مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَا كَانَ عُمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ وَفَاتِهِ؟)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتقال کے وقت کیا عمر تھی
حدیث نمبر: 5839
5839 - وَعَنْ أَنَسٍ، قَالَ تَوَفَّاهُ اللَّهُ رَأْسَ سِتِّينَ سَنَةً. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساٹھ سال مکمل ہونے پر وفات دی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5839]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5900) و مسلم (113/ 2347)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (عُمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ عِنْدَ وَفَاتِهِمْ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کی انتقال کے وقت عمر کیا تھی
حدیث نمبر: 5840
5840 - وَعَنْهُ قَالَ قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَأَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَعُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ: (ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ) ، أَكْثَرُ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جب روح قبض کی گئی تو اس وقت آپ کی عمر تریسٹھ برس تھی، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی بھی روح جب قبض کی گئی تو اس وقت ان کی عمریں بھی تریسٹھ برس کی تھیں۔ رواہ مسلم۔ امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: تریسٹھ برس کی عمر کے متعلق روایات زیادہ ہیں۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5840]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (114/ 2348) و قال البخاري: ’’وھو ابن ثلاث و ستين و ھذا أصح‘‘ . (التاريخ الکبير 255/3)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَجِيءُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ)
جبرائیل علیہ السلام کی آمد
حدیث نمبر: 5841
5841 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ، وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ - قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدَ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعَ إِلَى خَدِيجَةَ. فَيَتَزَوَّدَ لِمِثْلِهَا حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقَالَ: (مَا أَنَا بِقَارِئٍ) . قَالَ:"فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ، حَتَّى بَلَغَ فِي الْجَهْدِ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ) . فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ، فَقَالَ: (زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي) فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، فَقَالَ لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا: (لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي) فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: كَلَّا، وَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِي الضَّعِيفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، ابْنِ عَمِّ خَدِيجَةَ. فَقَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ. فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَبَرَ مَا رَأَى. فَقَالَ وَرَقَةُ: هَذَا هُوَ النَّامُوسُ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا إِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ؟) قَالَ: نَعَمْ ؛ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرُكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا. ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوَفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْيُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا آغاز سچے اور پاکیزہ خوابوں سے ہوا، آپ جو بھی خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح (سچا) ثابت ہو جاتا، پھر آپ تنہائی پسند ہو گئے، آپ غارِ حرا میں خلوت فرمایا کرتے تھے، آپ اپنے اہل خانہ کے پاس آنے سے پہلے کئی کئی راتیں وہاں عبادت میں مشغول رہتے تھے اور ان ایام کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جایا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے اور اتنی ہی مدت کے لیے پھر زادِ راہ ساتھ لے جاتے تھے، یہاں تک کہ آپ غارِ حرا ہی میں تھے کہ آپ پر حق (وحی) آگیا، فرشتہ (جبریل علیہ السلام) آپ کے پاس آیا تو اس نے کہا: ”پڑھیے“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں پڑھنا نہیں جانتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے مجھے پکڑا اور اتنی شدت سے دبایا جس سے مجھے کافی تکلیف ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے، میں نے کہا: میں پڑھنا نہیں جانتا۔ اس نے مجھے پکڑ کر دوسری مرتبہ خوب دبایا، مجھے اس بار بھی کافی تکلیف ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے، میں نے کہا: میں پڑھنا نہیں جانتا، اس نے مجھے تیسری مرتبہ دبایا اس بار بھی مجھے کافی تکلیف ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ * الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ * عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾ [سورة العلق: 1-5] ”پڑھیے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا فرمایا، اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا فرمایا، پڑھیے، آپ کا رب بہت ہی کرم کرنے والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے سکھایا، انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بعد واپس ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل (خوف کی وجہ سے) دھڑک رہا تھا، آپ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو“، انہوں نے آپ کو کمبل اوڑھا دیا یہاں تک کہ آپ کا خوف جاتا رہا تو آپ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور کہا: ”مجھے اپنی جان کا اندیشہ ہے۔“ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، راست گو ہیں، درد مندوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، تہی دستوں کے لیے کماتے ہیں، مہمان کی میزبانی کرتے ہیں، اور مصیبت زدہ افراد کی اعانت کرتے ہیں، پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، انہوں نے ان سے کہا: اے میرے چچا کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنیں، ورقہ نے آپ سے کہا: بھتیجے! آپ کیا دیکھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو دیکھا تھا وہ سب اسے بتا دیا، ورقہ نے کہا: یہ تو وہی «النَّامُوسُ» ”ناموس“ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی دے کر بھیجا تھا، کاش! میں اس وقت توانا ہوتا، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟“ اس نے کہا: ہاں، جب بھی کوئی شخص اس طرح کا پیغام (منصبِ نبوت) لے کر آیا تو اس سے ضرور دشمنی کی گئی اور اگر میں نے تمہارا زمانہ پا لیا تو میں تمہاری زبردست مدد کروں گا، پھر ورقہ جلد ہی وفات پا گئے اور کچھ عرصہ کے لیے وحی رک گئی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5841]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3) و مسلم (253 / 160)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (تَسْلِيَةُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِلنَّبِيِّ مِرَارًا)
جبرائیل علیہ السلام کا آپ کو بار بار تسلی دینا
حدیث نمبر: 5842
5842 - وَزَادَ الْبُخَارِيُّ، حَتَّى حَزِنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا بَلَغَنَا - حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجَبَلِ ، فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهُ، تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا. فَيَسْكُنُ لِذَلِكَ جَأْشُهُ، وَتَقِرُّ نَفْسُهُ.
اور امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمگین ہو گئے، ہمیں جو روایات پہنچی ہیں، ان کے مطابق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید غمگین ہو گئے، کئی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ پہاڑ کی چوٹی سے اپنے آپ کو نیچے گرا لیں، وہ جب بھی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر اپنے آپ کو گرانے لگتے تو جبریل علیہ السلام آپ کے سامنے آ جاتے اور کہتے: ”محمد! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قلبی اضطراب ختم ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکون محسوس کرتے۔ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5842]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6982)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (أَوَّلُ وَحْيٍ وَخَوْفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
سب سے پہلی وحی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف زدہ ہوتا
حدیث نمبر: 5843
5843 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ، قَالَ: (فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَجُئِثْتُ مِنْهُ رُعْبًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ، فَجُئِثْتُ إِلَى أَهْلِي، فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي، فَزَمَّلُونِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ، ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وحی کے رک جانے کے زمانے کے متعلق حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس اثنا میں کہ میں چلا جا رہا تھا تو میں نے آسمان میں ایک آواز سنی، میں نے اپنی نظر اٹھائی تو میں نے دیکھا کہ وہی فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آیا تھا، آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے، میں اس کے رعب سے خوف زدہ ہوا اور زمین پر گر پڑا، اس کے بعد میں اپنے اہل خانہ کے پاس آ گیا، اور میں نے کہا: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي» ”مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو“، چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ [سورة المدثر: 1-5] ”کمبل اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ جائیں اور لوگوں کو (عذاب الٰہی سے) ڈرائیں، اپنے رب کی بڑائی بیان کریں، اپنے کپڑوں کو صاف ستھرا رکھیں اور گندگی سے دور رہیں۔“ پھر وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5843]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4) و مسلم (255/ 161)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (كَيْفِيَّاتُ نُزُولِ الوَحْيِ)
نزول وحی کی کیفیات
حدیث نمبر: 5844
5844 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ ، فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي، فَأَعِي مَا يَقُولُ) . قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی وہ میرے پاس گھنٹی کی سی آواز کی صورت میں آتی ہے، اور وہ مجھ پر نہایت سخت ہوتی ہے، پھر جب وہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو جو وہ کہتا ہے، میں اسے یاد کر لیتا ہوں؛ اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، پس وہ جو کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ شدید سردی کے دن آپ پر وحی نازل ہوتی تو آپ سے پسینہ پھوٹ پڑتا اور آپ کی پیشانی پسینے سے شرابور ہو جاتی۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5844]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2) و مسلم (87، 86 / 2333)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (كَيْفَ كَانَتْ حَالَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ نُزُولِ الوَحْيِ؟)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نزول وحی کے وقت کیا کیفیت ہوتی تھی
حدیث نمبر: 5845
5845 - وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ كُرِبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ وَفِي رِوَايَةٍ: نَكَّسَ رَأْسَهُ، وَنَكَّسَ أَصْحَابُهُ رُءُوسَهُمْ، فَلَمَّا أُتْلِيَ عَنْهُ رَفَعَ رَأْسَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرب محسوس کرتے اور آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہو جاتا تھا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر جھک جاتا اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے سر جھکا لیتے تھے، اور جب وحی ختم ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا سر اٹھا لیتے تھے۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5845]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (88/ 2334، 2335/89)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (88/ 2334، 2335/89)
--. (الدَّعْوَةُ الأُولَى عَلَى جَبَلِ الصَّفَا)
کوہ صفا پر اولین دعوت
حدیث نمبر: 5846
5846 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا، فَجَعَلَ يُنَادِي: (يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي عَدِيٍّ) لِبُطُونِ قُرَيْشٍ حَتَّى تَجَمَّعُوا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَخْرُجَ أَرْسَلَ رَسُولًا لِيَنْظُرَ مَا هُوَ، فَجَاءَ أَبُو لَهَبٍ وَقُرَيْشٌ فَقَالَ: (أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ مِنْ صَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ - وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ - أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟) قَالُوا: نَعَمْ، مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا. قَالَ: (فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ) . قَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ، لِهَذَا جَمَعْتَنَا؟ فَنَزَلَتْ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور صفا پر چڑھ کر آواز دینے لگے: ”بنو فہر! بنو عدی!“ آپ نے قریش کے قبیلوں کو آواز دی، حتی کہ وہ سب جمع ہو گئے، اگر کوئی آدمی خود نہیں آ سکتا تھا تو اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا تھا تاکہ وہ دیکھے کہ کیا معاملہ ہے، چنانچہ ابولہب اور قریشی بھی آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ، اگر میں تمہیں بتاؤں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک لشکر آنے والا ہے۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”اس وادی کے پیچھے ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے، کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، کیونکہ ہم نے آپ کو سچا ہی پایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں سخت عذاب سے، جو تمہارے سامنے آ رہا ہے، تمہیں ڈراتا ہوں۔“ ابولہب بول اٹھا: (نعوذ باللہ) تم ہلاک ہو جاؤ، تم نے اس لیے ہمیں جمع کیا تھا؟ اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [سورة المسد: 1] ۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5846]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4971) و الرواية الأولي (4770) و مسلم (208/355)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (عِنْدَمَا رُمِيَتْ أَوْجَارُ الإِبِلِ وَالأَوْسَاخُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اونٹ کی اوجڑی اور غلاظت پھینکی گئی
حدیث نمبر: 5847
5847 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ وَجُمِعَ قُرَيْشٌ فِي مَجَالِسِهِمْ، إِذْ قَالَ قَائِلٌ: أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى جَزُورِ آلِ فُلَانٍ فَيَعْمِدُ إِلَى فَرْثِهَا وَدَمِهَا وَسَلَاهَا ثُمَّ يُمْهِلُهُ حَتَّى إِذَا سَجَدَ وَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ؟ فَانْبَعَثَ أَشْقَاهُمْ فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ . وَثَبَتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدًا. فَضَحِكُوا حَتَّى مَالَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنَ الضَّحِكِ، فَانْطَلَقَ مُنْطَلِقٌ إِلَىفَاطِمَةَ، فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى، وَثَبَتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدًا حَتَّى أَلْقَتْهُ عَنْهُ، وَأَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَسُبُّهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ قَالَ: (اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ) ثَلَاثًا وَكَانَ إِذَا دَعَا دَعَا ثَلَاثًا، وَإِذَا سَأَلَ سَأَلَ ثَلَاثًا: (اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ، ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ. ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (وَأُتْبِعَ أَصْحَابُ الْقَلِيبِ لَعْنَةً) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے جبکہ قریشی اپنی مجالس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے کہا: تم میں سے کون فلاں قبیلے کے ذبح کیے ہوئے اونٹوں کے پاس جائے اور وہ وہاں سے اس کا گوبر، خون اور پوست اٹھا لائے، پھر وہ انتظار کرے اور جب وہ سجدے میں جائیں تو وہ ان چیزوں کو ان کی گردن پر رکھ دے؟ چنانچہ ان میں سے سب سے زیادہ بدبخت شخص اٹھا، (اور وہ سب چیزیں لے آیا) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں گئے تو اس نے وہ چیزیں آپ کی گردن پر رکھ دیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے ہی کی حالت میں رہے، وہ (مشرکین) دیکھ کر ہنس رہے تھے اور ہنسی کی وجہ سے ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے، چنانچہ ایک شخص فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا (اور انہیں بتایا) تو وہ دوڑتی ہوئی تشریف لائیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے ہی کی حالت میں تھے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس (غلاظت) کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اتار پھینکا اور انہیں برا بھلا کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ» ”اے اللہ! تو قریش کو پکڑ لے، اے اللہ! تو قریش کو پکڑ لے، اے اللہ! تو قریش کو پکڑ لے۔“ تین بار فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کرتے تو تین بار دعا کرتے تھے، اور جب (اللہ سے) کوئی چیز طلب فرماتے تو تین بار طلب فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ» ”اے اللہ! عمرو بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید کو پکڑ لے۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اللہ کی قسم! بدر کے دن میں نے ان سب کو مقتول پایا، پھر انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قلیب والوں پر لعنت برسا دی گئی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5847]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (520) و مسلم (107/ 1794)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِينَ فِي دَعْوَةِ الدِّينِ)
دعوت دین میں رحمتہ للعالمین
حدیث نمبر: 5848
5848 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ؟ فَقَالَ: (لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ، فَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ، إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ كُلَالٍ، فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ - عَلَى وَجْهِي، فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ، فَنَادَانِي فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ) . قَالَ: (فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ، وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْنِ) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ، وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ پر احد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن گزرا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تمہاری قوم کی طرف سے بہت سے مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن عقبہ کے دن مجھے ان کی طرف سے بہت تکلیف پہنچی ہے، جب میں نے ابن عبدِ یاليل بن کلال پر دعوت پیش کی اور اس نے میری دعوت قبول نہ کی، میں حیران و پریشان واپس چل پڑا، مجھے معلوم نہ تھا کہ میں کس سمت چل رہا ہوں، قرنِ ثعالب پر پہنچ کر مجھے کچھ پتہ چلا، میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ بادل کے ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کیا ہوا ہے، اس میں جبرائیل علیہ السلام ہیں، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ نے آپ کی قوم کی بات اور ان کا جواب سن لیا ہے، اور اس نے پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ ان کے متعلق جو چاہیں حکم فرمائیں۔“ فرمایا: ”پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے آواز دی، اس نے مجھے سلام کہہ کر عرض کیا: اے محمد! اللہ نے آپ کی قوم کی بات سن لی ہے، اور میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں، آپ کے رب نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ جو چاہیں مجھے حکم فرمائیں، اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ لا کر ان پر ملا دوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کے صلب سے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5848]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3231) و مسلم (111/ 1795)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه