مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بِشَارَةُ الشَّهَادَةِ لِأُمِّ حَرَامٍ)
ام حرام کے لیے شہادت کی خوش خبری
حدیث نمبر: 5859
5859 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ ؛ ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: (نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ) ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا لَهَا ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: (نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ) . كَمَا قَالَ فِي الْأُولَى. (قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ) ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ: (أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ) . فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، ایک روز آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا، پھر بیٹھ کر آپ کے سر مبارک سے جوئیں دیکھنے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے پھر (جب) اٹھے تو آپ ہنس رہے تھے، وہ بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت سے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مجھے دکھائے گئے، وہ اس سمندر میں سوار اس طرح جا رہے ہیں جس طرح بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں یا وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر براجمان تھے۔“ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی انہی میں سے کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی، پھر آپ اپنا سر رکھ کر سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مجھے دکھائے گئے۔“ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی بار فرمایا تھا۔ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آپ اولین میں سے ہیں۔“ ام حرام رضی اللہ عنہا نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں بحری سفر کیا، جب وہ سمندر سے باہر نکلیں تو وہ اپنی سواری سے گر کر وفات پا گئیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5859]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6282) ومسلم (160/ 1912)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (إِسْلَامُ حَضْرَةِ ضَمَّادٍ اللَّارْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت ضماد لاردی رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا
حدیث نمبر: 5860
5860 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَكَّةَ وَكَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذَا الرِّيحِ، فَسَمِعَ سُفَهَاءَ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ: إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ . فَقَالَ: لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللَّهَ يَشْفِيهِ عَلَى يَدَيَّ. قَالَ: فَلَقِيَهُ. فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذَا الرِّيحِ، فَهَلْ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ) فَقَالَ: أَعِدْ عَلَيَّ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ وَقَوْلَ السَّحَرَةِ وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ، وَلَقَدْ بَلَغْنَ قَامُوسَ الْبَحْرِ، هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، قَالَ: فَبَايَعَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي بَعْضِ نُسَخِ (الْمَصَابِيحِ) : بَلَغْنَا نَاعُوسَ الْبَحْرِ وَهُوَ تَصْحِيفٌ، وَذَكَرَ حَدِيثَا أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ (يَهْلِكُ كِسْرَى) وَالْآخَرَ (لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ) فِي بَابِ (الْمَلَاحِمِ) . وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِي
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ضماد مکہ آیا اور وہ قبیلہ ازدشنوءہ سے تھا، اور وہ آسیب وغیرہ کا منتر جانتا تھا، اس نے مکے کے نادانوں سے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجنون ہیں، اس نے کہا: اگر میں اس آدمی کو دیکھوں (اور اس کا علاج کروں) تو شاید اللہ میرے ہاتھوں اسے شفا عطا فرما دے، راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا اور اس نے کہا: محمد! میں آسیب وغیرہ کا منتر جانتا ہوں، کیا آپ کو علاج کی رغبت ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”بے شک ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں، جس کو اللہ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، جس کو وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ اَمَّا بَعْدُ!“ اس نے عرض کیا: یہی کلمات مجھے دوبارہ سنائیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ کلمات اسے سنائے، تو اس نے عرض کیا: میں نے کاہنوں، ساحروں اور شاعروں کا کلام سنا ہے، لیکن میں نے آپ کے ان کلمات جیسا کوئی کلام نہیں سنا، یہ تو انتہائی فصیح و بلیغ کلمات ہیں، اپنا دستِ مبارک لائیں، میں اسلام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بیعت لی۔ (رواہ مسلم)۔ مصابیح کے بعض نسخوں میں «نَاعُوسُ الْبَحْرِ» کے الفاظ ہیں، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: ” «يَهْلِكُ كِسْرَىٰ» “ اور دوسری: ” «لَتُفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ» “ باب الملاحم میں ذکر کی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5860]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (46/ 868)
حديث أبي ھريرة تقدم (5418) و حديث جابر بن سمرة تقدم (5417)»
حديث أبي ھريرة تقدم (5418) و حديث جابر بن سمرة تقدم (5417)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (حِوَارُ حَضْرَةِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ هِرَقْلَ)
حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا ہرقل سے مکالمہ
حدیث نمبر: 5861
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 5861 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: بَيْنَا أَنَا بِالشَّامِ إِذْ جِيءَ بِكِتَابٍ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى هِرَقْلَ . قَالَ: وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ جَاءَ بِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِلَى هِرَقْلَ. فَقَالَ هِرَقْلُ: هَلْ هُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ، فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَقُلْتُ: أَنَا، فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي، ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ: قُلْ لَهُمْ: إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ، قَالَ أَبُو سُفْيَانُ: وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَيَّ الْكَذِبُ لَكَذَبْتُهُ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ. قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ فِي أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ: قُلْتُ: لَا. قَالَ: وَمَنْ يَتْبَعُهُ، أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ. قَالَ: أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قُلْتُ: لَا بَلْ يَزِيدُونَ. قَالَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا، يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ. قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لَا، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي هَذِهِ الْمُدَّةِ، لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِينَا؟ قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ قُلْتُ: لَا. ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُ: إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ فِيكُمْ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا. وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ. وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ؟ فَقُلْتَ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ يَذْهَبُ فَيَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ. وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّكُمْ قَاتَلْتُمُوهُ، فَتَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالًا يَنَالُ مِنْكُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى، ثُمَّ تَكُونُ لَهَا الْعَاقِبَةُ . وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لَا يَغْدِرُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ، قُلْتُ: رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: بِمَا يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْنَا: يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ، وَالصِّلَةِ، وَالْعَفَافِ، قَالَ: إِنْ يَكُ مَا تَقُولُ حَقًّا فَإِنَّهُ نَبِيٌّ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمَ أَنَّهُ خَارِجٌ، وَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ، وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ. ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَرَأَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَقَدْ سَبَقَ تَمَامُ الْحَدِيثِ فِي (بَابِ الْكِتَابِ إِلَى الْكُفَّارِ) .
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے بلا واسطہ حدیث بیان کی، انہوں نے فرمایا: میں نے اس مدت کے دوران جو کہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان (صلح حدیبیہ کا) معاہدہ ہوا تھا، سفر کیا، وہ بیان کرتے ہیں، میں اس وقت شام ہی میں تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط ہرقل کو موصول ہوا، اور انہوں نے فرمایا: دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ یہ خط لے کر آئے تھے، انہوں نے اسے امیر بصریٰ کے حوالے کیا اور اس نے اسے ہرقل کے حوالے کیا، ہرقل نے کہا: کیا اس شخص کی قوم کا کوئی فرد یہاں موجود ہے جو خود کو اللہ کا رسول خیال کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، مجھے بلایا گیا، میرے ساتھ کچھ قریشی بھی تھے، ہم ہرقل کے پاس پہنچے تو ہمیں اس کے سامنے بٹھا دیا گیا، اس نے پوچھا: یہ شخص جو اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے، آپ میں اس کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے کہا: میں، انہوں نے مجھے اس کے سامنے بٹھایا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا، پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلایا، اور کہا: ان سے کہہ دو کہ میں اس (ابوسفیان) سے اس شخص کے متعلق چند سوالات کروں گا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو تم اسے جھٹلا دینا، ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اللہ کی قسم! اگر جھوٹ بولنے کی بدنامی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق ضرور جھوٹ بولتا، پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے پوچھو، اس کا حسب و نسب کیسا ہے؟ وہ کہتے ہیں، میں نے کہا: وہ ہم میں نہایت عمدہ حسب و نسب والے ہیں، اس نے کہا: کیا ان کے آباؤ اجداد میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: کیا اس نے تم سے اس بات سے پہلے جو اب وہ کہتا ہے کوئی ایسی بات کہی جس پر تم نے اسے جھوٹا کہا ہو؟ میں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: اس کے پیروکار کون ہیں، بڑے لوگ یا کمزور لوگ؟ وہ کہتے ہیں، میں نے کہا: بلکہ کمزور لوگ، اس نے کہا: کیا وہ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم؟ وہ کہتے ہیں، میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ زیادہ ہو رہے ہیں، اس نے کہا: کیا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص اسے برا خیال کر کے اس سے منحرف ہوا ہے؟ وہ کہتے ہیں، میں نے کہا: نہیں، اس نے پوچھا: کیا تم نے اس سے جنگ کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: تمہاری اس سے جنگ کیسی رہی؟ وہ کہتے ہیں، میں نے کہا: جنگ ہم دونوں کے درمیان برابر ہے، کبھی اسے ہماری طرف سے زک پہنچتی ہے اور کبھی ہمیں اس کی طرف سے زک پہنچتی ہے، اس نے کہا: کیا وہ بد عہدی بھی کرتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، البتہ ہم اس وقت اس کے ساتھ صلح کی مدت گزار رہے ہیں، معلوم نہیں وہ اس میں کیا کرے گا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس جملے کے علاوہ مجھے اور کہیں کوئی بات داخل کرنے کا موقع نہ ملا، اس نے پوچھا: کیا یہ بات اس سے پہلے بھی کسی نے کی تھی؟ میں نے کہا: نہیں، پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا: اسے کہو، میں نے تجھ سے اس کے حسب و نسب کے متعلق پوچھا تو تم نے کہا: وہ تم میں سب سے زیادہ عمدہ حسب و نسب والا ہے، اور رسول ایسے ہی ہوتے ہیں، انہیں ان کی قوم کے اونچے حسب و نسب میں مبعوث کیا جاتا ہے، میں نے تجھ سے سوال کیا، کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ تھا؟ تو نے کہا: نہیں، اگر اس کے آباؤ اجداد میں سے کوئی بادشاہ ہوتا تو میں خیال کرتا کہ وہ اپنے آبا کی بادشاہت کا طلب گار ہے، میں نے تجھ سے اس کے متبعین کے متعلق پوچھا: کیا وہ ضعیف لوگ ہیں یا بڑے لوگ ہیں، تو نے کہا: بلکہ وہ کمزور لوگ ہیں، اور رسولوں کے پیروکار ایسے ہی ہوتے ہیں، میں نے تجھ سے پوچھا: کیا اس نے جو بات کی ہے اس کے کہنے سے پہلے تم اسے جھوٹ سے متہم کرتے تھے، تو نے کہا: نہیں، میں نے پہچان لیا کہ اگر وہ لوگوں پر جھوٹ نہیں بولتا تو پھر وہ اللہ پر کیسے جھوٹ بول سکتا ہے؟ میں نے تجھ سے سوال کیا: کیا اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص اسے برا خیال کرتے ہوئے مرتد بھی ہوا ہے؟ تو نے کہا: نہیں، اور ایمان کی یہی حالت ہوتی ہے کہ جب اس کی بشاشت (فرحت و لذت) دلوں میں راسخ ہو جاتی ہے تو پھر وہ نکلتا نہیں، میں نے تجھ سے دریافت کیا: کیا وہ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم؟ تو نے کہا، وہ زیادہ ہو رہے ہیں، اور ایمان اسی طرح ہوتا ہے حتیٰ کہ وہ مکمل ہو جاتا ہے، میں نے تجھ سے پوچھا: کیا تم نے اس سے جنگ کی ہے؟ تو نے بتایا کہ تم نے اس سے جنگ کی ہے اور جنگ تمہارے درمیان برابر رہی، رسولوں کا معاملہ اسی طرح ہوتا ہے کہ ان پر دورِ ابتلا آتا ہے اور انجام بخیر انہی کا ہوتا ہے، میں نے تجھ سے پوچھا: کیا وہ بد عہدی کرتا ہے؟ تو نے کہا: نہیں، اور رسولوں کی یہی شان ہے کہ وہ بد عہدی نہیں کرتے، میں نے تجھ سے سوال کیا: کیا ایسی بات اس سے پہلے بھی کسی نے کی ہے؟ تو نے کہا: نہیں، اگر اس سے پہلے ایسی بات کسی نے کی ہوتی تو میں خیال کرتا کہ یہ آدمی ویسی ہی بات کر رہا ہے جو اس سے پہلے کی گئی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں، پھر اس نے پوچھا: وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟ ہم نے کہا: وہ ہمیں ”نماز پڑھنے، زکوٰۃ دینے، صلہ رحمی کرنے اور پاک دامنی“ کا حکم دیتا ہے، اس نے کہا: تم نے جو کچھ کہا ہے اگر تو وہ صحیح ہے تو پھر وہ نبی ہیں، مجھے یہ تو پتا تھا کہ ان کا ظہور ہونے والا ہے، لیکن میرا یہ خیال نہیں تھا کہ وہ تم میں سے ہوں گے، اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں ان تک پہنچ سکوں گا تو میں ان سے شرفِ ملاقات حاصل کرنا پسند کرتا، اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ان کے پاؤں دھوتا، اور ان کی بادشاہت میرے ان دونوں قدموں کی جگہ تک پہنچ جائے گی، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط مبارک منگا کر پڑھا۔ متفق علیہ۔ اور یہ مکمل حدیث باب الکتاب الی الکفار میں گزر چکی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5861]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7) و مسلم (74/ 1773)
٭ وانظر ح 3926. 3927 لتمام الحديث»
٭ وانظر ح 3926. 3927 لتمام الحديث»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مِعْرَاجُ المُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
معراج مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
حدیث نمبر: 5862
[ 6 ] - بَابٌ فِي الْمِعْرَاجِ. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5862 - (عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ [ عَنْ مَالِكِ ] بْنِ صَعْصَعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ: (بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ - وَرُبَّمَا قَالَ فِي الْحِجْرِ - مُضْطَجِعًا إِذْ أَتَانِي آتٍ، فَشَقَّ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ) يَعْنِي مِنْ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ"فَاسْتَخْرَجَ قَلْبِي، ثُمَّ أُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوءٍ إِيمَانًا، فَغُسِلَ قَلْبِي، ثُمَّ حُشِيَ، ثُمَّ أُعِيدَ) - وَفِي رِوَايَةٍ:"ثُمَّ غُسِلَ الْبَطْنُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ مُلِئَ إِيمَانًا وَحِكْمَةً لِلَّهِ ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ، أَبْيَضَ يُقَالُ لَهُ: الْبُرَاقُ، يَضَعُ خَطْوَهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ ، فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ، فَانْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ: قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ، فَإِذَا فِيهَا آدَمُ فَقَالَ: هَذَا أَبُوكَ آدَمُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامِ، ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، فَاسْتَفْتَحَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا لَهُ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ. فَلَمَّا خَلَصْتُ إِذَا يَحْيَى وَعِيسَى وَهُمَا ابْنَا خَالَةٍ قَالَ: هَذَا يَحْيَى وَهَذَا عِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا، فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا، ثُمَّ قَالَا: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفَتَحَ، فَلَمَّا دَخَلْتُ إِذَا يُوسُفُ، قَالَ: هَذَا يُوسُفُ، فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ. ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا إِدْرِيسُ، فَقَالَ: هَذَا إِدْرِيسُ، فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ، ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرَئِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا دَخَلْتُ، فَإِذَا هَارُونُ. قَالَ: هَذَا هَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ، ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ السَّادِسَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرَئِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا مُوسَى، قَالَ: هَذَا مُوسَى، فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ، ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، فَلَمَّا جَاوَزْتُ بَكَى، قِيلَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: أَبْكِي لِأَنَّ غُلَامًا بُعِثَ بَعْدِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَكْثَرَ مِمَّنْ يَدْخُلُهَا مِنْ أُمَّتِي ؛ ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرَئِيلُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا: قَالَ: جِبْرَئِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ، فَإِذَا إِبْرَاهِيمُ، قَالَ: هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ، فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ رُفِعْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، فَإِذَا نَبِقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ، وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ، قَالَ: هَذَا سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، فَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ: نَهْرَانِ بَاطِنَانِ وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، قُلْتُ: مَا هَذَانِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ، ثُمَّ رُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ، ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ، وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ، وَإِنَاءٍ مِنْ عَسَلٍ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ: هِيَ الْفِطْرَةُ أَنْتَ عَلَيْهَا وَأُمَّتُكَ، ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ، فَرَجَعْتُ فَمَرَرْتُ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ خَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ، وَإِنِّي وَاللَّهِ قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ، فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنَى عَشْرًا. فَأُمِرْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، وَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ، قَالَ: سَأَلْتُ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ، وَلَكِنِّي أَرْضَى وَأُسَلِّمُ. قَالَ: فَلَمَّا جَاوَزْتُ، نَادَى مُنَادٍ: أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
قتادہ رحمہ اللہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج کے متعلق انہیں بتایا کہ: ”میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا، اور بعض روایات میں ہے، میں حجر میں لیٹا ہوا تھا، کہ اچانک ایک آنے والا میرے پاس آیا تو اس نے میرا سینہ چاک کیا، میرے دل کو نکالا، پھر میرے پاس ایمان سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لایا گیا، میرے دل کو دھویا گیا، پھر اسے بھر دیا گیا، پھر اسے واپس اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”پھر (میرے) پیٹ کو آبِ زم زم سے دھویا گیا، پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا، پھر خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی سفید رنگ کی براق نامی ایک سواری میرے پاس لائی گئی، وہ اپنی انتہائے نظر تک اپنا قدم رکھتی تھی، مجھے اس پر سوار کیا گیا، جبریل علیہ السلام مجھے ساتھ لے چلے، حتیٰ کہ وہ آسمانِ دنیا پر پہنچے تو انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، ان سے پوچھا گیا: آپ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: جبریل، پوچھا گیا: اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، کہا گیا: خوش آمدید، اور تشریف لانے والے کتنے ہی اچھے ہیں، دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا تو میں نے وہاں آدم علیہ السلام کو دیکھا، جبریل علیہ السلام نے بتایا: یہ آپ کے والد آدم علیہ السلام ہیں، انہیں سلام کریں، میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے فرمایا: صالح بیٹے! اور صالح نبی خوش آمدید، پھر جبریل علیہ السلام مجھے اوپر لے گئے حتیٰ کہ وہ دوسرے آسمان پر پہنچ گئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، پوچھا گیا: کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: جبریل، پوچھا گیا، آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد! پوچھا گیا، کیا ان کی طرف کسی کو بھیجا گیا تھا؟ فرمایا: ہاں، کہا گیا: خوش آمدید! آنے والے کتنے ہی اچھے ہیں، دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا تو یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے ملاقات ہو گئی، اور وہ دونوں خالہ زاد تھے۔ فرمایا: یہ یحییٰ علیہ السلام ہیں اور یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں، ان دونوں کو سلام کریں، میں نے سلام کیا، تو ان دونوں نے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا: صالح بھائی! خوش آمدید، نبی صالح خوش آمدید، پھر مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے جایا گیا، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، پوچھا گیا، کون ہے؟ فرمایا: جبریل، کہا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، پوچھا گیا، کیا ان کی طرف کسی کو بھیجا گیا تھا؟ فرمایا: ہاں، کہا گیا: خوش آمدید، آنے والے کیا ہی اچھے ہیں، دروازہ کھول دیا گیا، جب میں ادھر پہنچا تو وہاں یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بتایا، یہ یوسف علیہ السلام ہیں، انہیں سلام کریں، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا: صالح بھائی اور صالح نبی خوش آمدید، پھر مجھے اوپر لے جایا گیا، حتیٰ کہ چوتھے آسمان پر پہنچے، پھر دروازہ کھولنے کے لیے درخواست کی، پوچھا کون ہے؟ کہا: جبریل، پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، پوچھا گیا: کیا ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ فرمایا: ہاں! کہا گیا: خوش آمدید، آنے والے کتنے ہی اچھے ہیں، جب میں وہاں پہنچا تو ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے کہا، یہ ادریس علیہ السلام ہیں، انہیں سلام کریں، میں نے سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا: صالح نبی خوش آمدید، پھر مجھے اوپر لے جایا گیا حتیٰ کہ وہ پانچویں آسمان پر پہنچے اور انہوں نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی تو ان سے پوچھا گیا، آپ کون ہیں؟ کہا: جبریل، پوچھا گیا، آپ کے ساتھ کون ہیں؟ فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، پوچھا گیا، کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، پھر کہا گیا: خوش آمدید، آنے والے کتنے ہی اچھے ہیں، جب میں وہاں پہنچا تو وہاں ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی فرمایا: یہ ہارون علیہ السلام ہیں انہیں سلام کریں، پس میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا: صالح بھائی، اور نبی صالح خوش آمدید، پھر وہ مجھے اور اوپر لے گئے، حتیٰ کہ ہم چھٹے آسمان پر پہنچے تو انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، انہوں نے پوچھا: کون ہیں؟ فرمایا: جبریل، پوچھا گیا، آپ کے ساتھ کون ہے؟ فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، پوچھا گیا، کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا تھا؟ فرمایا: ہاں، کہا گیا، خوش آمدید، آنے والے کتنے ہی اچھے ہیں، دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا تو وہاں موسیٰ علیہ السلام تشریف فرما تھے، جبریل علیہ السلام نے فرمایا: یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، انہیں سلام کریں، میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا: صالح بھائی اور صالح نبی خوش آمدید جب میں ان سے آگے بڑھنے لگا تو وہ رونے لگے، ان سے پوچھا گیا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں اس لیے روتا ہوں کہ ایک نوجوان میرے بعد مبعوث کیا گیا، اور اس کی امت کے جنت میں جانے والے افراد، میری امت کے جنت میں جانے والے افراد سے زیادہ ہوں گے، پھر مجھے ساتویں آسمان پر لے جایا گیا، جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی، تو پوچھا گیا: آپ کون ہیں؟ فرمایا: جبریل، پوچھا گیا، آپ کے ساتھ کون ہیں؟ فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، پوچھا گیا، کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا تھا؟ فرمایا: ہاں، کہا گیا: خوش آمدید، کتنے ہی اچھے ہیں آنے والے؟ جب میں وہاں پہنچا تو وہاں ابراہیم علیہ السلام تشریف فرما تھے، جبریل علیہ السلام نے فرمایا، یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں، انہیں سلام کریں، چنانچہ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا: صالح بیٹے اور صالح نبی خوش آمدید، پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، اس کے میوے (بیر) ہجر کے مٹکوں کی طرح تھے، اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے، انہوں نے بتایا، یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے، وہاں چار نہریں تھیں: دو باطنی تھیں اور دو ظاہری تھیں میں نے کہا: جبریل! یہ دو چیزیں کیا ہیں، انہوں نے فرمایا: دو باطنی نہریں، یہ دو نہریں جنت میں بہتی ہیں، اور دو ظاہری نہریں، اور یہ نیل و فرات ہیں، پھر مجھے بیت المعمور کی طرف لے جایا گیا، پھر میرے پاس شراب، دودھ اور شہد کا برتن لایا گیا، میں نے دودھ والا برتن اٹھا لیا، انہوں نے فرمایا: یہ وہ فطرت ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہے، پھر مجھ پر دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں، میں واپس آیا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا حکم ملا ہے؟ میں نے کہا: مجھے ہر روز پچاس نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہر روز پچاس نمازیں پڑھنے کی طاقت نہیں رکھے گی، اللہ کی قسم! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں، اور بنی اسرائیل کا مجھے سخت تجربہ ہو چکا ہے، آپ اپنے رب کے پاس دوبارہ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کی درخواست کریں، میں دوبارہ گیا تو مجھ سے دس کم کر دی گئیں، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، انہوں نے پھر وہی بات کی، میں پھر حاضر خدمت ہوا، اللہ تعالیٰ نے پھر دس نمازوں کی تخفیف فرما دی، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا تو انہوں نے پھر وہی بات کہی، میں پھر حاضر خدمت ہوا، اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں کم کر دیں، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا تو انہوں نے پھر وہی بات دہرائی، میں پھر اللہ کے پاس گیا تو مجھ سے دس کم کر دی گئیں، اور مجھے ہر روز دس نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر ویسے ہی فرمایا، میں پھر (رب کے حضور) گیا تو مجھے ہر روز پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا: آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: مجھے ہر روز پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہر روز پانچ نمازیں پڑھنے کی طاقت نہیں رکھے گی، کیونکہ میں آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں اور بنی اسرائیل کا مجھے سخت تجربہ ہو چکا ہے، آپ اپنے رب کے پاس پھر جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کی درخواست کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے (تخفیفِ نماز کے لیے اتنی مرتبہ) سوال کیا ہے لہٰذا اب مجھے حیا آتی ہے، اب میں راضی ہوں اور تسلیم کرتا ہوں، فرمایا: جب میں وہاں سے چلا تو آواز دینے والے نے آواز دی، میں نے (پانچ نمازوں کا) اپنا فریضہ جاری کر دیا اور اپنے بندوں پر تخفیف فرما دی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5862]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3207) و مسلم (265 / 164)»
قال الشيخ الألباني:
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (وَاقِعَةُ المِعْرَاجِ بِرِوَايَةِ حَضْرَةِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
واقعہ معراج حضرت انس رضی اللہ عنہ کی زبانی
حدیث نمبر: 5863
5863 - وَعَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: (أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ، وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ، فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَقَعُ حَافِرُهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ، فَرَكِبْتُهُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي تَرْبُطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ) . قَالَ: (ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرَئِيلُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ، وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ، فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرَئِيلُ: اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ) وَسَاقَ مِثْلَ مَعْنَاهُ قَالَ: (فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ) . وَقَالَ فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ: فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ، إِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ، فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ) . وَلَمْ يَذْكُرْ بُكَاءَ مُوسَى، وَقَالَ فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ: (فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ، وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَى، فَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ، إِذَا بِهَا كَالْقِلَالِ، فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشَّى تَغَيَّرَتْ، فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا، وَأَوْحَى إِلَيَّ مَا أَوْحَى، فَفَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَنَزَلْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ. قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ ; فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَإِنِّي بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ قَالَ: (فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ خَفِّفْ عَلَى أُمَّتِي، فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقُلْتُ: حَطَّ عَنِّي خَمْسًا. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ) . قَالَ: (فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي وَبَيْنَ مُوسَى، حَتَّى قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ، فَذَلِكَ خَمْسُونَ صَلَاةً، مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ لَهُ شَيْئًا، فَإِنَّ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً) . قَالَ: (فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: فَقُلْتُ قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ثابت بنانی رحمہ اللہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس «الْبُرَاقُ» ”براق“ لائی گئی، وہ ایک سفید لمبا چوپایہ تھا، جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا، وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نظر جاتی تھی، میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس پہنچا، وہاں میں نے اسے اس حلقے (کنڈے) کے ساتھ باندھ دیا جس کے ساتھ انبیا علیہم السلام اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں دو رکعتیں پڑھیں، پھر وہاں سے نکلا تو جبرائیل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن شراب اور ایک برتن دودھ کا لائے تو میں نے دودھ کا برتن منتخب کیا، اس پر جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ”آپ نے «الْفِطْرَةُ» ”فطرت“ کا انتخاب فرمایا ہے“، پھر ہمیں آسمان کی طرف لے جایا گیا۔“ اس کے بعد راوی نے سابقہ حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں آدم علیہ السلام سے ملا تو انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے خیر و برکت کی دعا فرمائی۔“ اور فرمایا: ”تیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، ان کی شان یہ ہے کہ انہیں نصف حسن عطا کیا گیا ہے، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر فرمائی۔“ اس روایت میں راوی نے موسیٰ علیہ السلام کے رونے کا ذکر نہیں کیا اور فرمایا: ”ساتویں آسمان پر ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، آپ «الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ» ”بیت المعمور“ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، وہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور پھر دوبارہ ان کی باری نہیں آتی، پھر مجھے «سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى» ”سدرۃ المنتہیٰ“ لے جایا گیا، اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے، جبکہ اس کا پھل مٹکوں کی طرح تھا، جب اس کو اللہ کے حکم سے جس چیز نے ڈھانپنا تھا ڈھانپ لیا تو اس کی حالت بدل گئی، اللہ کی مخلوق میں سے اس کے حسن کی کوئی تعریف بیان نہیں کر سکتا، چنانچہ اس نے میری طرف جو وحی کرنی تھی وہ کر دی، اور دن رات میں مجھ پر پچاس نمازیں فرض کر دی گئیں، میں (یہ حکم لے کر) موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: ”آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”ہر روز پچاس نمازیں“، انہوں نے فرمایا: ”اپنے رب کے پاس دوبارہ جائیں اور اس سے تخفیف کی درخواست کریں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، کیونکہ میں بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں اور ان کا تجربہ کر چکا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے رب کے پاس گیا تو عرض کیا: اے میرے رب! میری امت پر تخفیف فرمائیں، مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دی گئیں، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا تو انہیں بتایا کہ مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دی گئی ہیں، انہوں نے فرمایا: ”آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، آپ اپنے رب کے پاس جائیں اور اس سے تخفیف کی درخواست کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے رب اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يَا مُحَمَّدُ» ”اے محمد!“ ہر روز یہ پانچ نمازیں ہیں، اور ہر نماز کے لیے دس گنا اجر ہے، اس طرح یہ پچاس نمازیں ہوئیں، جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے اور وہ اسے نہ کر سکے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اور اگر وہ اس نیکی کو کر لے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، اور جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرتا ہے لیکن وہ اس برائی کا ارتکاب نہیں کرتا تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں لکھا جاتا، اور اگر وہ اس کا ارتکاب کر لیتا ہے تو اس کے لیے ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نیچے آیا حتیٰ کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آ کر انہیں بتایا تو انہوں نے پھر بھی یہی فرمایا: ”اپنے رب کے پاس جائیں اور اس سے تخفیف کی درخواست کریں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے کہا: میں اتنی بار اپنے رب کے پاس گیا ہوں لہذا اب مجھے (اس تخفیف کی درخواست کرتے ہوئے) حیا آتی ہے۔“ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5863]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (259/ 162)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (وَاقِعَةُ المِعْرَاجِ بِرِوَايَةِ حَضْرَةِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
واقعہ معراج حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبانی
حدیث نمبر: 5864
5864 - وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: (فُرِجَ عَنِّي سَقْفُ بَيْتِي، وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جَبْرَئِيلُ، فَفَرَجَ صَدْرِي ، ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٌ حِكْمَةً وَإِيمَانًا، فَأَفْرَغَهُ فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي. فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمَّا جِئْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا. قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ: افْتَحْ. قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قَالَ: هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَلَمَّا فَتَحَ عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، إِذَا رَجُلٌ قَاعِدٌ، عَلَى يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ، وَعَلَى يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ إِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شَمَالِهِ بَكَى فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ. قُلْتُ: لِجِبْرِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا آدَمُ، وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرَ عَنْ يَمِينَيْهِ ضَحِكَ. وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، حَتَّى عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا: افْتَحْ، فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُ) قَالَ أَنَسٌ: فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ آدَمَ، وَإِدْرِيسَ، وَمُوسَى، وَعِيسَى، وَإِبْرَاهِيمَ، وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَا يَقُولَانِ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ) وَقَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسٌ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ، حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ: مَا فَرْضُ اللَّهِ لَكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: فَرَضَ خَمْسِينَ صَلَاةً. قَالَ: فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ فَرَجَعْتُ، فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقُلْتُ: وَضَعَ شَطْرَهَا، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ، فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعْتُهُ، فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ، لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَقُلْتُ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي، ثُمَّ انْطُلِقَ بِي حَتَّى انْتُهِيَ بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ؟ ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ، وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن شہاب، انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا: ابوذر رضی اللہ عنہ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں مکہ میں تھا کہ میرے گھر کی چھت کھول دی گئی تو جبریل علیہ السلام نازل ہوئے انہوں نے میرا سینہ چاک کیا، پھر اسے آبِ زم زم کے ساتھ دھویا، پھر وہ حکمت و ایمان سے بھری ہوئی سونے کی طشت لائے، اسے میرے سینے میں ڈال دیا، پھر اسے جوڑ دیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے گئے، جب میں آسمانِ دنیا پر پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے محافظ سے کہا: دروازہ کھولو، اس نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ فرمایا: جبریل، اس نے پوچھا: آپ کے ساتھ کوئی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا ان کی طرف بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، جب دروازہ کھول دیا گیا تو ہم آسمانِ دنیا پر چلے گئے، وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا کچھ لوگ اس کے دائیں طرف تھے اور کچھ اس کے بائیں طرف، جب وہ اپنی دائیں جانب دیکھتے تو مسکرا دیتے اور جب اپنی بائیں جانب دیکھتے تو رونا شروع کر دیتے، انہوں نے کہا: خوش آمدید نبی صالح اور بیٹے صالح، میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: یہ آدم علیہ السلام ہیں، اور ان کے دائیں اور بائیں جانب جو گروہ ہیں، یہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں، ان کے دائیں طرف والا گروہ اہل جنت کا ہے، اور ان کے بائیں طرف والا گروہ جہنمیوں کا ہے، جب وہ اپنی دائیں جانب دیکھتے ہیں تو مسکراتے ہیں، اور جب اپنی بائیں جانب دیکھتے ہیں تو رو دیتے ہیں، پھر مجھے دوسرے آسمان تک لے جایا گیا، جبریل علیہ السلام نے اس کے محافظ سے کہا: دروازہ کھولو، اس کے محافظ نے بھی انہیں ویسے ہی کہا جیسا پہلے آسمان والے محافظ نے کہا تھا۔“ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذکر فرمایا کہ انہوں نے آسمانوں میں آدم، ادریس، موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام سے ملاقات کی، اور ابوذر رضی اللہ عنہ نے یہ بیان نہیں کیا کہ ان کی منازل کیسی ہیں، البتہ انہوں نے یہ ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدم علیہ السلام کو آسمانِ دنیا پر اور ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر پایا، ابن شہاب نے بیان کیا، ابن حزم نے مجھے خبر دی کہ ابن عباس اور ابوحبہ انصاری رضی اللہ عنہما دونوں بیان کیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر مجھے اوپر لے جایا گیا حتیٰ کہ میں اس قدر بلند جگہ پر پہنچ گیا کہ میں قلموں کے لکھنے کی آواز سنتا تھا۔“ ابن حزم اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، میں یہ (حکم) لے کر واپس ہوا، اور میرا گزر موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے ہوا تو انہوں نے فرمایا: اللہ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں، انہوں نے فرمایا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت طاقت نہیں رکھے گی، انہوں نے مجھے واپس لوٹا دیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان (نمازوں) کا کچھ حصہ کم کر دیا، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا تو میں نے بتایا کہ اس نے ان میں سے کچھ کم کر دی ہیں، انہوں نے فرمایا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھ سکے گی، میں واپس گیا اور اپنی بات دہرائی تو اس نے ان میں سے کچھ اور کم کر دیں، میں پھر ان کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے فرمایا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، میں نے پھر اس سے درخواست کی تو اس نے فرمایا: وہ (ادائیگی میں) پانچ ہیں اور (ثواب میں) وہ پچاس ہیں میرے ہاں بات تبدیل نہیں کی جاتی، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: اپنے رب کے پاس پھر جائیں، میں نے کہا: مجھے اپنے رب کے (پاس بار بار جانے) سے شرم آتی ہے، پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، کئی رنگوں نے اسے ڈھانپ رکھا تھا، میں نہیں جانتا وہ کیا ہیں؟ پھر مجھے جنت میں لے جایا گیا، وہاں موتیوں کے گنبد تھے اور اس کی مٹی کستوری کی تھی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5864]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (349) و مسلم (263/ 163)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (هَدِيَّةُ المِعْرَاجِ)
تحفہ معراج
حدیث نمبر: 5865
5865 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، إِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُعْرَجُ بِهِ مِنَ الْأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا، وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا، قَالَ: إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى. قَالَ: فِرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا: أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، وَغُفِرَ لِمَنْ لَّا يُشْرِكُ بِاللَّهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا الْمُقْحِمَاتُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو انہیں سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، وہ چھٹے آسمان پر ہے، زمین سے اوپر جانے والی ہر چیز کی حد یہاں تک ہے، اسی مقام سے احکامات لیے جاتے ہیں اور اوپر سے جو حکم آتا ہے وہ یہیں آ کر رکتا ہے، اور پھر یہاں سے احکام لیے جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ﴿إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى﴾ [سورة النجم: 16] کے متعلق فرمایا: ”جس چیز نے سدرہ کو ڈھانپنا تھا اس نے اسے ڈھانپ رکھا تھا۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس سے مراد «فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ» ”سونے کے پروانے اور پتنگے“ تھے۔ فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین چیزیں عطا کی گئیں: آپ کو پانچ نمازیں عطا کی گئیں، سورہ بقرہ کی آخری آیات اور آپ کی امت میں سے جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گا، اس کے کبیرہ گناہوں کو بخش دیا جائے گا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5865]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (279/ 173)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (وَاقِعَةُ المِعْرَاجِ بِرِوَايَةِ حَضْرَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
واقعہ معراج حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زبانی
حدیث نمبر: 5866
5866 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا، فَكُرِبْتُ كَرْبًا مَا كُرِبْتُ مِثْلَهُ، فَرَفَعَهُ اللَّهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَإِذَا مُوسَى قَائِمٌ يُصَلِّي. فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَإِذَا عِيسَى قَائِمٌ يُصَلِّي، أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ، وَإِذَا إِبْرَاهِيمُ قَائِمٌ يُصَلِّي، أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُكُمْ - يَعْنِي نَفْسَهُ - فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ. فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ لِي قَائِلٌ: يَا مُحَمَّدُ! هَذَا مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے آپ کو حجر (حطیم) میں (کھڑے ہوئے) دیکھا، جبکہ قریش مجھ سے میرے سفر معراج کے متعلق سوال کر رہے تھے، انہوں نے بیت المقدس کی کچھ چیزوں کے متعلق مجھ سے سوالات کیے لیکن مجھے وہ یاد نہیں تھیں، میں اس قدر غمگین ہوا کہ اس طرح کا غم مجھے کبھی نہیں ہوا تھا، چنانچہ اللہ نے اسے میری نظروں کے سامنے بلند کر دیا، میں اسے دیکھ رہا تھا، اس لیے وہ مجھ سے جس بھی چیز کے متعلق سوال کرتے تو میں انہیں بتا دیتا تھا، میں نے اپنے آپ کو انبیا علیہم السلام کی جماعت میں دیکھا، میں نے اچانک موسیٰ علیہ السلام کو حالت قیام میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، ان کا قد میانہ ہے اور بال گھنگھریالے ہیں، گویا وہ شنوءہ قبیلے کے آدمی ہیں، پھر میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کی ان سے بہت زیادہ مشابہت ہے، اور ابراہیم علیہ السلام بھی کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، میں ان سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں، نماز کا وقت ہوا تو میں نے ان کی امامت کرائی، چنانچہ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو کسی کہنے والے نے مجھے کہا: محمد! یہ جہنم کا داروغہ مالک ہے، آپ اسے سلام کریں، میں نے اس کی طرف توجہ کی تو اس نے مجھے سلام میں پہل کی۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5866]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (278/ 172)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (إِخْبَارُ النَّاسِ بِنَقْشِ بَيْتِ المَقْدِسِ)
بیت المقدس کا نقشہ لوگوں کو بتانا
حدیث نمبر: 5867
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 5867 - عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: (لَمَّا كَذَّبَنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَّى اللَّهُ لِيَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب قریش نے (واقعہ معراج کے متعلق) مجھے جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا، اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بیت المقدس کو روشن کر دیا، چنانچہ میں نے اسے دیکھ کر اس کی علامات بیان کرنی شروع کر دیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5867]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3886) و مسلم (276/ 170)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَعُونَةُ اللَّهِ تَعَالَى فِي غَارِ ثَوْرٍ)
غار ثور میں اللہ تعالیٰ کی مدد
حدیث نمبر: 5868
[ 7 ] بَابٌ فِي الْمُعْجِزَاتِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5868 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصَّدِيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَظَرْتُ إِلَى أَقْدَامِ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رُءُوسِنَا وَنَحْنُ فِي الْغَارِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلَى قَدَمِهِ أَبْصَرَنَا، فَقَالَ: (يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا ؟) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم غار میں تھے، میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ مشرکین کے پاؤں نظر آ رہے تھے گویا وہ ہمارے سروں پر ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کی طرف نظر کر لے تو وہ ہمیں دیکھ لے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے؟“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5868]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3653) و مسلم (1/ 2381)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه