مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (شَفَقَةٌ نَبَوِيَّةٌ عَلَى حَضْرَةِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ)
حضرت اسامہ بن زید سے شفقت نبوی
حدیث نمبر: 6149
6149 - وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُهُ وَالْحَسَنَ، فَيَقُولُ:"اللَّهُمَّ أَحِبَّهُمَا فَإِنِّي أُحِبُّهَا". وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْخُذُنِي فَيُقْعِدُنِي عَلَى فَخِذِهِ، وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى فَخِذِهِ الْأُخْرَى، ثُمَّ يَضُمُّهُمَا، ثُمَّ يَقُولُ:"اللَّهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أَرْحَمُهُمَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ مجھے اور حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر فرماتے: «اللَّهُمَّ أَحِبَّهُمَا فَإِنِّي أُحِبُّهُمَا» ”اے اللہ! ان سے محبت فرما کیونکہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں“۔ ایک دوسری روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھا لیتے تھے اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنی دوسری ران پر بٹھا لیتے، پھر انہیں ملا کر فرماتے: «اللَّهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أَرْحَمُهُمَا» ”اے اللہ! ان دونوں پر رحم فرما کیونکہ میں ان پر شفقت و رحمت فرماتا ہوں“۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6149]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3735) و الرواية الثانية، رواها البخاري (6003)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه البخاري (3735)
--. (فَضِيلَةُ حَضْرَةِ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَوَالِدِهِ حَضْرَةِ زَيْدٍ)
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد حضرت زید کی فضیلت
حدیث نمبر: 6150
6150 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَأَيْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ نَحْوُهُ وَفِي آخِرِهِ:"أُوصِيكُمْ بِهِ، فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيكُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تو اس پر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا، کچھ لوگوں نے ان کی امارت کے بارے میں اعتراض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد کی امارت کے بارے میں بھی اعتراض کر چکے ہو۔ اللہ کی قسم! بلاشبہ وہ امارت کے زیادہ لائق تھا اور وہ تمام لوگوں سے مجھے زیادہ محبوب تھا اور اس کے بعد یہ بھی مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔“ اور صحیح مسلم کی روایت میں بھی اسی طرح ہے، اور اس کے آخر میں ہے: ”میں اس کے متعلق تمہیں وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہارے صالحین میں سے ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6150]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3730) و مسلم (63/ 2426 و الرواية الثانية: 64/ 2426)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَوْلَى الرَّجُلِ يُعَدُّ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ)
آدمی کا مولیٰ اس کے اہل بیت میں شامل ہوتا ہے
حدیث نمبر: 6151
6151 - وَعَنْهُ، قَالَ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ: ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَذُكِرَ حَدِيثُ الْبَرَاءِ قَالَ لِعَلِيٍّ:"أَنْتَ مِنِّي"فِي"بَابِ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو قرآن کریم کی اس آیت ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ [سورة الأحزاب: 5] ”ان کو ان کے آبا کے نام سے بلاؤ“ کے نازل ہونے تک ہم ”زید بن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“ کہہ کر بلایا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ اور براء رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «أَنْتَ مِنِّي» ”تم مجھ سے ہو“ باب بلوغ الصغیر و حضانتہ میں ذکر ہو چکی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6151]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4782) و مسلم (62/ 2425)
حديث البراء تقدم (3377)»
حديث البراء تقدم (3377)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (فَضِيلَةُ أَهْلِ البَيْتِ)
فضیلت اہل بیت
حدیث نمبر: 6152
الْفَصْلُ الثَّانِي 6152 - عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ"إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا: كِتَابَ اللَّهِ، وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے روز آپ کی اونٹنی قصواء پر خطاب فرماتے ہوئے دیکھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگو! میں نے تم میں ایسی چیز چھوڑی ہے جب تک تم اسے تھامے رکھو گے گمراہ نہیں ہو گے، وہ اللہ کی کتاب اور میری عترت میرے اہل بیت ہیں۔“ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6152]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (3786 و قال: غريب حسن)
٭ زيد بن الحسن ضعيف و حديث مسلم (2408) و ابن ماجه (1558) يغني عنه .»
٭ زيد بن الحسن ضعيف و حديث مسلم (2408) و ابن ماجه (1558) يغني عنه .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح بِالَّذِي بعده
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (شَيْئَانِ أُمِرْنَا أَلَّا نَتْرُكَهُمَا أَبَدًا)
دو چیزیں جن کو کبھی نہ چھوڑنے کا حکم
حدیث نمبر: 6153
6153 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي ، وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم اس کے ساتھ تمسک اختیار رکھو گے تو میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے، ان میں سے ایک دوسری سے عظیم تر ہے، اللہ کی کتاب جو کہ ایک ایسی رسی ہے جو آسمان سے زمین کی طرف دراز کی گئی ہے، اور میری عترت اہل بیت، یہ دونوں الگ نہیں ہوں گے حتیٰ کہ حوض (کوثر) پر میرے پاس آئیں گے۔ دیکھو کہ تم ان دونوں کے بارے میں میری کیسی جانشینی نبھاتے ہو۔“ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6153]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3788 وقال: حسن غريب)
انظر الحديث 111 ص 6، انوار الصحيفه ص 331»
انظر الحديث 111 ص 6، انوار الصحيفه ص 331»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (ذِكْرُ مَحَبَّةٍ وَعَدَاوَةٍ لِحَضْرَةِ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ)
حضرت علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم سے محبت اور دشمنی کا ذکر
حدیث نمبر: 6154
6154 - وَعَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ:"أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَهُمْ، وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَهُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کے بارے میں فرمایا: ”جس نے ان سے لڑائی کی میں اس سے لڑنے والا ہوں، اور جس نے ان سے مصالحت کی میں اس سے مصالحت کرنے والا ہوں۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6154]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3870 و قال: غريب) [و ابن ماجه (145) ]
٭ صبيح مولي أم سلمة: لم يوثقه غير ابن حبان .»
٭ صبيح مولي أم سلمة: لم يوثقه غير ابن حبان .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (حَضْرَةُ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
حضرت علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے نزدیک
حدیث نمبر: 6155
6155 - وَعَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلْتُ: أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَتْ: فَاطِمَةُ . فَقِيلَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ: زَوْجُهَا إِنْ كَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
جمیع بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں اپنی پھوپھی کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو میں نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ کس سے محبت تھی؟ انہوں نے فرمایا: فاطمہ رضی اللہ عنہا سے، پوچھا گیا: مردوں میں سے؟ انہوں نے فرمایا: ان کے شوہر (علی رضی اللہ عنہ) سے۔ (سندہ ضعیف، رواہ الترمذی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6155]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (3874 وقال: حسن غريب)
٭ جميع بن عمير ضعيف ضعفه الجمھور و لحديثه شواھد ضعيفة عند الترمذي (3868) وغيره .»
٭ جميع بن عمير ضعيف ضعفه الجمھور و لحديثه شواھد ضعيفة عند الترمذي (3868) وغيره .»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (فَضِيلَةُ حَضْرَةِ العَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 6156
6156 - وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ الْعَبَّاسَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُغْضَبًا وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ:"مَا أَغْضَبَكَ؟"قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ. وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ:"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ"ثُمَّ قَالَ:"أَيُّهَا النَّاسُ! مَنْ آذَى عَمِّي فَقَدْ آذَانِي، فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَفِي"الْمَصَابِيحِ"عَنِ الْمُطَّلِبِ.
عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عباس رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں اس وقت آپ کے پاس ہی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کو کس نے ناراض کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا (بنو ہاشم) اور باقی قریشیوں کا کیا معاملہ ہے؟ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں، اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اس طرح نہیں ملتے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی غصے میں آ گئے حتیٰ کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت کرے۔“ پھر فرمایا: ”لوگو! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی، آدمی کا چچا اس کے باپ کے مانند ہوتا ہے۔“ ترمذی، اور مصابیح میں مطلب سے مروی ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6156]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3758 وقال: حسن صحيح)
٭ فيه يزيد بن أبي زياد: ضعيف مشھور . إِلَّا الْجُمْلَة الْأَخِيرَة فصحيحة»
٭ فيه يزيد بن أبي زياد: ضعيف مشھور . إِلَّا الْجُمْلَة الْأَخِيرَة فصحيحة»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف إِلَّا الْجُمْلَة الْأَخِيرَة فصحيحة
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: العَبَّاسُ مِنِّي وَأَنَا مِنَ العَبَّاسِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہنا کہ عباس میرا اور میں عباس کا
حدیث نمبر: 6157
6157 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"الْعَبَّاسُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ" . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6157]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` إسناده «ضعيف، رواه الترمذي (3759 وقال: حسن صحيح غريب) ٭ فيه عبد الأعلي الثعلبي: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (دُعَاءُ المَغْفِرَةِ لِحَضْرَةِ العَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَذُرِّيَّتِهِ)
حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کے لئے بخشش کی دعا
حدیث نمبر: 6158
6158 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ:"إِذَا كَانَ غَدَاةَ الِاثْنَيْنِ فَأْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ حَتَّى أَدْعُوَ لَهُمْ بِدَعْوَةٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا وَوَلَدَكَ"فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ، وَأَلْبَسَنَا كِسَاءَهُ ثُمَّ قَالَ:"اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لَا تُغَادِرُ ذَنْبًا ، اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَزَادَ رَزِينٌ:"وَاجْعَلِ الْخِلَافَةَ بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ"وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جب پیر کا دن ہو تو آپ اور آپ کی اولاد میرے پاس آنا، میں تمہارے لیے دعا کروں گا جس کے ذریعے اللہ تمہیں اور تمہاری اولاد کو فائدہ پہنچائے گا۔“ ہم ان کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنی چادر میں لے کر دعا فرمائی: ”اے اللہ! عباس اور اس کی اولاد کی تمام ظاہری و باطنی لغزشیں معاف فرما، ان کا کوئی گناہ باقی نہ چھوڑ، اے اللہ! ان کا سایہ ان کی اولاد پر قائم فرما۔“ اور رزین نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ”اور ان کی اولاد میں خلافت باقی رکھ۔“ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ اس کی سند ضعیف ہے، اسے ترمذی اور رزین نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6158]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3762) و رزين (لم أجده) ٭ فيه عبد الوهاب بن عطاء مدلس و عنعن و روي عن ابن معين بأنه قال: ’’هذا موضوع و عبد الوهاب: لم يقل فيه حدثنا ثور و لعله دلّس فيه وهو ثقة‘‘ و فيه علة أخري .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف