🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (آخِرُ حِوَارٍ مَعَ سَيِّدَةِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آخری مکالمہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5969
5969 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاطِمَةَ قَالَ: (نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي) فَبَكَتْ قَالَ: (لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي) فَضَحِكَتْ، فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَ: يَا فَاطِمَةُ رَأَيْنَاكِ بَكَيْتِ ثُمَّ ضَحِكْتِ. قَالَتْ: إِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ فَبَكَيْتُ، فَقَالَ لِي: لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي فَضَحِكْتُ. وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ، وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ  ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ) . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب سورۂ نصر نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا: ”مجھے میری وفات کی اطلاع دی گئی ہے۔“ وہ رونے لگیں، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مت روئیں، کیونکہ میرے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے آپ مجھے ملیں گی۔“ اس پر وہ ہنس دیں۔ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے انہیں دیکھ لیا تو انہوں نے کہا: فاطمہ! ہم نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا پھر آپ کو ہنستے ہوئے دیکھا، (کیا معاملہ تھا؟) انہوں نے فرمایا: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتایا کہ مجھے میری وفات کی اطلاع دی گئی ہے تو اس پر میں رونے لگی، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: ”آپ مت روئیں، کیونکہ میرے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے آپ مجھے ملیں گی۔“ تو اس پر میں ہنس دی۔ اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1] جب اللہ کی نصرت اور فتح آگئی۔“ اور فرمایا: ”اہلِ یمن آئے، وہ نرم دل ہیں، اور ایمان یمنی ہے اور حکمت یمنی ہے۔“ (سندہ حسن، رواہ الدارمی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5969]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده حسن، رواه الدارمي (1/ 37 ح 80)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:سنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (خِلَافَةُ حَضْرَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5970
5970 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهَا قَالَتْ: وَارَأْسَاهْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرُ لَكِ وَأَدْعُو لَكِ) فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاثُكْلَيَاهْ! وَاللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي، فَلَوْ كَانَ ذَلِكَ لَظَلِلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعْرِسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (بَلْ أَنَا وَارَأْسَاهْ لَقَدْ هَمَمْتُ - أَوْ أَرَدْتُ - أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ وَأَعْهَدُ  ، أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ، أَوْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَنُّونَ، ثُمَّ قُلْتُ: يَأْبَى اللَّهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ، أَوْ يَدْفَعُ اللَّهُ وَيَأْبَى الْمُؤْمِنُونَ) . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہائے سر پھٹا جا رہا ہے (اور انہوں نے موت کی طرف اشارہ کیا) تب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر ایسی صورت ہوئی (تمہاری موت واقع ہو گئی) اور میں زندہ ہوا تو میں تمہارے لیے مغفرت طلب کروں گا اور تمہارے لیے دعا کروں گا۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: افسوس! اللہ کی قسم! میں آپ کے متعلق یہ خیال کرتی ہوں کہ آپ میری موت پسند فرماتے ہیں، اگر ایسے ہو گیا تو آپ اگلے ہی روز کسی دوسری عورت سے شادی کر لیں گے۔ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں اپنے سر پھٹنے کا اظہار کرتا ہوں، میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں ابوبکر اور ان کے بیٹے رضی اللہ عنہما کو بلا بھیجوں اور ان (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کو خلیفہ نامزد کر دوں، تاکہ کوئی دعویٰ کرنے والا اس کا دعویٰ نہ کرے یا کوئی خواہش رکھنے والا اس کی خواہش نہ رکھے، پھر میں نے کہا: اللہ خود ہی (کسی اور کی خلافت کا) انکار فرما دے گا اور مومن (کسی اور کو خلافت سے) دور کر دیں گے۔ یا اللہ (کسی اور کی خلافت) ہٹا دے گا اور مومن انکار کر دیں گے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5970]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5666)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِصَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرَضِ الوَفَاةِ)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض الموت میں مبتلا ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5971
5971 - وَعَنْهَا: قَالَتْ: رَجَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جَنَازَةٍ مِنَ الْبَقِيعِ فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا، وَأَنَا أَقُولُ: وَارَأْسَاهْ! قَالَ:"بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ! وَارَأْسَاهْ! قَالَ: (وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي، فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ، وَدَفَنْتُكِ؟) قُلْتُ: لَكَأَنِيِّ بِكَ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَرَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي فَعَرَّسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ بُدِئَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ  رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنازے سے فارغ ہو کر بقیع سے واپس میرے پاس تشریف لائے اور آپ نے مجھے اس حال میں پایا کہ میرے سر میں درد تھا، اور میں کہہ رہی تھی: ہائے درد کی وجہ سے سر پھٹا جا رہا ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ عائشہ! میں، اور میرا سر درد سے پھٹا جا رہا ہے۔“ فرمایا: ”اگر تم مجھ سے پہلے وفات پا گئیں تو یہ تمہارے لیے مضر نہیں کیوں کہ اس صورت میں، میں تمہیں غسل دوں گا، تجھے کفن پہناؤں گا، تمہاری نماز جنازہ پڑھوں گا اور تمہیں دفن کروں گا۔“ میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کے متعلق میرا بھی یہی خیال ہے، اگر آپ نے اس طرح (غسل و کفن اور دفن وغیرہ) کیا تو آپ میرے گھر واپس آئیں گے، وہاں اپنی کسی بیوی سے صحبت کریں گے، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا دیے، پھر آپ کو تکلیف ظاہر ہوئی جس میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5971]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (1/ 37. 38 ح 81) [و ابن ماجه (1465) ]
٭ الزھري مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَعْدَ وَصَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ...)
وصال نبوی کے بعد۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5972
5972 - وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ دَخَلَ عَلَى أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: بَلَى حَدِّثْنَا عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -! قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ جِبْرَئِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ تَكْرِيمًا لَكَ، وَتَشْرِيفًا لَكَ، خَاصَّةً لَكَ يَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ، يَقُولُ: كَيْفَ تَجِدُكَ، قَالَ: أَجِدُنِي يَا جِبْرَئِيلُ! مَغْمُومًا، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرَئِيلُ! مَكْرُوبًا) . ثُمَّ جَاءَهُ الْيَوْمُ الثَّانِي، فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا رَدَّ أَوَّلَ يَوْمٍ، ثُمَّ جَاءَهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ يَوْمٍ، وَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا رَدَّ عَلَيْهِ، وَجَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ يُقَالُ لَهُ: إِسْمَاعِيلُ عَلَى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ، كُلُّ مَلَكٍ عَلَى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ  . مَا اسْتَأْذَنَ عَلَى آدَمِيٍّ قَبْلَكَ، وَلَا يَسْتَأْذِنُ عَلَى آدَمِيٍّ بَعْدَكَ. فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ، فَأَذِنَ لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ يَامُحَمَّدُ! إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ، فَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْبِضَ رُوحَكَ قَبَضْتُ، وَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَتْرُكَهُ تَرَكْتُهُ فَقَالَ: وَتَفْعَلُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ؟ قَالَ: نَعَمْ، بِذَلِكَ أُمِرْتُ، وَأُمِرْتُ أَنْ أُطِيعَكَ، قَالَ: فَنَطَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جِبْرَئِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ جِبْرَئِيلُ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ اللَّهَ قَدِ اشْتَاقَ إِلَى لِقَائِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَلَكِ الْمَوْتِ: (امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ) فَقَبَضَ رُوحَهُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ سَمِعُوا صَوْتًا مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، إِنَّ فِي اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَدَرَكًا مِنْ كُلِّ فَائِتٍ، فَبِاللَّهِ فَاتَّقُوا، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا، فَإِنَّمَا الْمُصَابُ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ. فَقَالَ عَلِيٌّ: أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هُوَ الْخَضِرُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي (دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ) .
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قریش میں سے ایک آدمی ان کے والد علی بن حسین رحمہ اللہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث نہ سناؤں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، ابوالقاسم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث ہمیں سناؤ، اس آدمی نے کہا: جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوئے تو جبرئیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: محمد! اللہ نے آپ کی تکریم و تعظیم کی خاطر مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے، وہ آپ کے لیے خاص ہے، وہ آپ سے اس چیز کے متعلق دریافت کرتا ہے، جس کے متعلق وہ آپ سے بہتر جانتا ہے، وہ فرماتا ہے: آپ اپنے آپ کو کیسا محسوس کرتے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جبرئیل! میں اپنے آپ کو مغموم پاتا ہوں، اور جبرئیل! میں اپنے آپ کو کرب میں محسوس کرتا ہوں۔“ پھر وہ دوسرے روز آئے تو انہوں نے آپ سے یہی کہا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہی جواب دیا جو آپ نے پہلے روز دیا تھا۔ پھر وہ تیسرے روز آپ کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے وہی کچھ کہا جو پہلے روز کہا تھا، اور آپ نے بھی انہیں وہی جواب دیا، اور آخری بار جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ اسماعیل نامی فرشتہ آیا جو ایک لاکھ فرشتوں کا سردار ہے، اور اس کا ہر ماتحت فرشتہ لاکھ فرشتوں کا سردار ہے، اس نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبرئیل علیہ السلام سے اس (فرشتوں) کے متعلق دریافت کیا، تو جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: یہ موت کا فرشتہ ہے، وہ آپ کے پاس آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے، اس نے آپ سے پہلے کسی آدمی سے اجازت طلب کی ہے نہ آپ کے بعد کسی آدمی سے اجازت طلب کرے گا۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دیں۔“ اسے اجازت دے دی گئی، اس نے سلام کیا، پھر کہا: محمد! اللہ نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے، اگر آپ اپنی روح قبض کرنے کی مجھے اجازت دیں تو میں قبض کر لوں گا، اور اگر آپ نے اجازت نہ فرمائی تو میں اسے قبض نہیں کروں گا۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”موت کے فرشتے! کیا تم ایسے کرو گے؟“ اس نے کہا: ہاں، کیونکہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کی چاہت کا احترام کروں، راوی بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبرئیل علیہ السلام کی طرف دیکھا تو جبرئیل علیہ السلام نے کہا: محمد! اللہ آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے، تب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ملک الموت سے فرمایا: ”تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اس کی تعمیل کرو۔“ اس نے آپ کی روح قبض کی، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی اور تعزیت کرنے والے حاضر ہوئے تو انہوں نے گھر کے کونے سے آواز سنی: اے اہل بیت! تم پر سلامتی ہو، اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں، بے شک اللہ کی کتاب میں ہر مصیبت سے عزا و تسلی ہے، ہر ہلاک ہونے والی چیز کا معاوضہ ہے، اور ہر نقصان کا تدارک ہے، اللہ کی توفیق کے ساتھ اللہ سے ڈرو، صرف اس سے امید وابستہ کرو، خسارے والا شخص وہ ہے جو ثواب سے محروم ہو گیا، علی (زین العابدین رحمہ اللہ) نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ شخص کون تھا؟ وہ خضر علیہ السلام تھے۔ اسنادہ ضعیف جدا، رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5972]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه البيھقي في دلائل النبوة (7/ 267. 268) [والشافعي في السنن المأثورة (ص334. 335 ح 390 رواية الطحاوي عن المزني) و السھمي في تاريخ جرجان (ص 363. 364) ]
٭ فيه قاسم بن عبد الله بن عمر بن حفص: متروک رواه أحمد بالکذب .»
قال الشيخ الألباني: واه
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سَيِّدُ الكَوْنِ لَمْ يَتْرُكْ تَرِكَةً مَادِّيَّةً)
کائنات کے آقا و مولیٰ نے ترکہ میں کچھ بھی نہ چھوڑا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5973
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5973 - عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا  وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا، وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (ترکہ میں) کوئی دینار چھوڑا نہ درہم، کوئی بکری چھوڑی نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5973]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (18/ 1635)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَاذَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا چھوڑا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5974
5974 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ مَوْتِهِ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا  وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً وَلَا شَيْئًا إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَسِلَاحَهُ، وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
جویریہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عمرو بن حارث رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی وفات کے وقت کوئی دینار چھوڑا نہ درہم، کوئی غلام چھوڑا نہ لونڈی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سفید خچر، اپنا اسلحہ اور کچھ زمین چھوڑی تھی، اور اس (زمین) کو بھی صدقہ قرار دے دیا تھا۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5974]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (2739)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَرِكَةُ الأَنْبِيَاءِ لَيْسَتْ دَرَاهِمَ وَلَا دَنَانِيرَ)
انبیاء کی وراثت درہم و دینا نہیں ہوتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5975
5975 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: (لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا  ، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمُؤْنَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میرا ورثہ دینار کی صورت میں تقسیم نہیں ہوگا، میں نے اپنی ازواجِ مطہرات کے خرچے اور عاملوں کی ضروریات کے اخراجات کے بعد جو چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5975]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2776) و مسلم (55/ 1760)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَرَيَانُ المِيرَاثِ فِي تَرِكَةِ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ)
انبیاء علیہم السلام کے ترکہ میں میراث کا جاری ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5976
5976 - وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہماری وراثت نہیں ہوتی، ہمارا ترکہ صدقہ ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5976]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6726) و مسلم (52/ 1759)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الأَنْبِيَاءُ الكِرَامُ يَبْقَوْنَ رَحْمَةً لِأُمَمِهِمْ بَعْدَ وَفَاتِهِمْ)
انبیاء کرام وفات پا کے بھی امت کے لیے رحمت ہوتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5977
5977 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: (إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا، وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا  حَيٌّ فَأَهْلَكَهَا وَهُوَ يَنْظُرُ، فَأَقَرَّ عَيْنَيْهِ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ وَعَصَوْا أَمْرَهُ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ امت کے افراد پر رحمت کا ارادہ فرماتا ہے تو اس (امت) سے پہلے اس کے نبی کی روح قبض فرما لیتا ہے، اور وہ اس (نبی) کو اس (امت) کے لیے اس کے آگے میر منزل اور پیشرو بنا دیتا ہے، اور جب وہ کسی امت کی ہلاکت کا ارادہ فرماتا ہے تو نبی کی زندگی میں اس (امت) پر عذاب نازل فرما کر اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور وہ (نبی) ان کی ہلاکت کے منظر کا مشاہدہ کر کے اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے کیونکہ انہوں نے اس کی تکذیب کی ہوتی ہے اور اس کے حکم کی نافرمانی کی ہوتی ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5977]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (24/ 2288)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (العَقِيدَةُ وَالمَحَبَّةُ لِذَاتِ الرِّسَالَةِ رَأْسُ مَالِ الأُمَّةِ)
ذات رسالت سے عقیدہ و محبت امت کا سرمایہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5978
5978 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ وَلَا يَرَانِي  ، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ مَعَهُمْ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. [ وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِي وَالثَّالِثِ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) کی جان ہے! تم میں سے کسی پر ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ وہ مجھے نہیں دیکھے گا، پھر اگر وہ مجھے دیکھ لے تو یہ اسے اپنے اہل و عیال اور اپنے مال کے ملنے سے بھی زیادہ پسندیدہ ہو گا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5978]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (142/ 2364)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں