مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الصَّبْرُ عَلَى العَمَى)
نابینا ہونے پر صبر کرنا
حدیث نمبر: 5939
5939 - وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ أَبِيهَا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى زَيْدٍ يَعُودُهُ مِنْ مَرَضٍ كَانَ بِهِ، قَالَ: (لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ بَأْسٌ، وَلَكِنْ كَيْفَ لَكَ إِذَا عُمِّرْتَ بَعْدِي فَعَمِيتَ ؟) . قَالَ: أَحْتَسِبُ وَأَصْبِرُ. قَالَ: (إِذًا تَدْخُلِ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ) . قَالَ: فَعَمِيَ بَعْدَمَا مَاتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ رَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ بَصَرَهُ ثُمَّ مَاتَ.
اُنیسہ بنت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زید رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری بیماری خطرناک نہیں، لیکن تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جب میرے بعد تمہاری عمر دراز ہو گی اور تم اندھے ہو جاؤ گے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبر کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تب تم بغیر حساب جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ راویہ بیان کرتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد وہ نابینا ہو گئے پھر اللہ نے انہیں بصارت عطا فرمائی اور پھر انہوں نے وفات پائی۔ اسنادہ ضعیف، رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5939]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في دلائل النبوة (6/ 479)
٭ فيه ’’نباتة عن حمادة عن أنيسة بنت زيد بن أرقم‘‘ وھن مجھولات و من دونھن ينظر فيه .»
٭ فيه ’’نباتة عن حمادة عن أنيسة بنت زيد بن أرقم‘‘ وھن مجھولات و من دونھن ينظر فيه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (نِسْبَةُ شَيْءٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات منسوب کرنا
حدیث نمبر: 5940
5940 - وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (مَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ) . وَذَلِكَ أَنَّهُ بَعَثَ رَجُلًا، فَكَذَبَ عَلَيْهِ، فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوُجِدَ مَيِّتًا، وَقَدِ انْشَقَّ بَطْنُهُ، وَلَمْ تَقْبَلْهُ الْأَرْضُ. رَوَاهَا الْبَيْهَقِيُّ فِي (دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ) .
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے میرے ذمے ایسی بات لگائی جو میں نے نہ کہی ہو تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“ اور آپ نے یہ اس لیے فرمایا کہ آپ نے کسی آدمی کو (کہیں) بھیجا تو اس نے آپ پر جھوٹ بولا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے بددعا فرمائی، اسے مردہ پایا گیا، اس کا پیٹ چاک ہو چکا تھا اور زمین نے اسے قبول نہیں کیا۔ دونوں احادیث کو امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا، رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5940]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه البيھقي في دلائل النبوة (6/ 245)
٭ فيه الوازع بن نافع العقيلي: متروک، وقوله: ’’من تقول عليّ مالم أقل فليتبوأ مقعده من النار‘‘ صحيح متواتر من طرق أخري»
٭ فيه الوازع بن نافع العقيلي: متروک، وقوله: ’’من تقول عليّ مالم أقل فليتبوأ مقعده من النار‘‘ صحيح متواتر من طرق أخري»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
--. (كَيْلُ الحَبِّ يُزِيلُ البَرَكَةَ)
غلہ ماپنے سے برکت کا ختم ہوتا
حدیث نمبر: 5941
5941 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْتَطْعِمُهُ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسَقِ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ فَفَنِيَ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: (لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَكُمْ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھانا طلب کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایک وسق جو دیے، وہ آدمی، اس کی بیوی اور ان کا مہمان اس سے کھاتے رہے لیکن جب اس شخص نے وہ ناپ لیے تو وہ ختم ہو گئے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اسے نہ ناپتے تو تم اس سے کھاتے رہتے اور وہ تمہارے لیے ہمیشہ رہتا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5941]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (9/ 2281)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كَشْفُ شُبْهَةِ الطَّعَامِ)
کھانے کے مشکوک ہونے کا انکشاف
حدیث نمبر: 5942
5942 - وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَنَازَةٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ يَقُولُ: (أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ) فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِيَ امْرَأَتِهِ، فَأَجَابَ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَجِيءَ بِالطَّعَامِ، فَوَضَعَ يَدَهُ، ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ، فَأَكَلُوا، فَنَظَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: (أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا) . فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ تَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى النَّقِيعِ - وَهُوَ مَوْضِعٌ يُبَاعُ فِيهِ الْغَنَمُ - لِيُشْتَرَى لِي شَاةٌ، فَلَمْ تُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى جَارٍ لِي قَدِ اشْتَرَى شَاةً أَنْ يُرْسِلَ بِهَا إِلَيَّ بِثَمَنِهَا، فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ بِهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَطْعِمِي هَذَا الطَّعَامَ الْأَسْرَى". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ.
عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ انصار میں سے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم ایک جنازہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک قبر پر گورکن کو ہدایات دیتے ہوئے سنا: ”اس کے پاؤں کی جانب سے کھلی کرو، اس کے سر کی جانب سے کھلی کرو۔“ جب آپ واپس آئے تو اس (میت) کی عورت کی طرف سے دعوت کا پیغام دینے والا آپ کو ملا تو آپ نے دعوت قبول فرمائی اور ہم بھی آپ کے ساتھ تھے، کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، پھر لوگوں نے (ہاتھ) بڑھایا، انہوں نے کھانا کھایا، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے منہ میں لقمہ چباتے ہوئے فرمایا: ”میں ایک ایسی بکری کا گوشت پاتا ہوں جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر حاصل کی گئی ہے۔“ اس عورت نے اپنے وضاحتی پیغام میں عرض کیا، اللہ کے رسول! میں نے نقیع کی طرف، جو کہ بکریوں کی خرید و فروخت کا مرکز ہے، آدمی بھیجا تھا تاکہ وہ میرے لیے ایک بکری خرید لائے، لیکن وہاں نہ ملی تو میں نے اپنے پڑوسی کی طرف بھیجا، اس نے ایک بکری خریدی ہوئی تھی، کہ وہ اس کی قیمت کے عوض اسے میری طرف بھیج دے، لیکن وہ (پڑوسی) نہ ملا تو میں نے اس عورت کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے اسے میری طرف بھیج دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو۔“ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد والبیہقی فی دلائل النبوۃ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5942]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (3332) [و عنه] والبيھقي في دلائل النبوة (6/ 310)
٭ قوله ’’داعي امرأته‘‘ خطأ من الناسخ أو غيره، والصواب: ’’داعي امرأة‘‘ کما في سنن أبي داود وغيره و لو صح فمعناه ’’أي داعي امرأة الحافر‘‘ و لا يدل ھذا اللفظ إلي ما ذھب إليه البريلوية و من وافقھم بأن المراد منه ’’داعي امرأة الميت‘‘ و لم يأتوا بأي دليل علي تحريفھم ھذا .!»
٭ قوله ’’داعي امرأته‘‘ خطأ من الناسخ أو غيره، والصواب: ’’داعي امرأة‘‘ کما في سنن أبي داود وغيره و لو صح فمعناه ’’أي داعي امرأة الحافر‘‘ و لا يدل ھذا اللفظ إلي ما ذھب إليه البريلوية و من وافقھم بأن المراد منه ’’داعي امرأة الميت‘‘ و لم يأتوا بأي دليل علي تحريفھم ھذا .!»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (نُزُولُ بَرَكَةٍ فِي لَبَنٍ فِي بَيْتِ أُمِّ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
ام معبد رضی اللہ عنہا کے گھر دودھ میں برکت اترنا
حدیث نمبر: 5943
5943 - وَعَنْ حِزَامِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ حُبَيْشِ بْنِ خَالِدٍ - وَهُوَ أَخُو أُمِّ مَعْبَدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أُخْرِجَ مِنْ مَكَّةَ خَرَجَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ، هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَمَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ وَدَلِيلُهُمَا عَبْدُ اللَّهِ اللَّيْثِيُّ، مَرُّوا عَلَى خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدٍ، فَسَأَلُوهَا لَحْمًا وَتَمْرًا لِيَشْتَرُوا مِنْهَا، فَلَمْ يُصِيبُوا عِنْدَهَا شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، كَانَ الْقَوْمُ مُرْمِلِينَ مُسْنِتِينَ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَاةٍ فِي كِسْرِ الْخَيْمَةِ، فَقَالَ: (مَا هَذِهِ الشَّاةُ يَا أُمَّ عَبْدٍ؟) قَالَتْ: شَاةٌ خَلَّفَهَا الْجَهْدُ عَنِ الْغَنَمِ. قَالَ: (هَلْ بِهَا مِنْ لَبَنٍ؟) قَالَتْ: هِيَ أَجْهَدُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: (أَتَأْذَنِينَ لِي أَنْ أَحْلِبَهَا؟) قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنْ رَأَيْتَ بِهَا حَلْبًا فَاحْلِبْهَا. فَدَعَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ بِيَدِهِ ضَرْعَهَا. وَسَمَّى اللَّهَ تَعَالَى، وَدَعَا لَهَا فِي شَاتِهَا ، فَتَفَاجَّتْ عَلَيْهِ، وَدَرَّتْ وَاجْتَرَّتْ، فَدَعَا بِإِنَاءٍ يُرْبِضُ الرَّهْطَ، فَحَلَبَ فِيهِ ثَجًّا، حَتَّى عَلَاهَا الْبَهَاءُ ثُمَّ سَقَاهَا حَتَّى رَوِيَتْ، وَسَقَى أَصْحَابَهُ حَتَّى رَوُوا، ثُمَّ شَرِبَ آخِرَهُمْ، ثُمَّ حَلَبَ فِيهِ ثَانِيًا بَعْدَ بَدْءٍ، حَتَّى مَلَأَ الْإِنَاءَ، ثُمَّ غَادَرَهُ عِنْدَهَا، وَبَايَعَهَا، وَارْتَحَلُوا عَنْهَا. رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ فِي (الِاسْتِيعَابِ) وَابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي كِتَابِ (الْوَفَاءِ) وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ.
حزام بن ہشام اپنے والد سے، وہ اپنے دادا حبیش بن خالد رضی اللہ عنہ، جو کہ ام معبد رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں، سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب مکہ سے نکالا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے مدینہ کی طرف مہاجر کی حیثیت سے روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ تھے اور ان کی راہنمائی کرنے والے عبداللہ بن اریقط لیثی تھے، وہ ام معبد رضی اللہ عنہا کے دو خیموں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان سے گوشت اور کھجور کے متعلق دریافت کیا تاکہ وہ ان سے خرید لیں۔ لیکن انہیں ان کے ہاں کوئی چیز نہ ملی، جبکہ ان کے پاس زادِ راہ نہیں تھا اور وہ قحط سالی کا شکار ہو چکے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیمے کے ایک کونے میں ایک بکری دیکھی تو فرمایا: ”ام معبد! یہ بکری کیسی ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ لاغر پن کی وجہ سے ریوڑ کے ساتھ نہیں جا سکی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ دودھ دیتی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یہ اس لائق نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم مجھے اجازت دیتی ہو کہ میں اس کا دودھ دوہ لوں؟“ انہوں نے عرض کیا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں، اگر آپ اس میں دودھ دیکھتے ہیں تو ضرور دوہ لیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے طلب فرمایا، اس کے تھن کو اپنا دستِ مبارک لگایا، «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ تعالیٰ کا نام لیا“ اور ام معبد رضی اللہ عنہا کے لیے اس بکری کے بارے میں دعائے خیر فرمائی، اس نے پاؤں پھیلا دیے، دودھ کی دھاریں بہا دیں اور وہ جگالی کرنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برتن منگایا جو ایک جماعت کو آسودہ کر سکتا تھا، اس میں دودھ دوہا یہاں تک کہ اس پر جھاگ آ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام معبد رضی اللہ عنہا کو پلایا حتیٰ کہ وہ خوب سیراب ہو گئیں، پھر اپنے ساتھیوں کو پلایا حتیٰ کہ وہ بھی سیراب ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کے آخر میں خود پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس برتن میں دوسری مرتبہ دودھ دوہا حتیٰ کہ برتن بھر گیا، اس (دودھ) کو ام معبد رضی اللہ عنہا کے پاس ہی چھوڑ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اسلام پر بیعت لی، پھر سب وہاں سے کوچ کر گئے۔ یہ حدیث حسن ہے، اسے بغوی نے شرح السنہ میں، ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں اور ابن الجوزی نے اسے کتاب الوفاء میں روایت کیا ہے اور حدیث میں طویل قصہ ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5943]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه البغوي في شرح السنة (13/ 261 ح 3704) و ابن عبد البر في الاستيعاب (4/ 495. 498 مع الإصابة) [و صححه الحاکم (3/ 9، 10 ووافقه الذهبي]
٭ و للحديث شواھد .»
٭ و للحديث شواھد .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (بَرَكَةُ مَجْلِسِ النَّبِيِّ)
مجلس نبوی کی برکت
حدیث نمبر: 5944
بَابُ الْكَرَامَاتِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5944 - عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ تَحَدَّثَا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَاجَةٍ لَهُمَا، حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ، فِي لَيْلَةٍ شَدِيدَةِ الظُّلْمَةِ، ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْقَلِبَانِ، وَبِيَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عُصَيَّةٌ، فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا لَهُمَا حَتَّى مَشَيَا فِي ضَوْئِهَا، حَتَّى إِذَا افْتَرَقَتْ بِهِمَا الطَّرِيقُ أَضَاءَتْ لِلْآخَرِ عَصَاهُ، فَمَشَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ضَوْءِ عَصَاهُ حَتَّى بَلَغَ أَهْلَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُسید بن حضیر اور عبادہ بن بشیر رضی اللہ عنہما اپنے کسی مسئلہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کرتے رہے حتیٰ کہ شدید تاریک رات میں رات کا کافی حصہ گزر گیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے واپسی کے لیے روانہ ہوئے، ہر ایک کے ہاتھ میں چھوٹی سی لاٹھی تھی، چنانچہ ان دونوں میں سے ایک کی لاٹھی نے روشنی پیدا کر دی حتیٰ کہ وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے، لیکن جب ان دونوں کی راہیں الگ الگ ہوئیں تو دوسرے کے لیے اس کی لاٹھی نے روشنی پیدا کر دی، دونوں میں سے ہر ایک اپنی لاٹھی کی روشنی میں چلنے لگا حتیٰ کہ وہ اپنے گھر پہنچ گیا۔ «رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ» [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5944]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3805)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (أَوَّلُ شَهِيدٍ فِي جَنْگِ أُحُدٍ)
جنگ احد کے سب سے پہلے شہید
حدیث نمبر: 5945
5945 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَمَّا حَضَرَ أُحُدٌ دَعَانِي أَبِي مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: مَا أُرَانِي إِلَّا مَقْتُولًا فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنِّي لَا أَتْرُكُ بَعْدِي أَعَزَّ عَلَيَّ فِيكَ غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنَّ عَلَيَّ دَيْنًا فَاقْضِ، وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِكَ خَيْرًا. فَأَصْبَحْنَا فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ، وَدَفَنْتُهُ مَعَ آخَرَ فِي قَبْرٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب غزوۂ احد کا وقت آیا تو رات کے وقت میرے والد نے مجھے بلایا اور کہا: میں اپنے متعلق یہی سمجھتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے سب سے پہلے میں شہید ہوں گا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارک کے علاوہ میں اپنے بعد تم سے زیادہ عزیز شخص کوئی نہیں چھوڑ کر جا رہا، میرے ذمے کچھ قرض ہے اسے ادا کرنا اور اپنی بہنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، صبح ہوئی تو وہ سب سے پہلے شہید تھے، میں نے انہیں ایک دوسرے شخص کے ساتھ ایک قبر میں دفن کیا۔ [رواه البخاري] [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5945]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1351)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَرَكَةُ طَعَامِ بَيْتِ حَضْرَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر کھانے میں برکت
حدیث نمبر: 5946
5946 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: إِنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فَقُرَاءَ، وَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: (مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ أَوْ سَادِسٍ) . وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ وَانْطَلَقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَشَرَةٍ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عَنَدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ، ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ بَعْدَمَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ. قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: مَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ؟ قَالَ: أَوَ مَا عَشَّيْتِيهِمْ؟ قَالَتْ: أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ، فَغَضِبَ وَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا، فَحَلَفَتِ الْمَرْأَةُ أَنْ لَا تَطْعَمَهُ، وَحَلَفَ الْأَضْيَافُ أَنْ لَا يَطْعَمُوهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ، فَدَعَا بِالطَّعَامِ، فَأَكَلَ وَأَكَلُوا، فَجَعَلُوا لَا يَرْفَعُونَ لُقْمَةً إِلَّا رَبَتْ مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرَ مِنْهَا . فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا!؟ قَالَتْ: وَقُرَّةِ عَيْنِي إِنَّهَا الْآنَ لَأَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مِرَارٍ، فَأَكَلُوا، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذُكِرَ أَنَّهُ أَكَلَ مِنْهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَذُكِرَ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ فِي (الْمُعْجِزَاتِ) .
عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اصحابِ صفہ محتاج لوگ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ تیسرے کو ساتھ لے جائے، جس شخص کے پاس چار افراد کا کھانا ہو تو وہ پانچویں کو یا چھٹے کو ساتھ لے جائے۔“ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تین کو ساتھ لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس کو ساتھ لے کر گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام کا کھانا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں کھایا، پھر وہیں ٹھہر گئے حتیٰ کہ نمازِ عشاء پڑھ لی گئی، پھر واپس تشریف لے آئے اور وہیں ٹھہر گئے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھایا، پھر جتنا اللہ نے چاہا رات کا حصہ گزر گیا تو وہ واپس اپنے گھر چلے گئے، ان کی اہلیہ نے ان سے کہا: آپ کو آپ کے مہمانوں کے ساتھ آنے سے کس نے روکا تھا؟ انہوں نے پوچھا: کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا؟ انہوں نے عرض کیا: انہوں نے انکار کر دیا حتیٰ کہ آپ تشریف لے آئیں، وہ ناراض ہو گئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں بالکل کھانا نہیں کھاؤں گا۔ عورت نے بھی قسم کھا لی کہ وہ اسے نہیں کھائے گی اور مہمانوں نے بھی قسم اٹھا لی کہ وہ بھی کھانا نہیں کھائیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ (حلف اٹھانا) شیطان کی طرف سے تھا۔ انہوں نے کھانا منگایا، خود کھایا اور ان کے ساتھ مہمانوں نے بھی کھایا، وہ لقمہ اٹھاتے تو اس کے نیچے سے اور زیادہ ہو جاتا تھا، انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا: اے بنو فراس کی بہن! یہ کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے کہا: میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم! یہ اب پہلے سے بھی تین گنا زیادہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے کھایا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھی بھیجا، بیان کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا۔ (متفق علیہ)۔ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث «كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ» ”ہم کھانے کی تسبیح سنا کرتے تھے“ باب المعجزات میں گزر چکی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5946]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3581) و مسلم (176/ 2057)
حديث ابن مسعود تقدم (5910)»
حديث ابن مسعود تقدم (5910)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الكَرَامَاتُ الصَّحِيحَةُ وَغَيْرُ الصَّحِيحَةِ)
صحیح اور غیر صحیح کرامات
حدیث نمبر: 5947
الْفَصْلُ الثَّانِي 5947 - عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ لَا يَزَالُ يُرَى عَلَى قَبْرِهِ نُورٌ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نجاشی فوت ہوئے تو ہم باہم گفتگو کرتے تھے کہ ان کی قبر پر مسلسل روشنی نظر آ رہی ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5947]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2523)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (نَوْمُ الصَّحَابَةِ أَثْنَاءَ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیتے وقت صحابہ کو اونگھ آنا
حدیث نمبر: 5948
5948 - وَعَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا: لَا نَدْرِي أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ ; فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَلْقَى اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ، حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَذَقَنُهُ فِي صَدْرِهِ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مُكَلِّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ؟: اغْسِلُوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ، فَقَامُوا، فَغَسَّلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ وَيُدَلِّكُونَهُ بِالْقَمِيصِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي (دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ) .
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: معلوم نہیں کہ جس طرح ہم اپنے فوت ہونے والے دیگر افراد کے (بوقت غسل) کپڑے اتار دیتے تھے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھی کپڑے اتار دیں یا ہم کپڑوں سمیت غسل دیں، جب انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ نے ان پر نیند طاری کر دی حتیٰ کہ ان میں سے ہر شخص کی ٹھوڑی اس کے سینے کے ساتھ لگنے لگی۔ پھر گھر کے ایک کونے سے کسی نے ان سے بات کی مگر صحابہ کو اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کون تھا، (اس نے کہا): ”نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑوں سمیت غسل دو“، وہ کھڑے ہوئے اور آپ کو اس طرح غسل دیا کہ آپ کی قمیص آپ پر تھی، وہ قمیص کے اوپر پانی گراتے تھے اور آپ کی قمیص کے ساتھ ملتے تھے۔ إسنادہ حسن، رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5948]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه البيھقي في دلائل النبوة (7/ 242) [و أبو داود (3141) و ابن ماجه (1464) ببعضه و أحمد (6/ 267 ح 26837) ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن