🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (تَنَبُّؤٌ عَنْ قُرَيْشٍ مَكَّةَ فِي غَزْوَةِ الخَنْدَقِ)
غزوہ خندق کے موقع پر قریش مکہ کے بارے میں پیشگوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5879
5879 - وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَجْلَى الْأَحْزَابَ عَنْهُ: (الْآنَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَا، نَحْنُ نَسِيرُ إِلَيْهِمْ) . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب گروہ متفرق ہو گئے تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اب ہم ان پر چڑھائی کریں گے، وہ ہم پر چڑھائی نہ کر سکیں گے، اب ہم ان کی طرف پیش قدمی کریں گے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5879]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4019. 4110)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (غَزْوَةُ بَنِي قُرَيْظَةَ)
غزوہ بنی قریظہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5880
5880 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:"لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ أَتَاهُ جَبْرَئِيلُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ، فَقَالَ: (قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ؟ وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ، اخْرُجْ إِلَيْهِمْ) . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (فَأَيْنَ) فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ  ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خندق سے واپس آئے، ہتھیار رکھ دیے اور غسل فرما لیا تو جبریل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے، وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے، انہوں نے فرمایا: ”آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں، اللہ کی قسم! میں نے ابھی تک زیب تن کر رکھے ہیں، ان کی طرف چلیں۔“ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کہاں؟“ انہوں نے قریظہ کی طرف اشارہ فرمایا، چنانچہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف روانہ ہوئے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5880]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4117) و مسلم (65/ 1769)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي غَزْوَةِ بَنِي قُرَيْظَةَ)
غزوہ بنی قریظہ میں جبرئیل علیہ السلام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5881
5881 - وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْغُبَارِ سَاطِعًا فِي زُقَاقِ بَنِيَ غَنْمٍ مَوْكِبَ جَبْرَئِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ  .
صحیح بخاری کی روایت میں ہے، انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، گویا میں بنو غنم کی گلیوں میں اٹھتا ہوا غبار دیکھ رہا ہوں جو جبریل علیہ السلام کے ساتھیوں کی وجہ سے اڑ رہا تھا، یہ اس وقت ہوا جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو قریظہ کی طرف چلے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5881]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4118)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عِنْدَمَا صَارَتِ الأَصَابِعُ عَيْنًا)
جب انگلیاں چشمہ بن گئیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5882
5882 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ يَدَيْهِ رِكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ نَحْوَهُ، قَالُوا: لَيْسَ عَنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ وَنَشْرَبُ إِلَّا مَا فِي رِكْوَتِكَ، فَوَضْعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فِي الرِّكْوَةِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ  ، قَالَ: فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا. قِيلَ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پیاس لگی، جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پانی کا ایک برتن تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے وضو کیا، پھر لوگ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا: ہمارے پاس پانی نہیں جس سے ہم وضو کر سکیں اور پی سکیں، فقط وہی ہے جو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چھاگل میں ہے، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا دستِ مبارک چھاگل میں رکھا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں سے چشموں کی طرح پانی بہنے لگا، راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے پانی پیا اور وضو کیا، جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: اس وقت تمہاری تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے فرمایا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تب بھی وہ پانی ہمیں کافی ہوتا، البتہ ہم اس وقت پندرہ سو تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5882]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4152) و مسلم (73/ 1856)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَرَكَاتُ لُعَابِ النَّبِيِّ)
لعاب نبوی کی برکا ت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5883
5883 - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً يَوْمَ حُدَيْبِيَةَ - وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ ـ فَنَزَحْنَاهَا، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً، فَبَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهَا، فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ مَضْمَضَ  ، وَدَعَا ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا، ثُمَّ قَالَ: (دَعُوهَا سَاعَةً) فَأَرْوَوْا أَنْفُسَهُمْ وَرِكَابَهُمْ حَتَّى ارْتَحَلُوا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، حدیبیہ کے روز ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چودہ سو کی تعداد میں تھے، حدیبیہ ایک کنواں تھا، ہم نے اس سے سارا پانی نکال لیا تھا اور اس میں ایک قطرہ تک نہیں چھوڑا تھا، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ وہاں تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ گئے، پھر آپ نے پانی کا ایک برتن منگایا، وضو فرمایا، پھر کلی کی، دعا کی، پھر اس کو اس (کنویں) میں انڈیل دیا، پھر فرمایا: ”کچھ دیر اسے رہنے دو۔“ چنانچہ (اس کے بعد) انہوں نے خود پیا، اپنے جانوروں کو پلایا اور کوچ کرنے تک یہ (پینے، پلانے کا) سلسلہ جاری رہا۔ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5883]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4150)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَرَكَةٌ فِي المَاءِ)
پانی میں برکت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5884
5884 - وَعَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ مِنَ الْعَطَشِ، فَنَزَلَ، فَدَعَا فُلَانًا - كَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ - وَدَعَا عَلِيًّا، فَقَالَ: (اذْهَبَا فَابْتَغِيَا الْمَاءَ) . فَانْطَلَقَا، فَتَلَقَّيَا امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ. فَجَاءَا بِهَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِنَاءٍ، فَفَرَّغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ وَنُودِيَ فِي النَّاسِ: اسْقُوا، فَاسْتَقَوْا قَالَ: فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلًا، حَتَّى رَوِينَا، فَمَلَأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ، وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَقْلَعَ عَنْهَا وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مِنْهَا حِينَ ابْتَدَأَ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عوف رحمہ اللہ ابورجاء سے اور وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم ایک سفر میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں نے آپ سے پیاس کی شکایت کی، آپ سواری سے نیچے اترے اور آپ نے فلاں شخص کو آواز دی، ابورجاء نے اس شخص کا نام لیا تھا لیکن عوف اس کا نام بھول گئے، اور آپ نے علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور فرمایا: ”دونوں جاؤ اور پانی تلاش کرو۔“ وہ دونوں گئے اور پانی کی تلاش شروع کی، وہ چلتے گئے حتیٰ کہ وہ ایک عورت سے ملے جو پانی کے دو مشکیزے اپنے اونٹ پر لٹکائے ہوئے اور خود ان کے درمیان بیٹھی جا رہی تھی، وہ دونوں اسے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے آئے، انہوں نے اس کو اس کے اونٹ سے نیچے اتار لیا اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک برتن منگایا اور دونوں مشکیزوں کے منہ اس برتن میں کھول دیے، اور تمام لوگوں میں اعلان کرا دیا گیا کہ: ”خود بھی پیو اور جانوروں کو بھی پلاؤ۔“ راوی بیان کرتے ہیں، ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور ہم نے اپنے تمام مشکیزے اور برتن بھی بھر لیے، اللہ کی قسم! جب ان سے پانی لینا بند کر دیا تو ہمیں ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ اب ان میں پانی پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5884]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (344) و مسلم (312/ 682)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الشَّجَرُ أَيْضًا خَضَعَ لَهُ)
درخت بھی آپ کے تابع ہو گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5885
5885 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْضِي حَاجَتَهُ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَسْتَتِرُ بِهِ، وَإِذَا شَجَرَتَيْنِ بِشَاطِئِ الْوَادِي، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا فَقَالَ: (انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ) فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ، حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرَى فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ: (انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ)  . فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِالْمَنْصَفِ مِمَّا بَيْنَهُمَا قَالَ: (الْتَئِمَا عَلَيَّ، بِإِذْنِ اللَّهِ) . فَالْتَأَمَتَا، فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي، فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ، فَإِذَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقْبِلًا، وَإِذَا الشَّجَرَتَيْنِ قَدِ افْتَرَقَتَا، فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ تھے حتیٰ کہ ہم نے ایک وسیع وادی میں پڑاؤ کیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، آپ نے اوٹ کے لیے کوئی چیز نہ دیکھی البتہ وادی کے کنارے پر دو درخت دیکھے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان میں سے ایک کی طرف چل دیے اور اس کی ایک شاخ پکڑ کر فرمایا: ”اللہ کے حکم سے مجھ پر پردہ کر۔“ چنانچہ اس نے نکیل دیے ہوئے اونٹ کی طرح جھک کر آپ کے اوپر پردہ کیا، جس طرح وہ اپنے قائد کی اطاعت کرتا ہے، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوسرے درخت کے پاس گئے اور اس کی ایک شاخ کو پکڑ کر فرمایا: ”اللہ کے حکم سے مجھ پر پردہ کر۔“ وہ بھی اسی طرح آپ پر جھک گیا، حتیٰ کہ جب وہ دونوں نصف فاصلے پر پہنچ گئے تو فرمایا: ”اللہ کے حکم سے مجھ پر سایہ کر دو۔“ چنانچہ وہ دونوں قریب ہو گئے (حتیٰ کہ آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو گئے) میں بیٹھا اپنے دل میں سوچ رہا تھا کہ اتنے میں اچانک رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے، اور میں نے دونوں درختوں کو دیکھا کہ وہ الگ الگ ہو گئے اور ہر ایک اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5885]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (74/ 3012)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (شِفَاءُ الأَمْرَاضِ)
شفاء امراض
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5886
5886 - وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُسْلِمٌ مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ؟ قَالَ: ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأَتَيْتُ الْنَبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ  . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
یزید بن ابی عبید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی پر چوٹ کا نشان دیکھا تو میں نے کہا: ابومسلم! یہ چوٹ کیسی ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ چوٹ مجھے غزوۂ خیبر کے موقع پر لگی تھی، لوگوں نے تو کہہ دیا تھا: سلمہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے وہاں تین بار دم کیا اور پھر آج تک مجھے اس کی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5886]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4206)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُمُوعٌ ثَمِينَةٌ مِنَ النَّاسِ)
لوگوں سے قیمتی آنسو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5887
5887 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَعَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَيْدًا وَجَعْفَرًا وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ  فَقَالَ: (أَخْذَ الرَّايَةَ زِيدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ ـ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ ـ حَتَّى أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ - يَعْنِي خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدَ - حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ) . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زید، جعفر اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی خبر شہادت آنے سے پہلے ہی ان کی شہادت کے متعلق لوگوں کو بتا دیا تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”زید نے پرچم تھام لیا اور وہ شہید کر دیے گئے، پھر جعفر نے تھام لیا وہ بھی شہید کر دیے گئے، پھر ابن رواحہ نے تھام لیا تو وہ بھی شہید کر دیے گئے۔“ اس وقت آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، (پھر فرمایا:) ”حتیٰ کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار یعنی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پرچم تھام لیا اور اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5887]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4262)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَعْرَكَةُ حُنَيْنٍ)
معرکہ حنین
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5888
5888 - وَعَنْ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ  ، فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ، وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكُفُّهَا إِرَادَةَ أَنْ لَا تُسْرِعَ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (أَيْ عَبَّاسُ! نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ) . فَقَالَ عَبَّاسٌ - وَكَانَ رَجُلًا صَيِّتًا - فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي: أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا. فَقَالُوا: يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ، قَالَ: فَاقْتَتَلُوا وَالْكُفَّارَ، وَالدَّعْوَةُ فِي الْأَنْصَارِ يَقُولُونَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ! يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ! قَالَ: ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ. فَقَالَ: هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ. ثُمَّ أَخَذَ حَصَيَاتٍ، فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ، ثُمَّ قَالَ: (انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ) فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ، فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، غزوۂ حنین کے موقع پر میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، جب مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا تو کچھ مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے خچر کو کفار کی طرف بھگا رہے تھے اور میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھا، میں اس (خچر) کو روک رہا تھا کہ وہ تیز نہ دوڑے جبکہ ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رکاب تھامے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عباس! درخت (کے نیچے بیعتِ رضوان کرنے) والوں کو آواز دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں، عباس رضی اللہ عنہ کی آواز بلند تھی، وہ بیان کرتے ہیں، میں نے اپنی بلند آواز سے کہا: درخت (کے نیچے بیعت کرنے) والے کہاں ہیں؟ وہ بیان کرتے ہیں، اللہ کی قسم! جب انہوں نے میری آواز سنی تو وہ اس طرح واپس آئے جس طرح گائے اپنی اولاد کے پاس آتی ہے، انہوں نے عرض کیا: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ”ہم حاضر ہیں! ہم حاضر ہیں!“ راوی بیان کرتے ہیں، انہوں نے کفار سے قتال کیا اس روز انصار کا نعرہ ”یا انصار“ تھا، راوی بیان کرتے ہیں، پھر یہ نعرہ بنو حارث بن خزرج تک محدود ہو کر رہ گیا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے خچر پر سے میدانِ جنگ کی طرف دیکھا تو فرمایا: «الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ» ”اب میدانِ جنگ گرم ہو گیا ہے۔“ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنکریاں پکڑیں اور انہیں کافروں کے چہروں پر پھینکا، پھر فرمایا: «انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ» ”محمد کے رب کی قسم! وہ شکست خوردہ ہیں۔“ اللہ کی قسم! ان کی طرف کنکریاں پھینکنا ہی ان کی شکست کا باعث تھا، میں ان کی حدت، ان کی لڑائی اور ان کی تلواروں کو کمزور ہی دیکھتا رہا، اور ان کے معاملے کو ذلیل ہی دیکھتا رہا۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5888]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (76/ 1775)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں