مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (كَرَامَةُ خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَضْرَةِ سَفِينَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کی کرامت
حدیث نمبر: 5949
5949 - وَعَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطَأَ الْجَيْشَ بِأَرْضِ الرُّومِ أَوْ أُسِرَ، فَانْطَلَقَ هَارِبًا يَلْتَمِسُ الْجَيْشَ، فَإِذَا هُوَ بِالْأَسَدِ. فَقَالَ: يَا أَبَا الْحَارِثِ! أَنَا مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مِنْ أَمْرِي كَيْتَ وَكَيْتَ، فَأَقْبَلَ الْأَسَدُ، لَهُ بَصْبَصَةٌ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِهِ، كُلَّمَا سَمِعَ صَوْتًا أَهْوَى إِلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى بَلَغَ الْجَيْشَ، ثُمَّ رَجَعَ الْأَسَدُ . رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) .
ابن منکدر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سفینہ رضی اللہ عنہ سرزمین روم میں لشکر سے بچھڑ گئے، یا انہیں قید کر لیا گیا، وہ لشکر کی تلاش میں دوڑنے لگے تو اچانک شیر سے سامنا ہو گیا، انہوں نے فرمایا: «أَبُو الْحَارِثِ» (شیر کی کنیت)! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آزاد کردہ غلام ہوں، میرے ساتھ یہ یہ مسئلہ بنا ہے، شیر دم ہلاتا ہوا آپ کے سامنے آیا، حتیٰ کہ وہ آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، جب وہ کہیں سے (خوفناک) آواز سنتا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا، پھر وہ ان کی طرف آ جاتا حتیٰ کہ وہ لشکر کے ساتھ جا ملے پھر شیر واپس چلا گیا۔ اس کی سند ضعیف ہے، اسے شرح السنہ میں روایت کیا گیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5949]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (13/ 313 ح 3732) [و صححه الحاکم (3/ 606) ووافقه الذهبي]
٭ محمد بن المنکدر لم يثبت سماعه من سفينة رضي الله عنه فالسند معلل .»
٭ محمد بن المنکدر لم يثبت سماعه من سفينة رضي الله عنه فالسند معلل .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (دُعَاءٌ عَلَى الرَّوْضَةِ الشَّرِيفَةِ فِي زَمَنِ القَحْطِ وَنُزُولُ رَحْمَةِ المَطَرِ)
قحط سالی کے وقت روضہ اطہر پر دعا اور باران رحمت
حدیث نمبر: 5950
5950 - وَعَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، قَالَ: قُحِطَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ قَحْطًا شَدِيدًا، فَشَكَوْا إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: انْظُرُوا قَبْرَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاجْعَلُوا مِنْهُ كُوًى إِلَى السَّمَاءِ ، حَتَّى لَا يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ. فَفَعَلُوا، فَمُطِرُوا مَطَرًا حَتَّى نَبَتَ الْعُشْبُ، وَسَمِنَتِ الْإِبِلُ، حَتَّى تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ، فَسُمِّيَ عَامَ الْفَتْقِ، رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
ابو الجوزاء بیان کرتے ہیں، مدینہ والے شدید قحط کا شکار ہو گئے تو انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا تو انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کی طرف دیکھو (جاؤ) اور اس میں سے آسمان کی طرف کچھ سوراخ بنا دو حتیٰ کہ ان پر کوئی پردہ نہ ہو، انہوں نے ایسے ہی کیا تو ان پر خوب بارش ہوئی حتیٰ کہ گھاس اگ آئی، اونٹ اس قدر فربہ ہو گئے کہ وہ چربی سے پھول گئے اور اس سال کا نام «عَامُ الْفَتْقِ» یعنی (خوشحالی کا سال) رکھا گیا۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5950]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (1/ 43. 44 ح 93)
٭ فيه عمرو بن مالک النکري، رواه عن أبي الجوزاء و قال ابن عدي: ’’يحدث عن أبي الجوزاء ھذا أيضًا عن ابن عباس قدر عشرة أحاديث غير محفوظة‘‘ (الکامل 401/1، نسخة أخري 2/ 108) و ھذا جرح خاص فالسند ضعيف معلل .»
٭ فيه عمرو بن مالک النکري، رواه عن أبي الجوزاء و قال ابن عدي: ’’يحدث عن أبي الجوزاء ھذا أيضًا عن ابن عباس قدر عشرة أحاديث غير محفوظة‘‘ (الکامل 401/1، نسخة أخري 2/ 108) و ھذا جرح خاص فالسند ضعيف معلل .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (صَوْتُ طَنِينٍ مِنَ الرَّوْضَةِ المُقَدَّسَةِ)
روضہ اقدس سے گنگناہٹ کی آواز
حدیث نمبر: 5951
5951 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ أَيَّامُ الْحَرَّةِ لَمْ يُؤَذَّنْ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا وَلَمْ يُقَمْ، وَلَمْ يَبْرَحْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْمَسْجِدَ، وَكَانَ لَا يَعْرِفُ وَقْتَ الصَّلَاةِ إِلَّا بِهَمْهَمَةٍ يَسْمَعُهَا مِنْ قَبْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، جب حرہ کا واقعہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں تین روز تک اذان ہوئی نہ نماز اور نہ ہی سعید بن مسیّب رحمہ اللہ مسجد سے باہر نکل سکے، انہیں نماز کا وقت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک سے آنے والی مبہم سی آواز سے معلوم ہوتا تھا۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5951]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف
٭ فيه سعيد بن عبد العزيز: لم يثبت سماعه من سعيد بن المسيب رحمه الله .»
٭ فيه سعيد بن عبد العزيز: لم يثبت سماعه من سعيد بن المسيب رحمه الله .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (دُعَاءُ النَّبِيِّ الكَرِيمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبُسْتَانِ حَضْرَةِ أَنَسٍ)
حضرت انس کے باغ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا
حدیث نمبر: 5952
5952 - وَعَنْ أَبِي خَلْدَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْعَالِيَةِ: سَمِعَ أَنَسٌ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: خَدَمَهُ عَشْرَ سِنِينَ، وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ لَهُ بُسْتَانٌ يَحْمِلُ فِي كُلِّ سَنَةٍ الْفَاكِهَةَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنَّ فِيهَا رَيْحَانٌ يَجِيءُ مِنْهُ رِيحُ الْمِسْكِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابو خلدہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابو العالیہ سے کہا: کیا انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث سنی ہیں؟ انہوں نے کہا: انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دس سال خدمت کی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی جس کی وجہ سے ان کا باغ سال میں دو مرتبہ پھل دیا کرتا تھا، اور اس میں کستوری جیسی خوشبو آتی تھی۔ ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5952]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (3833) و أخطأ من ضعفه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (بَدْدُعَاءُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ)
سعید بن زید کی بددعا
حدیث نمبر: 5953
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 5953 - عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - خَاصَمَتْهُ أَرْوَى بِنْتُ أَوْسٍ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، وَادَّعَتْ أَنَّهُ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَنَا كُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟! قَالَ: مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: (مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ) فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: لَا أَسْأَلُكَ بَيِّنَةً بَعْدَ هَذَا. فَقَالَ سَعِيدٌ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا قَالَ: فَمَا مَاتَتْ حَتَّى ذَهَبَ بَصَرُهَا، وَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِمَعْنَاهُ، وَأَنَّهُ رَآهَا عَمْيَاءَ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ، تَقُولُ: أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعِيدٍ، وَأَنَّهَا مَرَّتْ عَلَى بِئْرٍ فِي الدَّارِ الَّتِي خَاصَمَتْهُ فِيهَا، فَوَقَعَتْ فِيهَا، فَكَانَتْ قَبْرَهَا.
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے متعلق ارویٰ بنت اوس نے مروان بن حکم کی عدالت میں مقدمہ پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے میری کچھ زمین حاصل کر لی ہے، سعید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث سن لینے کے بعد بھی ان کی زمین کے کچھ حصہ پر قبضہ کروں گا؟ مروان نے کہا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے بالشت بھر زمین ناحق حاصل کی تو اسے ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔“ تب مروان نے کہا: اس کے بعد میں آپ سے کوئی ثبوت نہیں مانگتا۔ سعید رضی اللہ عنہ نے دعا فرمائی: «اللّٰهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا، وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا» ”اے اللہ! اگر وہ جھوٹی ہے تو اسے اندھی بنا دے اور اسے اس کی زمین میں موت دے۔“ راوی بیان کرتے ہیں، جب وہ فوت ہوئی تو وہ اندھی ہو چکی تھی اور وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے میں گری اور فوت ہو گئی۔ اور صحیح مسلم میں محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے ہم معنی روایت ہے کہ انہوں نے اسے بینائی سے محروم دیواروں کو ٹٹولتے ہوئے دیکھا، اور وہ کہتی تھی: مجھے سعید کی بددعا لگ گئی، اور وہ گھر کے اس کنویں کے پاس سے گزری جس کے متعلق اس نے ان (سعید رضی اللہ عنہ) سے مقدمہ کیا تھا، وہ اس میں گری اور وہی اس کی قبر بنی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5953]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3198) و مسلم (139، 136 / 1610)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (قِصَّةُ "يَا سَارِيَةُ! الجَبَلُ" غَيْرُ ثَابِتَةٍ)
”یا ساریہ! الجبل“ کا غیر ثابت شدہ قصہ
حدیث نمبر: 5954
5954 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ عُمَرَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعَى سَارِيَةَ، فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَخْطُبُ، فَجَعَلَ يَصِيحُ: يَا سَارِيَ! الْجَبَلَ فَقَدِمَ رَسُولٌ مِنَ الْجَيْشِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقِيَنَا عَدُوُّنَا فَهَزَمُونَا، فَإِذَا بِصَائِحٍ يَصِيحُ: يَا سَارِيَ! الْجَبَلَ. فَأَسْنَدْنَا ظُهُورَنَا إِلَى الْجَبَلِ، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ - تَعَالَى. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي (دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ) .
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر روانہ کیا اور ساریہ رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر مقرر کیا، اس اثنا میں کہ عمر رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ زور سے کہنے لگے: «يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ» ”ساریہ! پہاڑ کی طرف۔“ پھر لشکر کی طرف سے ایک قاصد آیا تو اس نے کہا: اے امیر المومنین! ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوا تو اس نے ہمیں شکست سے دوچار کر دیا تھا مگر اچانک کسی نے زور سے آواز دی: «يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ» ”ساریہ! پہاڑ کو نہ چھوڑو۔“ ہم نے اپنی پشتیں پہاڑ کی جانب کر لیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا۔ [رواہ البيهقي في دلائل النبوة] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5954]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في دلائل النبوة (6/ 380)
٭ فيه محمد بن عجلان مدلس و عنعن و له طرق عند ابن عساکر (تاريخ دمشق 22/ 18، 19) وغيره و کلھا ضعيفة و مرسلة، لا يصح منھا شئ و أخطأ من صححه أو حسنه!»
٭ فيه محمد بن عجلان مدلس و عنعن و له طرق عند ابن عساکر (تاريخ دمشق 22/ 18، 19) وغيره و کلھا ضعيفة و مرسلة، لا يصح منھا شئ و أخطأ من صححه أو حسنه!»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (كَرَامَةُ كَعْبِ الأَحْبَارِ)
کعب احبار کی کرامت
حدیث نمبر: 5955
5955 - وَعَنْ نُبَيْهَةَ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ كَعْبًا دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ كَعْبٌ: مَا مِنْ يَوْمٍ يَطْلُعُ إِلَّا نَزَلَ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ حَتَّى يَحُفُّوا بِقَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَضْرِبُونَ بِأَجْنِحَتِهِمْ، وَيُصَلُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا أَمْسَوْا عَرَجُوا وَهَبَطَ مِثْلُهُمْ فَصَنَعُوا مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا انْشَقَّتْ عَنْهُ الْأَرْضُ خَرَجَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَزُفُّونَهُ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
نبیہ بن وہب سے روایت ہے کہ کعب، عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اہل مجلس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ کیا، تو کعب نے فرمایا: ہر روز ستر ہزار فرشتے نازل ہوتے ہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کو گھیر لیتے ہیں، وہ اپنے پر پھڑپھڑاتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، جب شام ہوتی ہے تو وہ اوپر چڑھ جاتے ہیں، اور اتنے ہی فرشتے اور اتر آتے ہیں اور وہ بھی اسی طرح کرتے ہیں، حتیٰ کہ جب (روز قیامت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قبر مبارک سے نکلیں گے تو آپ ستر ہزار فرشتوں کی معیت میں ہوں گے وہ آپ کو لے کر جلدی بھاگیں گے۔ (رواہ الدارمی) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5955]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (44/1 ح 95)
٭ في سماع نبيه بن وھب من کعب نظر و لم يدرک عائشة أيضًا فالسند منقطع .»
٭ في سماع نبيه بن وھب من کعب نظر و لم يدرک عائشة أيضًا فالسند منقطع .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (فَرَحُ النَّاسِ بِقُدُومِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى المَدِينَةِ الطَّيِّبَةِ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ طیبہ آمد پر خوشی
حدیث نمبر: 5956
[ 9 ] بَابٌ [ هِجْرَةُ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ وَوَفَاتُهُ ] الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5956 - عَنِ الْبَرَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَجَعَلَا يُقْرِآنِنَا الْقُرْآنَ، ثُمَّ جَاءَ عَمَّارٌ وَبِلَالٌ وَسَعْدٌ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ، فَرَحَهُمْ بِهِ، حَتَّى رَأَيْتُ الْوَلَائِدَ وَالصِّبْيَانَ يَقُولُونَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ جَاءَ فَمَا جَاءَ حَتَّى قَرَأْتُ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فِي سُوَرٍ مِثْلِهَا مِنَ الْمُفَصَّلِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما تشریف لائے، انہوں نے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا، پھر عمار، بلال اور سعد رضی اللہ عنہم آئے، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیس صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف لائے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے مدینہ والوں کو کسی چیز پر اتنا خوش نہیں دیکھا جتنا میں نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد پر خوش دیکھا، حتیٰ کہ میں نے چھوٹی چھوٹی بچیوں اور بچوں کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا چکے ہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں سورۂ اعلیٰ کے ساتھ مفصل سورتوں میں سے کئی سورتیں پڑھ چکا تھا۔ [رواہ البخاری] [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5956]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4941)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (إِشَارَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَفَاتِهِ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی وفات کی طرف اشارہ
حدیث نمبر: 5957
5957 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: (إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ) . فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ قَالَ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا، فَعَجِبْنَا لَهُ، فَقَالَ النَّاسُ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا!! فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ هُوَ الْمُخَيَّرَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: ”اللہ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو چاہے اپنے لیے پسند کر لے یا پھر وہ اس چیز کو اختیار کر لے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔“ (یہ سن کر) ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا: ہمارے والدین آپ پر فدا ہوں! ہمیں ان کی اس حالت پر تعجب ہوا، لوگوں نے کہا: اس بزرگ کو دیکھو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بندے کے متعلق بتا رہے ہیں کہ اللہ نے اسے اختیار دیا ہے کہ وہ دنیا کی نعمتیں پسند کر لے یا اس چیز کو پسند کر لے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور وہ کہہ رہے ہیں: ہمارے والدین آپ پر فدا ہوں۔ چنانچہ جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ اس بات کو جاننے والے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5957]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3904) و مسلم (2/ 2382)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (خِطَابٌ جَامِعٌ فِي الأَيَّامِ الأَخِيرَةِ)
آخری ایّام کا ایک جامع خطاب
حدیث نمبر: 5958
5958 - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ، كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: (إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ وَأَنَا فِي مَقَامِي هَذَا، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّى أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا) . وَزَادَ بَعْضُهُمْ: (فَتَقْتَتِلُوا، فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ سال بعد شہدائے احد پر ایسے نماز جنازہ ادا کی جیسے آپ زندوں اور فوت شدہ لوگوں سے رخصت ہو رہے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”میں تم سے آگے آگے ہوں، میں تم پر گواہ رہوں گا، مجھ سے تمہاری ملاقات حوض پر ہو گی، میں اسے دیکھ رہا ہوں حالانکہ میں اپنی اس جگہ پر ہوں، اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئی ہیں، مجھے تمہارے متعلق یہ خدشہ نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، لیکن مجھے تمہارے متعلق دنیا کا خدشہ ہے کہ تم اس کے متعلق باہم سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے۔“ اور بعض راویوں نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ”تم باہم لڑو گے اور تم بھی اسی طرح ہلاک ہو جاؤ گے جس طرح تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے تھے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5958]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4042) و مسلم (30/ 2296 و الزيادة له 31/ 2296)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه