف جدًا، ولأعمش مدلس و عنعن إن صح السند إليه و علل أخري .»
٭ فيه أبو عبد الرحمٰن السلمي ضعيف جدًا، ولأعمش مدلس و عنعن إن صح السند إليه و علل أخري .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
--. (المُسْلِمُ الَّذِي يَتَّقِي الذُّنُوبَ هُوَ وَلِيُّ اللَّهِ تَعَالَى)
وہ مسلمان اللہ تعالیٰ کا دوست جو پاکدامن ہو
حدیث نمبر: 5265
[ ص: 3296 ] 5265 - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ الْفَقِيرَ الْمُتَعَفِّفَ أَبَا الْعِيَالِ". (رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ) .
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ اپنے اس مومن عیال دار بندے کو پسند کرتا ہے جو ضرورت مند ہونے کے باوجود سوال نہیں کرتا۔“ (اسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5265]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (4121)
٭ فيه موسي بن عبيدة ضعيف والقاسم بن مهران لم يثبت سماعه من عمران و فيه علة أخري و له شاھد ضعيف جدًا .»
٭ فيه موسي بن عبيدة ضعيف والقاسم بن مهران لم يثبت سماعه من عمران و فيه علة أخري و له شاھد ضعيف جدًا .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف