مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (رَأْسُ حَضْرَةِ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَمَا أُحْضِرَ إِلَى ابْنِ زِيَادٍ)
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک جب ابن زیاد کے پاس لایا گیا
حدیث نمبر: 6179
6179 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَتَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ، فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا، قَالَ أَنَسٌ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسِمَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِقَضِيبٍ فِي أَنْفِهِ وَيَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا، فَقُلْتُ: أَمَا إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حسین رضی اللہ عنہ کے سرِ مبارک کو عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا تو اسے ایک طشت میں رکھ دیا گیا، وہ (چھڑی کے ساتھ) مارنے لگا اور اس نے ان کے حسن کے بارے میں کچھ کہا، انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! وہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ تھے،“ اور اس وقت ان کے سرِ مبارک پر وسمہ لگا ہوا تھا۔ امام ترمذی کی روایت میں ہے، انہوں نے کہا: میں ابن زیاد کے پاس تھا کہ حسین رضی اللہ عنہ کا سر لایا گیا، تو وہ آپ کی ناک پر چھڑی مارنے لگا اور کہنے لگا: ”میں نے ایسا حسن نہیں دیکھا،“ میں نے کہا: ”سن لے! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اسے بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6179]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3748) و الترمذي (3778)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (تَنَبُّؤٌ بِشَهَادَةِ حَضْرَةِ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی پیشگوئی
حدیث نمبر: 6180
6180 - وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي رَأَيْتُ حُلْمًا مُنْكَرًا اللَّيْلَةَ قَالَ:"وَمَا هُوَ؟"قَالَتْ: إِنَّهُ شَدِيدٌ قَالَ:"وَمَا هُوَ؟"قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ قِطْعَةً مِنْ جَسَدِكَ قُطِعَتْ وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"رَأَيْتِ خَيْرًا، تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غُلَامًا يَكُونُ فِي حِجْرِكِ". فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ الْحُسَيْنَ، فَكَانَ فِي حِجْرِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَدَخَلْتُ يَوْمًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ، ثُمَّ كَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ، فَإِذَا عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَهْرِيقَانِ الدُّمُوعَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا لَكَ؟ قَالَ:"أَتَانِي جِبْرَئِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتِي سَتَقْتُلُ ابْنِي هَذَا ، فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَتَانِي بِتُرْبَةٍ مِنْ تُرْبَتِهِ حَمْرَاءَ".
ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے رات ایک عجیب سا خواب دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ بہت شدید ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے دیکھا کہ گویا گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جو آپ کے جسم اطہر سے کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے خیر دیکھی ہے، «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”ان شاء اللہ“ فاطمہ بچے کو جنم دیں گی اور وہ تمہاری گود میں ہو گا۔“ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حسین رضی اللہ عنہ کو جنم دیا اور وہ میری گود میں تھا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے حسین رضی اللہ عنہ کو آپ کی گود میں رکھ دیا۔ پھر میں کسی اور طرف متوجہ ہو گئی، اچانک دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، وہ بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میرے والدین آپ پر قربان ہوں! آپ کو کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت عنقریب میرے اس بیٹے کو شہید کر دے گی۔ میں نے کہا: اس (بچے) کو؟ انہوں نے کہا: ہاں! اور انہوں نے مجھے اس (جگہ) کی سرخ مٹی لا کر دی۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6180]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في دلائل النبوة (6/ 469) [و صححه الحاکم علي شرط الشيخين (176/3. 177، 179) فقال الذھبي: ’’قلت: بل منقطع ضعيف فإن شدادًا لم يدرک أم الفضل و محمد بن مصعب: ضعيف‘‘] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (تَنَبُّؤٌ وَإِخْبَارٌ بِشَهَادَةِ حَضْرَةِ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی پیشگوئی اور اطلاع
حدیث نمبر: 6181
6181 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا يَرَى النَّائِمُ ذَاتَ يَوْمٍ بِنِصْفِ النَّهَارِ، أَشْعَثَ أَغْبَرَ، بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا هَذَا؟ قَالَ:"هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ ، وَلَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمُ"فَأُحْصِي ذَلِكَ الْوَقْتَ فَأَجِدُ قُتِلَ ذَلِكَ الْوَقْتِ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي"دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ"وَأَحْمَدُ الْأَخِيرَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ایک روز نصف النہار کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ کے بال پراگندہ ہیں اور جسم اطہر غبار آلود ہے، آپ کے ہاتھ میں خون کی بوتل ہے، میں نے عرض کیا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں، یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے، میں آج صبح سے اسے اکٹھا کر رہا ہوں۔“ میں نے اس وقت کو یاد رکھا اور بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اسی وقت انہیں شہید کیا گیا تھا۔ دونوں احادیث کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے اور آخری حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ واحمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6181]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه البيھقي في دلائل النبوة (6/ 471) و أحمد (1/ 242 ح 2165)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (مَحَبَّةُ أَهْلِ البَيْتِ بِسَبَبِ مَحَبَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
اہل بیت سے محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے کرو
حدیث نمبر: 6182
6182 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ، فَأَحِبُّونِي لِحُبِّ اللَّهِ، وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے محبت کرو کہ اس نے تمہیں نعمتوں سے نوازا ہے، اور اللہ کی محبت کی خاطر مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی خاطر میرے اہل بیت سے محبت کرو۔“ (اسنادہ حسن، رواہ الترمذی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6182]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3789 وقال: حسن غريب)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (مَحَبَّةُ أَهْلِ البَيْتِ سَبَبٌ لِلنَّجَاةِ)
اہل بیت سے محبت نجات کا سبب
حدیث نمبر: 6183
6183 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِبَابِ الْكَعْبَةِ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"أَلَا إِنَّ مِثْلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مِثْلُ سَفِينَةِ نُوحٍ، مَنْ رَكِبَهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا، اس حال میں کہ وہ کعبہ کے دروازے کو پکڑے ہوئے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سن لو! تم میں میرے اہل بیت کی مثال کشتیِ نوح کی طرح ہے، جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جو اس سے رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا۔“ (اسنادہ ضعیف، رواہ احمد فی فضائل الصحابۃ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6183]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد في فضائل الصحابة (2/ 785 ح 1402، زيادات القطيعي، ليس فيه أحمد و لا ابنه) [و الحاکم (3/ 150، 2/ 343) ]
٭ فيه المفضل بن صالح النخاس الأسدي: ضعيف، و أبو إسحاق السبيعي مدلس و عنعن و للحديث شواھد ضعيفة .»
٭ فيه المفضل بن صالح النخاس الأسدي: ضعيف، و أبو إسحاق السبيعي مدلس و عنعن و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (فَضَائِلُ سَيِّدَةِ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے فضائل
حدیث نمبر: 6184
[ 11 ] بَابُ مَنَاقِبِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ - الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 6184 - عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَأَشَارَ وَكِيعٌ إِلَى السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”(اپنے زمانے میں) مریم بنت عمران سب سے بہتر خاتون تھیں، اور (اس زمانے میں) خدیجہ بنت خویلد سب سے بہتر خاتون ہیں۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ابوکریب بیان کرتے ہیں، وکیع رحمہ اللہ نے آسمان اور زمین کی طرف اشارہ فرمایا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6184]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3432) و مسلم (69/ 2430)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (سَلَامُ اللَّهِ تَعَالَى وَجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِحَضْرَةِ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَبِشَارَةُ بَيْتٍ فِي الجَنَّةِ)
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالیٰ اور جبرئیل علیہ السلام کا سلام اور جنّت میں گھر کی خوشخبری
حدیث نمبر: 6185
6185 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَتَى جِبْرَئِيلُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:"يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ، فَإِذَا أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! خدیجہ رضی اللہ عنہا آ رہی ہیں، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن ہے اور کھانا ہے، جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی طرف سے اور میری طرف سے انہیں سلام کہنا، اور انہیں جنت میں خول دار موتی کے گھر کی بشارت دینا جس میں کوئی شور و شغب ہو گا نہ کوئی تھکن ہو گی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6185]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3820) و مسلم (71/ 2432)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (ذِكْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَضْرَةِ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَعْدَ وَفَاتِهَا)
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یاد کرتے تھے
حدیث نمبر: 6186
6186 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَمَا رَأَيْتُهَا، وَلَكِنْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَهَا، وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً، ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيجَةَ، فَرُبَّمَا قُلْتُ لَهُ: كَأَنَّهُ لَمْ تَكُنْ فِي الدُّنْيَا امْرَأَةٌ إِلَّا خَدِيجَةَ، فَيَقُولُ:"إِنَّهَا كَانَتْ، وَكَانَتْ، وَكَانَ لِي مِنْهَا وُلْدٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ کے بارے میں اتنا رشک نہیں کیا جتنا خدیجہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں کیا، حالانکہ میں نے انہیں دیکھا نہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے، بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکری ذبح کرتے پھر اس کے ٹکڑے کرتے پھر انہیں خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کے ہاں بھیجتے تھے، کبھی کبھار میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یوں عرض کرتی: گویا دنیا میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی عورت ہی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: ”وہ ایسی تھیں، وہ ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہے۔“ (متفق علیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6186]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3818) و مسلم (75/ 2435)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (فَضَائِلُ سَيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل
حدیث نمبر: 6187
6187 - وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"يَا عَائِشُ! هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ". قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، قَالَتْ: وَهُوَ يَرَى مَا لَا أَرَى. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ جبریل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: «وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”اور ان پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو!“ اور انہوں نے فرمایا: جو چیزیں آپ دیکھتے تھے وہ مجھے نظر نہیں آتی تھیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6187]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3768) و مسلم (90/ 2447)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (رُؤْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَضْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي المَنَامِ قَبْلَ الزَّوَاجِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا خواب میں دیدار کرنا
حدیث نمبر: 6188
6188 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ ثَلَاثَ لَيَالٍ ، يَجِيءُ بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، فَقَالَ لِي: هَذِهِ امْرَأَتُكَ، فَكَشَفْتُ عَنْ وَجْهِكِ الثَّوْبَ، فَإِذَا أَنْتِ هِيَ، فَقُلْتُ: إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم مجھے خواب میں تین راتیں دکھائی گئیں، فرشتہ ریشم کے ایک ٹکڑے میں تمہیں اٹھائے ہوئے تھا اور اس نے مجھ سے کہا: یہ آپ کی اہلیہ ہیں، میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا اٹھایا تو وہ تم ہی تھیں، میں نے کہا: اگر یہ (خواب) اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا فرما دے گا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6188]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3895) و مسلم (79/ 2438)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه