مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَحْدَاثُ سَفَرِ الهِجْرَةِ)
سفر ہجرت کے واقعات
حدیث نمبر: 5869
5869 - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ! حَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا حِينَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَمِنَ الْغَدِ، حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ . وَخَلَا الطَّرِيقُ لَا يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ، فَرُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ، لَهَا ظِلٌّ لَمْ يَأْتِ عَلَيْهَا الشَّمْسُ، فَنَزَلْنَا عِنْدَهَا، وَسَوَّيْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَانًا بِيَدَيَّ يَنَامُ عَلَيْهِ، وَبَسَطْتُ عَلَيْهِ فَرْوَةً، وَقُلْتُ: نَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَنْفُضُ مَا حَوْلَكَ، فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ مُقْبِلٍ، قُلْتُ: أَفِي غَنَمِكَ لَبَنٌ؟ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: أَفَتَحْلِبُ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَأَخَذَ شَاةً فَحَلَبَ فِي قَعْبٍ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، وَمَعِي إِدَاوَةٌ حَمَلْتُهَا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْتَوَى فِيهَا، يَشْرَبُ وَيَتَوَضَّأُ، فَأَتَيْتُ الْنَبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ فَوَافَقْتُهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ، فَصَبَبْتُ مِنَ الْمَاءِ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ، ثُمَّ قَالَ: (أَلَمْ يَأْنِ لِلرَّحِيلِ؟) قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: فَارْتَحَلْنَا بَعْدَمَا مَالَتِ الشَّمْسُ، وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقُلْتُ: أُتِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: (لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا) فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَارْتَطَمَتْ بِهِ فَرَسُهُ إِلَى بَطْنِهَا فِي جَلَدٍ مِنَ الْأَرْضِ فَقَالَ: إِنِّي أَرَاكُمَا دَعَوْتُمَا عَلَيَّ، فَادْعُوَا لِي، فَاللَّهُ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا الطَّلَبَ، فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَجَا، فَجَعَلَ لَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا قَالَ: كُفِيتُمْ، مَا هَاهُنَا، فَلَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا رَدَّهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما اپنے والد (عازب رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: ابوبکر! جب آپ رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (ہجرت کے لیے) روانہ ہوئے تو آپ کا یہ سفر کیسے گزرا؟ انہوں نے فرمایا: ہم رات بھر اور اگلے روز دوپہر تک چلتے رہے، راستہ خالی تھا، وہاں سے کوئی بھی نہیں گزر رہا تھا، ہمیں ایک طویل چٹان نظر آئی جس کا سایہ تھا، ابھی وہاں دھوپ نہیں آئی تھی، ہم نے وہاں قیام کیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آرام کے لیے اپنے ہاتھوں سے جگہ برابر کی، اس پر ایک پوستین بچھائی اور پھر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ سو جائیں اور میں اردگرد کے حالات کا جائزہ لیتا ہوں، آپ سو گئے اور میں جائزہ لینے کے لیے باہر نکل آیا، میں نے ایک چرواہا آتے ہوئے دیکھا اور اسے کہا: کیا تیری بکریاں دودھ دیتی ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا تم (میرے لیے) دودھ نکالو گے؟ اس نے کہا: ہاں، اس نے ایک بکری پکڑی اور لکڑی کے پیالے میں دودھ دوہا، اور میرے پاس ایک برتن تھا جسے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ساتھ رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے سیراب ہوتے اور اسی سے پانی پیتے اور وضو کیا کرتے تھے، میں دودھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، میں نے انتظار کیا حتیٰ کہ آپ بیدار ہوئے، میں نے دودھ پر پانی ڈالا حتیٰ کہ اس کا نچلا حصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نوش فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا تو مجھے فرحت میسر آئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوچ کرنے کا وقت نہیں ہوا؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ہو گیا ہے، فرمایا: ہم نے زوالِ آفتاب کے بعد کوچ کیا اور سراقہ بن مالک نے ہمارا پیچھا کیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پیچھا کرنے والا ہمیں آ لینا چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا» ”غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے بددعا فرمائی تو اس کا گھوڑا پیٹ تک سخت زمین میں دھنس گیا، اس نے کہا: میں نے دیکھ لیا ہے کہ تم نے میرے لیے بددعا کی ہے، تم میرے لیے دعا کرو اور میں تمہیں اللہ کی ضمانت دیتا ہوں کہ میں تمہاری تلاش میں نکلنے والوں کو تمہارے پیچھے نہیں آنے دوں گا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی تو وہ نجات پا گیا، پھر وہ جسے بھی ملتا اس سے یہی کہتا: اس طرف تمہیں جانے کی ضرورت نہیں، میں ادھر سے ہو آیا ہوں، اس طرح وہ ہر ملنے والے کو واپس کر دیتا۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5869]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3615) ومسلم (75/ 2009)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (إِسْلَامُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ وَمَكْرُ اليَهُودِ)
عبداللہ بن سلام کا قبول اسلام اور یہود کی چال بازی
حدیث نمبر: 5870
5870 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ بِمَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي أَرْضٍ يَخْتَرِفُ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ: فَمَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، وَمَا أَوَّلُ طَعَامِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ وَمَا يَنْزِعُ الْوَلَدَ، إِلَى أَبِيهِ أَوْ إِلَى أُمِّهِ؟ قَالَ: (أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ آنِفًا ; أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ ، وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزْعَ الْوَلَدَ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ نَزَعَتْ) . قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ، وَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا إِسْلَامِي مِنْ قَبْلِ أَنْ تَسْأَلَهُمْ يَبْهَتُونَنِي، فَجَاءَتِ الْيَهُودُ فَقَالَ: (أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ فِيكُمْ؟) قَالُوا: خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا، وَسَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا فَقَالَ: (أَرَأَيْتَ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ؟) قَالُوا: أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ. فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا، فَانْتَقَصُوهُ، قَالَ: هَذَا الَّذِي كُنْتُ أَخَافُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کے متعلق سنا تو وہ اس وقت پھل توڑ رہے تھے، وہ فوراً نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں آپ سے تین سوال کرتا ہوں جنہیں صرف نبی ہی جانتا ہے، (بتائیں) علاماتِ قیامت میں سے سب سے پہلی نشانی کیا ہے؟ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا ہو گا؟ بچہ کب اپنے والد کے مشابہ ہوتا ہے اور کب اپنی والدہ کے مشابہ ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل نے ابھی ابھی ان کے متعلق مجھے بتایا ہے، جہاں تک علاماتِ قیامت کا تعلق ہے تو پہلی علامت ایک آگ ہو گی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کر دے گی، رہا جنتیوں کا پہلا کھانا تو وہ مچھلی کے جگر کا ایک کنارہ ہو گا، اور جب آدمی کا پانی عورت کے پانی (منی) پر غالب آ جاتا ہے تو بچہ والد کے مشابہ ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی غالب آ جاتا ہے تو بچہ عورت کے مشابہ ہو جاتا ہے۔“ (یہ جواب سن کر) انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں، (پھر فرمایا) اللہ کے رسول! یہودی بڑے بہتان باز ہیں، اگر انہیں، اس سے پہلے کہ آپ ان سے میرے متعلق پوچھیں، میرے اسلام قبول کرنے کا پتہ چل گیا تو وہ مجھ پر بہتان لگائیں گے، چنانچہ اتنے میں یہودی آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ کا تمہارے ہاں کیا مقام ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ وہ ہم میں سب سے بہتر، ہم میں سب سے بہتر کے بیٹے، ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ اگر عبداللہ بن سلام اسلام قبول کر لیں (تو پھر)؟“ انہوں نے کہا: اللہ انہیں اس سے پناہ میں رکھے، عبداللہ رضی اللہ عنہ اسی دوران باہر تشریف لے آئے اور انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، پھر یہ (یہودی ان کے بارے میں) کہنے لگے: وہ ہم میں سب سے برا ہے اور ہم میں سے سب سے برے کا بیٹا ہے، اور وہ ان کی تنقیص و توہین کرنے لگے، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہی وہ چیز تھی جس کا مجھے اندیشہ تھا۔ [رواہ البخاري] [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5870]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4480)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (تَعْيِينُ مَوَاقِعِ قَتْلَى مُشْرِكِي مَكَّةَ فِي مَيْدَانِ بَدْرٍ)
میدان بدر میں مشرکین مکہ کے قتل ہونے کے مقامات کی نشان دہی
حدیث نمبر: 5871
5871 - وَعَنْهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاوَرَ حِينَ بَلَغَنَا إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ، وَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاهَا، وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا. قَالَ: فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى نَزَلُوا بَدْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ) وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، قَالَ: فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابوسفیان کی آمد کا ہمیں پتہ چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ کیا، تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آپ ہمیں سمندر میں کود جانے کا حکم فرمائیں گے تو ہم اس میں ضرور کود جائیں گے، اور اگر آپ ہمیں بَرکِ غِماد تک جانے کا حکم فرمائیں گے تو ہم وہاں تک بھی پہنچیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو بلایا، پھر کوچ کیا حتیٰ کہ بدر کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں فلاں قتل ہو گا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دستِ مبارک سے زمین پر نشان لگا رہے تھے: ”یہاں اور یہاں“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نشان کی جگہ سے کوئی بھی آگے پیچھے قتل نہیں ہوا تھا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5871]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (83/ 1779)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (دُعَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَيْدَانِ بَدْرٍ)
میدان بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا
حدیث نمبر: 5872
5872 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ الْنَبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ: (اللَّهُمَّ أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ) فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَقَالَ: حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ وَهُوَ يَقُولُ: (سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ) . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ بدر کے موقع پر اپنے خیمے میں یوں دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے عہد و امان اور تیرے وعدے کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! کیا تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے؟“ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کا دستِ مبارک پکڑ لیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بس کیجیے! آپ نے رب سے کس قدر اصرار سے دعا کی ہے، پھر آپ باہر تشریف لائے اس وقت آپ خوب تیز چل رہے تھے اور آپ نے زرہ پہن رکھی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: ﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ [سورة القمر: 45] ”عنقریب یہ گروہ شکست کھا جائے گا، اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5872]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4875)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَعُونَةُ المَلَائِكَةِ)
فرشتوں کی مدد
حدیث نمبر: 5873
5873 - وَعَنْهُ، أَنَّ الْنَبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ: (هَذَا جِبْرِيلُ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ، عَلَيْهِ أَدَاةُ الْحَرْبِ) . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بدر کے روز نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبرائیل علیہ السلام آلاتِ حرب سجائے اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے تشریف لا رہے تھے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5873]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3995)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (قِتَالُ المَلَائِكَةِ إِلَى جَانِبِ المُسْلِمِينَ)
فرشتوں کا مسلمانوں کے ساتھ ہو کر قتال کرنا
حدیث نمبر: 5874
5874 - وَعَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِي إِثْرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ، إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَهُ، وَصَوْتُ الْفَارِسِ يَقُولُ: أَقْدِمْ حَيْزُومُ. إِذْ نَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ خَرَّ مُسْتَلْقِيًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ وَشُقَّ وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ السَّوْطِ، فَاخْضَرَّ ذَلِكَ أَجْمَعُ، فَجَاءَ الْأَنْصَارِيُّ، فَحَدَّثَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: (صَدَقْتَ، ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ) فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اس روز ایک مسلمان، ایک مشرک کا پیچھا کر رہا تھا، اس کے آگے اس (مسلمان) نے اس (مشرک) کے اوپر ایک کوڑے کی آواز سنی، اور گھڑ سوار کو یہ کہتے ہوئے سنا: «أَقْدِمْ حَيْزُومُ» ”حیزوم (گھوڑے کا نام ہے) آگے بڑھ۔“ اچانک اس (مسلمان) نے مشرک کو اپنے سامنے چت گرا ہوا پایا اور اس نے اسے دیکھا کہ کوڑا پڑنے سے اس کی ناک اور اس کا چہرہ پھٹ چکا تھا اور جہاں کوڑا پڑا تھا وہ جگہ کالی ہو گئی تھی، وہ انصاری آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، یہ تیسرے آسمان سے مدد آئی تھی۔“ اس دن انہوں نے ستر (کافروں) کو قتل کیا اور ستر کو قیدی بنایا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5874]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (58/ 1763)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (نُزُولُ المَلَائِكَةِ فِي غَزْوَةِ أُحُدٍ)
غزوہ احد میں فرشتوں کا نزول
حدیث نمبر: 5875
5875 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ، عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ، يُقَاتِلَانِ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ يَعْنِي جَبْرَئِيلَ وَمِيكَائِيلَ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے احد کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمی دیکھے، ان پر سفید کپڑے تھے اور وہ بڑی شدت کے ساتھ لڑ رہے تھے، میں نے ان دونوں کو اس سے پہلے دیکھا تھا نہ بعد میں، یعنی وہ جبریل اور میکائیل علیہما السلام تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5875]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4045) و مسلم (46/ 2306)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (زَوَالُ أَلَمِ السَّاقِ)
پنڈلی کا درد کافور ہو گیا
حدیث نمبر: 5876
5876 - وَعَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَهْطًا إِلَى أَبِي رَافِعٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ بَيْتَهُ لَيْلًا وَهُوَ نَائِمٌ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ: فَوَضَعْتُ السَّيْفَ فِي بَطْنِهِ، حَتَّى أَخَذَ فِي ظَهْرِهِ، فَعَرَفْتُ أَنِّي قَتَلْتُهُ، فَجَعَلْتُ أَفْتَحُ الْأَبْوَابَ، حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى دَرَجَةٍ، فَوَضَعْتُ رِجْلِي فَوَقَعْتُ، فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ، فَانْكَسَرَتْ سَاقِي، فَعَصَبَتُهَا بِعِمَامَةٍ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: (ابْسُطْ رِجْلَكَ) . فَبَسَطْتُ رِجْلِي فَمَسَحَهَا، فَكَأَنَّمَا لَمْ أَشْتَكِهَا قَطُّ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند آدمیوں کو ابورافع (یہودی) کی طرف بھیجا، عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ رات کے وقت اس کے گھر میں داخل ہو گئے اور اسے قتل کر دیا، عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے تلوار اس کے پیٹ میں اتار دی حتیٰ کہ وہ اس کی پشت تک پہنچ گئی، جب مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے، تو میں دروازے کھولنے لگا حتیٰ کہ میں آخری زینے تک پہنچ گیا، میں نے اپنا پاؤں رکھا اور میں گر گیا، چاندنی رات تھی، میری پنڈلی ٹوٹ گئی، میں نے عمامے کے ساتھ اس پر پٹی باندھی، اور میں اپنے ساتھیوں کے پاس چلا آیا پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پورا واقعہ بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا پاؤں پھیلاؤ۔“ میں نے اپنا پاؤں پھیلایا تو آپ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا تو وہ ایسے ہو گیا جیسے کبھی اس میں تکلیف ہوئی ہی نہ تھی۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5876]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3022)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَرَكَةُ الطَّعَامِ فِي غَزْوَةِ الأَحْزَابِ)
غزوہ احزاب میں کھانے کی برکت
حدیث نمبر: 5877
5877 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ، فَعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيدَةٌ، فَجَاءُوا الْنَبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: هَذِهِ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ. فَقَالَ: (أَنَا نَازِلٌ) . ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهُ مَعْصُوبٌ بِحَجَرٍ. وَلَبِثْنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لَا نَذُوقُ ذَوَاقًا، فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِعْوَلَ، فَضَرَبَ فَعَادَ كَثِيبًا أَهْيَلَ، فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي فَقُلْتُ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْصًا. شَدِيدًا، فَأَخْرَجَتْ جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ، وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ فَذَبَحْتُهَا، وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ، حَتَّى جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ، ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَارَرْتُهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا، وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ، فَصَاحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنْ جَابِرًا صَنَعَ سُورًا فَحَيَّ هَلًا بِكُمْ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ) . وَجَاءَ، فَأَخْرَجْتُ لَهُ عَجِينًا. فَبَصَقَ فِيهِ وَبَارَكَ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا فَبَصَقَ وَبَارَكَ، ثُمَّ قَالَ: (ادْعُ خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكِ، وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ، وَلَا تُنْزِلُوهَا) . وَهُمْ أَلْفٌ، فَأَقْسَمَ بِاللَّهِ لَأَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا، وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ، وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَزُ كَمَا هُوَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم غزوۂ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے تو ایک بہت سخت چٹان نکل آئی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: خندق میں یہ ایک چٹان نکل آئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(اچھا) میں اترتا ہوں“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا، تین دن گزر چکے تھے اور ہم نے کوئی چیز چکھ کر بھی نہیں دیکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدال پکڑ کر ماری تو وہ (چٹان) ایسی ریت کی مانند ہو گئی جو آسانی سے گرتی ہے، میں اپنی اہلیہ کے پاس آیا تو پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ (کھانے کو) ہے؟ کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت بھوک کے عالم میں دیکھا ہے، اس نے ایک تھیلی نکالی اس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس بکری کا ایک بچہ تھا، میں نے اسے ذبح کیا، جو پسے حتیٰ کہ ہم نے گوشت کو ہنڈیا میں رکھا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور سرغوشی کے انداز میں عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے اپنا بکری کا ایک بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا گوندھا ہے، لہذا آپ تشریف لائیں اور کچھ ساتھیوں کو بھی ساتھ لے چلیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے آواز دی: ”خندق والو! جابر نے ضیافت کا اہتمام کیا ہے، آؤ جلدی کرو“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے آنے تک اپنی ہنڈیا چولہے سے اتارنا نہ روٹی پکانا شروع کرنا“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آٹا نکالا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب ملایا اور برکت کی دعا کی، پھر فرمایا: ”روٹی پکانے والی کو بلاؤ وہ تمہارے ساتھ روٹی پکائے اور ہنڈیا سے سالن نکالتے رہو، لیکن اسے چولہے سے نیچے نہ اتارو“ وہ ایک ہزار کی تعداد میں تھے، میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں کہ ان سب نے کھا لیا حتیٰ کہ وہ بچ گیا اور وہ واپس چلے گئے، جبکہ ہماری ہنڈیا پہلے کی طرح بھری ہوئی تھی اور آٹے کی روٹیاں پہلے کی طرح پکائی جا رہی تھیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5877]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4101. 4102) و مسلم (141/ 2039)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (تَنَبُّؤٌ عَنْ حَضْرَةِ عَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي غَزْوَةِ الخَنْدَقِ)
غزوہ خندق، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں پیشگوئی
حدیث نمبر: 5878
5878 - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَمَّارٍ حِينَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ: (بُؤْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ! تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خندق کھودتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا، آپ اس وقت ان کے سر پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”سمیہ کے بیٹے! تجھے تکالیف کا سامنا ہو گا اور تجھے باغی گروہ شہید کرے گا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5878]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (71، 70/ 2915)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (71، 70/ 2915)