مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (دُعَاءٌ قَبْلَ غَزْوَةِ بَدْرٍ)
غزوہ بدر پہلے دعا
حدیث نمبر: 5929
5929 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلَاثِمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ. قَالَ: (اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ) فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ، فَانْقَلَبُوا وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ وَاكْتَسَوْا، وَشَبِعُوا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے روز تین سو پندرہ صحابہ کرام کے ساتھ روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ» ”اے اللہ! یہ ننگے پاؤں ہیں تو انہیں سواری عطا فرما، اے اللہ! یہ ننگے بدن ہیں تو انہیں لباس عطا فرما، اے اللہ! یہ بھوک کا شکار ہیں تو انہیں شکم سیر فرما۔“ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح عطا فرمائی، آپ واپس آئے تو ان میں سے ہر آدمی کے پاس ایک یا دو اونٹ تھے، ان کے پاس لباس بھی تھا اور وہ شکم سیر بھی تھے۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5929]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2747)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (بِشَارَةٌ وَهِدَايَةٌ لِلصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ)
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو ایک بشارت ایک ہدایت
حدیث نمبر: 5930
5930 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: (إِنَّكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری (دشمن کے خلاف) مدد کی جائے گی، تم مال غنیمت حاصل کرو گے، تم (بہت سے ملک) فتح کرو گے، تم میں سے جو شخص یہ مذکورہ چیزیں پا لے تو وہ اللہ سے ڈرے، نیکی کا حکم کرے اور برائی سے منع کرے۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5930]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (5118 مختصرًا جدًا و لم يذکر ھذا اللفظ و سنده صحيح) [و أبو داود الطيالسي (337) والترمذي (2257) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (عِنْدَمَا أُعْطِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُمًّا)
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا
حدیث نمبر: 5931
5931 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ يَهُودِيَّةً مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِيَّةً، ثُمَّ أَهْدَتْهَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الذِّرَاعَ، فَأَكَلَ مِنْهَا وَأَكَلَ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ) وَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَدَعَاهَا. فَقَالَ: أَسَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ؟) فَقَالَتْ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟ قَالَ: (أَخْبَرَتْنِي هَذِهِ فِي يَدِي) لِلذِّرَاعِ قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: إِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَنْ تَضُرَّهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْهُ فَعَفَا عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يُعَاقِبْهَا، وَتُوَفِّي أَصْحَابُهُ الَّذِينَ أَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ، وَاحْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كَاهِلِهِ مِنْ أَجْلِ الَّذِي أَكَلَ مِنَ الشَّاةِ، حَجَمَهُ أَبُو هِنْدٍ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَةِ، وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي بَيَاضَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالدَّارِمِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری میں زہر ملا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر بھیج دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دستی لی اور اس سے کھایا، اور آپ کے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپ کے ساتھ کھایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ہاتھ (کھانے سے) اٹھا لو۔“ آپ نے یہودی عورت کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”کیا تو نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟“ اس نے کہا: آپ کو کس نے بتایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ہاتھ میں یہ جو دستی ہے اس نے مجھے بتایا ہے۔“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، میں نے کہا: اگر تو وہ سچے نبی ہوئے تو یہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گی، اور اگر وہ سچے نبی نہ ہوئے تو ہم اس سے آرام پا جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو معاف فرما دیا اور اسے سزا نہ دی، اور آپ کے جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بکری کا گوشت کھایا تھا وہ فوت ہو گئے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کا گوشت کھانے کی وجہ سے اپنے کندھوں کے درمیان پچھنے لگوائے، ابوہند رضی اللہ عنہ جو کہ انصار کے قبیلے بنو بیاضہ کے آزاد کردہ غلام تھے، انہوں نے سینگ اور چھری کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پچھنے لگائے تھے۔ (اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد والدارمی) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5931]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4510) و الدارمي (1/ 33 ح 69)
٭ الزھري عن جابر: منقطع ’’لم يسمع منه‘‘ انظر تحفة الأشراف (2/ 356)»
٭ الزھري عن جابر: منقطع ’’لم يسمع منه‘‘ انظر تحفة الأشراف (2/ 356)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (فَضِيلَةُ مَنْ يَسْهَرُ لِحِمَايَةِ الجَيْشِ الإِسْلَامِيِّ)
اسلامی لشکر کی حفاظت کے لیے جاگنے والے کی فضیلت
حدیث نمبر: 5932
5932 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتَّى كَانَ عَشِيَّةً، فَجَاءَ فَارِسٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ. إِنِّي طَلِعْتُ عَلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلَى بَكْرَةِ أَبِيهِمْ. بِظُعُنِهِمْ وَنَعَمِهِمُ اجْتَمَعُوا إِلَى حُنَيْنٍ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: (تِلْكَ غَنِيمَةٌ الْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى) قَالَ: (مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ) قَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: (ارْكَبْ) فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ. قَالَ: (اسْتَقْبِلْ هَذَا الشِّعْبَ حَتَّى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ) فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مُصَلَّاهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: (هَلْ حَسِسْتُمْ فَارِسَكُمْ) فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا حَسِسْنَا، فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ، حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: (أَبْشِرُوا، فَقَدْ جَاءَ فَارِسُكُمْ) فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَى خِلَالِ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى هَذَا الشِّعْبِ، حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَصْبَحْتُ طَلَعْتُ الشِّعْبَيْنِ كِلَيْهِمَا، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (هَلْ نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ) قَالَ: لَا إِلَّا مُصَلِّيَا أَوْ قَاضِيَ حَاجَةٍ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (فَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَعْمَلَ بَعْدَهَا) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ حنین کے موقع پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کیا، انہوں نے سفر جاری رکھا حتیٰ کہ پچھلا پہر ہو گیا، ایک گھڑ سوار آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں فلاں فلاں پہاڑ کے اوپر چڑھا ہوں اور میں نے اچانک ہوازن قبیلے کو دیکھا ہے کہ وہ سب کے سب اپنے مویشیوں اور اپنے اموال کے ساتھ حنین کی طرف اکٹھے ہو رہے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ” «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ» ”اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا“ کل وہ مسلمانوں کا مالِ غنیمت ہو گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا؟“ انس بن ابی مرثد الغنوی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سوار ہو جاؤ۔“ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھاٹی کی طرف جاؤ حتیٰ کہ تم اس کی چوٹی پر پہنچ جاؤ۔“ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی جائے نماز پر تشریف لے گئے اور دو رکعت نماز ادا کی، پھر فرمایا: ”کیا تم نے اپنے گھڑ سوار کو محسوس کیا؟“ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے محسوس نہیں کیا، نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دورانِ نماز اس گھاٹی کی طرف التفات فرماتے رہے حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، تمہارا گھڑ سوار آ گیا ہے۔“ ہم بھی درختوں کے درمیان اس گھاٹی کی طرف دیکھنے لگے تو وہ اچانک آ گیا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا تو اس نے عرض کیا: میں چلتا گیا حتیٰ کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق اس گھاٹی کے بلند ترین حصے پر تھا، جب صبح ہوئی تو میں ان دونوں گھاٹیوں کے اطراف سے ہو آیا ہوں، لیکن میں نے کسی کو نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا رات کے وقت تم (اپنے گھوڑے سے) نیچے اترے تھے؟“ انہوں نے عرض کیا: نماز پڑھنے یا قضائے حاجت کے علاوہ میں نہیں اترا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس (رات) کے بعد کوئی بھی نیک عمل نہ کرو تو تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5932]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2501)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (دُعَاءُ البَرَكَةِ)
برکت کی دعا
حدیث نمبر: 5933
5933 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَمَرَاتٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، فَضَمَّهُنَّ، ثُمَّ دَعَا لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ ، قَالَ: (خُذْهُنَّ فَاجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدِكَ، كُلَّمَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا فَأَدْخِلْ فِيهِ يَدَكَ فَخُذْهُ وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرًا) . فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَسْقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَكُنَّا نَأْكُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ، وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حَقْوِي حَتَّى كَانَ يَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَ فَإِنَّهُ انْقَطَعَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں کچھ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں برکت کے لیے دعا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اکٹھا کیا پھر میرے لیے ان میں برکت کی دعا فرمائی، اور فرمایا: ”انہیں لے لو اور انہیں اپنے توشہ دان میں رکھ لو، جب بھی تم ان میں سے کچھ لینا چاہو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر لے لینا اور انہیں مکمل طور پر باہر نہ نکالنا۔“ میں نے ان میں سے اتنے اتنے وسق کھجور اللہ کی راہ میں عطا کیے، ہم خود بھی اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے، اور وہ میری کمر سے الگ نہیں ہوتا تھا حتیٰ کہ عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے روز وہ منقطع ہو کر گر پڑا۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5933]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3839 وقال: حسن غريب)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (قِصَّةُ لَيْلَةِ الهِجْرَةِ)
شب ہجرت کا قصہ
حدیث نمبر: 5934
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 5934 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوِثَاقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلِ اقْتُلُوهُ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ أَخْرِجُوهُ. فَأَطْلَعَ اللَّهُ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ذَلِكَ، فَبَاتَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ. وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ فَقَالُوا: أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا، قَالَ: لَا أَدْرِي. فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ اخْتَلَطَ عَلَيْهِمْ، فَصَعِدُوا الْجَبَلَ، فَمَرُّوا بِالْغَارِ، فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ فَقَالُوا: لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ، فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، قریش نے ایک رات مکہ میں (دار الندوہ میں) مشورہ کیا تو ان میں سے کسی نے کہا: ”جب صبح ہو تو اس کو قید کر دو“، ان کی مراد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، کسی نے کہا: ”نہیں، بلکہ اسے قتل کر دو“، اور کسی نے کہا: ”نہیں بلکہ اسے (مکہ سے) نکال باہر کرو“، اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس (منصوبے) پر مطلع کر دیا، اس رات علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر رات بسر کی اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے چل دیے حتیٰ کہ آپ غار میں پہنچ گئے، جبکہ مشرکین پوری رات علی رضی اللہ عنہ پر پہرہ دیتے رہے اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ جب صبح ہوئی تو وہ ان پر حملہ آور ہوئے، جب انہوں نے دیکھا کہ یہ تو علی رضی اللہ عنہ ہیں، اللہ نے ان کا منصوبہ ناکام بنا دیا، انہوں نے پوچھا: ”تمہارا ساتھی کہاں ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا“۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کے نشانات کا کھوج لگایا، جب وہ پہاڑ پر پہنچے تو ان پر معاملہ مشتبہ ہو گیا، وہ پہاڑ پر چڑھ گئے اور غار کے پاس سے گزرے، انہوں نے اس کے دروازے پر مکڑی کا جالا دیکھا، اور انہوں نے کہا: ”اگر وہ اس میں داخل ہوئے ہوتے تو اس کے دروازے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں تین روز قیام فرمایا۔ (إسناده ضعيف، رواه أحمد) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5934]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (1/ 348 ح 3251)
٭ فيه عثمان الجزري بن عمرو بن ساج: فيه ضعف .»
٭ فيه عثمان الجزري بن عمرو بن ساج: فيه ضعف .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (كَشْفُ مُؤَامَرَةِ اليَهُودِ فِي خَيْبَرَ فِي الوَقْتِ المناسب)
خیبر میں یہود کی سازش کا بروقت انکشاف
حدیث نمبر: 5935
5935 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (اجْمَعُوا لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنَ الْيَهُودِ) . فَجُمِعُوا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ عَنْهُ؟) . قَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (مَنْ أَبُوكُمْ؟) قَالُوا: فُلَانٌ. قَالَ: (كَذَبْتُمْ، بَلْ أَبُوكُمْ فُلَانٌ) قَالُوا: صَدَقْتَ وَبَرِرْتَ. قَالَ: (فَهَلْ أَنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ؟) . قَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا فَقَالَ لَهُمْ: (مَنْ أَهْلُ النَّارِ؟) قَالُوا: نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَا فِيهَا. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (اخْسَئُوا فِيهَا، وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا) . ثُمَّ قَالَ: (هَلْ أَنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ؟) . فَقَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ. قَالَ: (هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سُمًّا؟) قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: (فَمَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ؟) ، قَالُوا: أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ نَسْتَرِيحَ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَمْ يَضُرَّكَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک بکری کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں جتنے یہودی موجود ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو۔“ چنانچہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”میں تم سے ایک چیز کے متعلق سوال کرنے لگا ہوں، کیا تم اس کے متعلق مجھے سچ سچ بتاؤ گے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے ابوالقاسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تمہارے باپ کون تھے؟“ انہوں نے بتایا: فلاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم جھوٹ بولتے ہو بلکہ تمہارا باپ تو فلاں ہے۔“ انہوں نے کہا: آپ نے سچ فرمایا اور درست کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں تم سے کسی چیز کے متعلق دریافت کروں تو کیا تم مجھے سچ سچ بتاؤ گے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے ابوالقاسم! اگر ہم نے آپ سے جھوٹ بولا تو آپ سمجھ جائیں گے جس طرح آپ نے ہمارے باپ کے بارے میں (ہمارا جھوٹ) جان لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”جہنمی کون ہیں؟“ انہوں نے کہا: کچھ مدت کے لیے ہم اس میں جائیں گے، پھر ہماری جگہ تم وہاں آ جاؤ گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہی اس میں ذلیل ہو کر رہو گے، اللہ کی قسم! ہم اس میں تمہاری جگہ کبھی بھی داخل نہیں ہوں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرتا ہوں، کیا تم مجھے سچ سچ جواب دو گے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، اے ابوالقاسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے اس بکری (کے گوشت) میں زہر ملایا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں اس پر آمادہ کیا؟“ انہوں نے کہا: ہم نے اس لیے کیا کہ اگر آپ جھوٹے ہوئے تو ہمیں آپ سے آرام مل جائے گا اور اگر آپ سچے ہوئے تو (یہ زہر) آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ [رواہ البخاری] [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5935]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3169)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (أَطْوَلُ مَوْعِظَةٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طویل ترین وعظ
حدیث نمبر: 5936
5936 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا وَصَعِدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَخَطَبَنَا، حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ، فَنَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا، حَتَّى الْعَصْرِ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَخْبَرَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَأَعْلَمُنَا أَحَفْظُنَا ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف لے گئے، ہمیں خطاب فرمایا حتیٰ کہ ظہر کا وقت ہو گیا، پھر آپ منبر سے اترے اور نماز پڑھائی، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں خطاب فرمایا حتیٰ کہ نماز عصر کا وقت ہو گیا، پھر آپ نیچے تشریف لائے اور نماز پڑھائی، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور (خطاب فرمایا) حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت تک ہونے والے واقعات کے متعلق ہمیں بیان فرمایا، راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے زیادہ عالم وہ ہے جو اس خطبے کو ہم میں سے زیادہ یاد رکھنے والا ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5936]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (25/ 2892)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (إِخْبَارُ شَجَرَةٍ عَنْ مَجِيءِ الجِنِّ فِي لَيْلَةِ الجِنِّ)
لیلۃ الجنّ میں ایک درخت کی طرف سے جنّوں کی آمد کی اطلاع
حدیث نمبر: 5937
5937 - وَعَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَأَلْتُ مَسْرُوقًا: مَنْ آذَنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُوكَ - يَعْنِي - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ قَالَ: آذَنَتْ بِهِمْ شَجَرَةٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
معن بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں، میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے مسروق سے دریافت کیا جس رات جنوں نے قرآن سنا تھا اس کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس نے دی تھی؟ انہوں نے بتایا: مجھے تمہارے والد یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے متعلق ایک درخت نے اطلاع دی تھی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5937]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3859) و مسلم (153/ 450)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (إِخْبَارٌ مُسْبَقٌ بِقَتْلِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ)
غزوہ بدر میں کفار قریش کے قتل کی پیشگی اطلاع
حدیث نمبر: 5938
5938 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَتَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ، وَكُنْتُ رَجُلًا حَدِيدَ الْبَصَرِ، فَرَأَيْتُهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَآهُ غَيْرِي، فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِعُمَرَ: أَمَا تَرَاهُ؟ فَجَعَلَ لَا يَرَاهُ، قَالَ: يَقُولُ عُمَرُ: سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَى فِرَاشِي، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرٍ بِالْأَمْسِ ، يَقُولُ: (هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ كَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ) . قَالَ عُمَرُ: وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَأُوا الْحُدُودَ الَّتِي حَدَّهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ، بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ، قَالَ: (يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ! هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ حَقًّا؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا) . فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا؟ قَالَ: (مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيَّ شَيْئًا) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، ہم نے چاند دیکھنے کا اہتمام کیا، میری نظر تیز تھی، لہذا میں نے اسے دیکھ لیا، اور میرے سوا کسی نے نہ کہا کہ اس نے اسے دیکھا ہے، میں عمر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا: کیا آپ اسے دیکھ نہیں رہے؟ وہ اسے نہیں دیکھ پا رہے تھے، راوی بیان کرتے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے، میں عنقریب اسے دیکھ لوں گا۔ میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا، پھر انہوں نے اہل بدر کے متعلق ہمیں بتانا شروع کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے موقع پر کفار کے قتل گاہوں کے متعلق ایک روز پہلے ہی بتا رہے تھے: ”کل «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”ان شاء اللہ“ یہاں فلاں قتل ہوگا، اور کل «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”ان شاء اللہ“ یہاں فلاں قتل ہوگا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس جس جگہ کی نشان دہی فرمائی تھی اس میں ذرا بھی فرق نہیں آیا تھا (وہ وہیں وہیں قتل ہوئے تھے) راوی بیان کرتے ہیں، ان سب کو ایک دوسرے پر کنویں میں ڈال دیا گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لائے اور فرمایا: ”اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! اللہ اور اس کے رسول نے تم سے جو وعدہ فرمایا تھا کیا تم نے اسے سچا پایا، کیونکہ اللہ نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا تھا میں نے تو اسے سچا پایا ہے؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ بے روح جسموں سے کیسے کلام فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان سے جو کہہ رہا ہوں وہ اسے تم سے زیادہ سن رہے ہیں لیکن وہ مجھے کسی چیز کا جواب نہیں دے سکتے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5938]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (76/ 2873)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح