🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (زُهْدُ السَّيِّدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دنیا سے بے رغبتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5266
5266 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: اسْتَسْقَى يَوْمًا عُمَرُ، فَجِيءَ بِمَاءٍ قَدْ شِيبَ بِعَسَلٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ لِطَيِّبٌ، أَسْمَعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَعَى عَلَى قَوْمٍ شَهَوَاتِهِمْ فَقَالَ: أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا فَأَخَافُ أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا  ، فَلَمْ يَشْرَبْهُ. رَوَاهُ رَزِينٌ.
زید بن اسلم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز عمر رضی اللہ عنہ نے پانی طلب کیا تو انہیں شہد ملا پانی پیش کیا گیا، انہوں نے فرمایا: ”یہ تو بہت اچھا ہے، لیکن میں اللہ عزوجل کا فرمان سنتا ہوں کہ اس نے ایک قوم کو ان کی شہوات پر معیوب قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا﴾ [سورة الأحقاف: 20] ”تم نے اپنی اچھی چیزیں دنیا کی زندگانی میں حاصل کر لیں اور تم نے ان سے استفادہ کر لیا۔“ میں تو ڈرتا ہوں کہ ہماری نیکیوں کا ثواب دنیا ہی میں نہ دے دیا جائے“، لہذا انہوں نے اسے نہ پیا۔ «لَمْ أَجِدْهُ، رَوَاهُ رَزِينٌ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5266]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لم أجده، رواه رزين (لم أجده)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:لم أجده

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَمْ يَشْبَعْ مِنَ التَّمْرِ أَبَدًا)
کھجوروں سے کبھی سیر نہ ہو سکے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5267
5267 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: مَا شَبِعْنَا مِنْ تَمْرٍ حَتَّى فَتَحْنَا خَيْبَرَ  . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے فتح خیبر سے پہلے کبھی بھی سیر ہو کر کھجوریں نہیں کھائیں۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5267]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4243)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (المَوْتُ يُحِيطُ بِالإِنْسَانِ)
موت انسان کو گھیرے ہوئے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5268
[ 2 ] بَابُ الْأَمَلِ وَالْحِرْصِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5268 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِي الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ، وَخَطَّ خُطُطًا صِغَارًا إِلَى هَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الْوَسَطِ، فَقَالَ:"هَذَا الْإِنْسَانُ، وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ، وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجُ أَمَلِهِ  ، وَهَذِهِ الْخُطُوطُ الصِّغَارُ الْأَعْرَاضُ، فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَسَهُ هَذَا، وَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَسَهُ هَذَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مربع شکل کا خط کھینچا اور ایک خط (اس مربع کے) وسط میں اس سے باہر جاتا ہوا کھینچا اور کچھ اس وسط والے خط کے پہلو میں چھوٹے چھوٹے خط اور کھینچے اور فرمایا: ”یہ انسان ہے اور یہ اس کی اجل (موت) ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، اور جو باہر کی طرف نکل رہی ہے یہ اس کی امید ہے، اور یہ چھوٹے چھوٹے خطوط پیش آمدہ حادثات ہیں، اگر ایک اس سے خطا کر جاتا ہے تو یہ (دوسرا) اسے دبوچ لیتا ہے اور اگر یہ اس سے خطا کر جاتا ہے تو یہ اسے دبوچ لیتا ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5268]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6417)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسَمَ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ لِلتَّوْضِيحِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار خط کھینچ کر سمجھایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5269
5269 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُطُوطًا فَقَالَ:"هَذَا الْأَمَلُ، وَهَذَا أَجَلُهُ  ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَهُ الْخَطُّ الْأَقْرَبُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ خط کھینچے تو فرمایا: ”یہ امید ہے، اور یہ اس کی موت ہے، وہ اسی اثنا میں ہوتا ہے تو زیادہ قریب والا خط اچانک اس تک آ پہنچتا ہے۔“ رواہ البخاری رحمہ اللہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5269]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6418)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الشَّيْخُ الطَّامِعُ)
بوڑھا لالچی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5270
5270 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”انسان بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں، مال کی حرص اور عمر کی حرص۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5270]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6421) و مسلم (115/ 1047)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لِمَاذَا يَبْقَى قَلْبُ الشَّيْخِ شَابًّا دَائِمًا؟)
بوڑھے آدمی کا دل ہمشہ جوان کیوں رہتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5271
5271 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا يَزَالُ قَلْبُ الْكَبِيرِ شَابًّا فِي اثْنَيْنِ  : فِي حُبِّ الدُّنْيَا وَطُولِ الْأَمَلِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بوڑھے شخص کا دل دو چیزوں کے بارے میں جوان ہی رہتا ہے: دنیا کی محبت کے بارے میں اور لمبی خواہشوں کے بارے میں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5271]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6420) و مسلم (114/ 1046)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا عُذْرَ لِمَنْ بَلَغَ سِتِّينَ سَنَةً)
ساٹھ برس والے کے لیے کوئی بہانہ نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5272
5272 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے اس شخص سے (توبہ نہ کرنے اور نیک عمل نہ کرنے کا) عذر زائل کر دیا جس کی اجل کو مؤخر کیا حتیٰ کہ اسے ساٹھ سال تک پہنچا دیا۔“ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5272]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6419)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَطْنُ الإِنْسَانِ لَا يَمْلَأُهُ إِلَّا التُّرَابُ)
انسان کا پیٹ مٹی سے ہی بھرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5273
5273 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا  ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر انسان کے لیے مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرتا ہے، انسان کے پیٹ کو صرف (قبر کی) مٹی ہی بھرے گی، اور اللہ توبہ کرنے والے شخص کی توبہ قبول فرماتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5273]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6436) و مسلم (118/ 1049)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ مُسَافِرٌ)
دنیا میں ایسے رہو جیسے کہ مسافر ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5274
5274 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ:"كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ  ، وَعُدَّ نَفْسَكَ مِنْ أَهْلِ الْقُبُورِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے جسم کے کسی حصے کو پکڑ کر فرمایا: ”دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک پردیسی یا راہ گیر ہو اور اپنے آپ کو اہل قبور (مُردوں) میں سے شمار کرو۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5274]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6416)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ذِكْرُ سُرْعَةِ قُدُومِ المَوْتِ)
موت کے جلدی آنے کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5275
الْفَصْلُ الثَّانِي 5275 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا وَأُمِّي نُطَيِّنُ شَيْئًا، فَقَالَ:"مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ؟"قُلْتُ: شَيْءٌ نُصْلِحُهُ. قَالَ:"الْأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو میں اور میری والدہ (اپنے مکان کے) کسی حصہ کی لپائی کر رہے تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ! کیا ہو رہا ہے؟“ میں نے عرض کیا، ہم (مکان کے کسی) حصہ کی مرمت کر رہے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”معاملہ (موت) اس سے زیادہ تیز ہے۔“ احمد، ترمذی، اور فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ صحیح، رواہ احمد و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5275]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (161/2 ح 6502) و الترمذي (2335)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں