🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (ابْحَثُوا عَنِّي بَيْنَ الضُّعَفَاءِ)
مجھے کمزور لوگوں میں تلاش کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5246
5246 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"ابْغُونِي فِي ضُعَفَائِكُمْ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ - أَوْ تُنْصَرُونَ - بِضُعَفَائِكُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابو درداء رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنے ضعیفوں میں تلاش کرو، تم اپنے ان کمزوروں ہی کی وجہ سے رزق دیے جاتے یا مدد کیے جاتے ہو۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5246]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (3594)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَانَ يَدْعُو لِلنَّصْرِ بِوَاسِطَةِ الفُقَرَاءِ وَالمُهَاجِرِينَ)
فقراء اور مہاجرین کے ذریعہ فتح پانے کی دعا کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5247
5247 - وَعَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَيْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَسْتَفْتِحُ بِصَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ". رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) .
امیہ بن خالد بن عبداللہ بن اسید رضی اللہ عنہ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ مہاجر فقرا کی دعاؤں کے ذریعے فتح طلب کیا کرتے تھے۔ (اسنادہ ضعیف، رواہ فی شرح السنہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5247]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (14/ 264 ح 4062)
٭ السند مرسل و سفيان الثوري و أبو إسحاق مدلسان و عنعنا.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا تَحْسُدُوا كَافِرًا عَلَى مَالِهِ الدُّنْيَوِيِّ)
کسی کافر کی دنیاوی دولت کو دیکھ کر اس پر رشک نہ کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5248
5248 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تَغْبِطَنَّ فَاجِرًا بِنِعْمَةٍ  ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا هُوَ لَاقٍ بَعْدَ مَوْتِهِ، إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ قَاتِلًا لَا يَمُوتُ". يَعْنِي النَّارَ. رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کسی فاجر شخص کو نعمتوں میں دیکھ کر اس پر رشک نہ کرنا کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس کی موت کے بعد اس کے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے، اس کے لیے اللہ کے ہاں ایک مہلک چیز ہے جو مرے گی نہیں۔“ یعنی: جہنم۔ اسنادہ ضعیف، رواہ فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5248]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح ا لسنة (14/ 294. 295 ح 4103)
٭ فيه جھم بن أوس: لا يعرف و عبد الله بن أبي مريم: لم يوثقه غير ابن حبان .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الدُّنْيَا سِجْنُ المُؤْمِنِ)
دنیا مومن کے لیے قید خانہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5249
5249 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَسَنَتُهُ  ، وَإِذَا فَارَقَ الدُّنْيَا فَارَقَ السِّجْنَ وَالسَّنَةَ". رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور قحط ہے، جب وہ دنیا سے جدا ہوتا ہے تو وہ قید خانے اور قحط سے جدا ہو جاتا ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5249]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (14/ 297 ح 4106) [و أحمد (2/ 197 ح 6855) والحاکم (4/ 315) ]
٭ عبد الله بن جنادة المعافري: لم يوثقه غير ابن حبان .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ تَعَالَى عَبْدًا)
جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5250
5250 - وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا  ، كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.
قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ کسی بندے کو پسند فرماتا ہے تو اسے دنیا (کے مال و منصب) سے بچا لیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے مریض کو پانی سے بچاتا ہے۔“ صحیح، رواہ احمد و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5250]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (لم أجده) و الترمذي (2036 وقال: حسن غريب)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (المَوْتُ وَقِلَّةُ المَالِ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِ)
موت اور قلت مال مومن کے لیے بہتر ہوتی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5251
5251 - وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ  : يَكْرَهُ الْمَوْتَ، وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَةِ، وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”دو چیزیں ہیں جنہیں انسان ناپسند کرتا ہے، انسان موت کو ناپسند کرتا ہے، حالانکہ موت مومنوں کے لیے فتنے سے بہتر ہے، اور وہ قلتِ مال کو ناپسند کرتا ہے جبکہ قلتِ مال کا حساب کم ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5251]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (5/ 427 ح 24024)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِنْ أَحْبَبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَأَهَّبْ لِلفَقْرِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے تو فقر کے لئے تیار رہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5252
5252 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّكَ. قَالَ:"انْظُرْ مَا تَقُولُ". فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ:"إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا، لَلْفَقْرُ أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي  مِنَ السَّبِيلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: میں آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”دیکھ لو تم کیا کہہ رہے ہو؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، اس نے تین مرتبہ کہا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر تم (اپنے دعویٰ میں) سچے ہو تو پھر فقر و فاقہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈھال تیار رکھو کیونکہ جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے تو اس کی طرف فقر سیلاب کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے آتا ہے۔“ ترمذی، اور فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5252]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2350)
٭ روح بن أسلم ضعيف ضعفه الجمھور و للحديث شواھد ضعيفة عند البغوي (شرح السنة: 4067) وغيره .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَشَاقُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَعْوَةِ الدِّينِ)
دعوت دین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مشکلات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5253
5253 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ، وَمَا لِي وَلِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ  ، إِلَّا شَيْءٌ يُوَارِيهِ إِبْطُ بِلَالٍ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. قَالَ: وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: حِينَ خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَارِبًا مِنْ مَكَّةَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، إِنَّمَا كَانَ مَعَ بِلَالٍ مِنَ الطَّعَامِ مَا يَحْمِلُ تَحْتَ إِبْطِهِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ کی راہ میں جتنا ڈرایا گیا ہے اتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا، اللہ کی راہ میں جتنی مجھے اذیت دی گئی ہے اتنی کسی کو اذیت نہیں دی گئی، مجھ پر تیس دن رات بھی گزرے ہیں کہ میرے اور بلال رضی اللہ عنہ کے لیے ایسی کوئی چیز نہیں تھی جسے کوئی جاندار کھاتا ہے، البتہ اتنی (قلیل) چیز تھی جسے بلال رضی اللہ عنہ کی بغل چھپا لیتی تھی۔“ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ سے نکلے تھے تو بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، اور بلال رضی اللہ عنہ کے پاس بس اتنا سا کھانا تھا جو وہ اپنی بغل کے نیچے رکھتے تھے۔ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5253]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (2472)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فاقہ کشی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5254
5254 - وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُوعَ  ، فَرَفَعْنَا عَنْ بُطُونِنَا عَنْ حَجَرٍ حَجَرٍ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ بَطْنِهِ عَنْ حَجَرَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بھوک کی شکایت کی اور ہم نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا کر ایک پتھر بندھا ہوا دکھایا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے دکھائے۔ ترمذی، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ» ”اس کی سند حسن ہے“، «رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ» ”اسے ترمذی نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5254]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2371)
٭ سيار بن حاتم: حسن الحديث، وثقه الجمھور .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (قُسِّمَتْ تَمْرَةٌ وَاحِدَةٌ بَيْنَ الصَّحَابَةِ)
صحابہ کو ایک ایک کھجور بانٹی گئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5255
5255 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ أَصَابَهُمْ جُوعٌ فَأَعْطَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَمْرَةً تَمْرَةً  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں بھوک لگی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں ایک ایک کھجور عطا فرمائی۔ «إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ» [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5255]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (2474 وقال: صحيح)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں