مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَمْرُ حَضْرَةِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِمَحَبَّةِ حَضْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 6189
6189 - وَعَنْهَا، قَالَتْ: إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ ، يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَتْ: إِنَّ نِسَاءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُنَّ حِزْبَيْنِ: فَحِزْبٌ فِيهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ وَصَفِيَّةُ وَسَوْدَةُ، وَالْحِزْبُ الْآخَرُ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَلَّمَ حِزْبُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقُلْنَ لَهَا: كَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُكَلِّمُ النَّاسَ فَيَقُولُ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلْيُهْدِهِ إِلَيْهِ حَيْثُ كَانَ. فَكَلَّمَتْهُ، فَقَالَ لَهَا:"لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ؟ فَإِنَّ الْوَحْيَ لَمْ يَأْتِنِي وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلَّا عَائِشَةَ". قَالَتْ: أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مِنْ أَذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ فَأَرْسَلْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَلَّمَتْهُ، فَقَالَ:"يَا بُنَيَّةُ! أَلَا تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟". قَالَتْ: بَلَى. قَالَ:"فَأَحِبِّي هَذِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَذَكَرَ حَدِيثُ أَنَسٍ"فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ"فِي بَابِ"بَدْءِ الْخَلْقِ"بِرِوَايَةِ أَبِي مُوسَى.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ صحابہ کرام اپنے تحائف پیش کرنے کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن تلاش کیا کرتے تھے اور وہ اس کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اور انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے دو گروہ تھے، ایک گروہ میں عائشہ، حفصہ، صفیہ اور سودہ رضی اللہ عنہن تھیں، جبکہ دوسرے گروہ میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی ازواج مطہرات تھیں، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گروہ نے مشورہ کیا اور انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کریں کہ آپ لوگوں سے فرما دیں کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجنا چاہے تو وہ آپ کی خدمت میں وہیں ہدیہ بھیجے جہاں آپ تشریف فرما ہوں۔ انہوں (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) نے آپ سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف نہ پہنچاؤ، کیونکہ عائشہ کے علاوہ کسی زوجہ محترمہ کے کپڑے میں مجھ پر وحی نہیں آتی۔“ انہوں (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو تکلیف پہنچانے کی وجہ سے میں اللہ کے حضور توبہ کرتی ہوں۔ پھر انہوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، انہوں نے آپ سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹی! کیا تم وہ چیز پسند نہیں کرتی ہو جو میں پسند کرتا ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور (پسند کرتی ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس (عائشہ رضی اللہ عنہا) سے محبت کرو۔“ متفق علیہ۔ اور انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ» ”عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر“ باب بدء الخلق میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی سند سے ذکر کی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6189]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2581) و مسلم (83/ 2442)
حديث أنس تقدم (5724)»
حديث أنس تقدم (5724)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (ذِكْرُ النِّسَاءِ الأَفْضَلِ وَالأَبْرَزِ)
افضل اور برتر خواتین کا ذکر
حدیث نمبر: 6190
الْفَصْلُ الثَّانِي 6190 - عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جہان کی خواتین میں سے (کمال کے اعتبار سے) مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آسیہ زوجہ فرعون رضی اللہ عنہن تمہارے لیے کافی ہیں۔“ [صحیح، رواہ الترمذی] [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6190]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (3878 وقال: حسن صحيح غريب)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (عَرْضُ سَيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَرِيرٍ أَخْضَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی صورت سبز ریشم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھانا
حدیث نمبر: 6191
6191 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ جِبْرَئِيلَ جَاءَ بِصُورَتِهَا فِي خِرْقَةِ حَرِيرٍ خَضْرَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:"هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام سبز ریشمی کپڑے میں میری تصویر لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ”یہ دنیا و آخرت میں آپ کی زوجہ محترمہ ہیں۔“ (اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی) [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6191]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (3880 وقال: حسن غريب)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (فَضِيلَةُ سَيِّدَةِ صَفِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت
حدیث نمبر: 6192
6192 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ: بِنْتُ يَهُودِيٍّ فَبَكَتْ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ:"مَا يُبْكِيكِ"؟ فَقَالَتْ: قَالَتْ لِي حَفْصَةُ: إِنِّي ابْنَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّكِ لَابْنَةُ نَبِيٍّ، وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ، وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ ؟". ثُمَّ قَالَ:"اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ!". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو پتا چلا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے (انہیں) کہا ہے: ”یہودی کی بیٹی“، تو وہ رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیوں رو رہی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے کہا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایک نبی کی بیٹی ہو، تمہارا چچا بھی نبی اور تم نبی کی اہلیہ بھی ہو، وہ کس بارے میں تم سے فخر کرتی ہیں؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”حفصہ! اللہ سے ڈرتی رہو۔“ [اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی والنسائی فی الکبریٰ] [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6192]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (3894 وقال: حسن صحيح غريب) و النسائي في الکبري (8919)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (سِرٌّ فِي أُذُنِ حَضْرَةِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے کان میں سرگوشی کرنا
حدیث نمبر: 6193
6193 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا ، فَبَكَتْ، ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا. قَالَتْ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، فَضَحِكْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فتحِ مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رو پڑیں، پھر ان سے کوئی بات کی تو وہ ہنس پڑیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو میں نے ان کے رونے اور ان کی ہنسی کے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا تھا کہ ”میں فوت ہو جاؤں گا“ تو میں رو پڑی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا کہ ”مریم بنت عمران کے علاوہ اہل جنت کی خواتین کی میں سردار ہوں“ اس پر میں ہنس دی۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6193]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3873)»
قال الشيخ الألباني: إِسْنَاده جيد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (فَضْلُ وَكَمَالُ حَضْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا العِلْمِيُّ)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا علمی فضل و کمال
حدیث نمبر: 6194
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 6194 - عَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: مَا أُشْكِلَ عَلَيْنَا أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدِيثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحَيِحٌ غَرِيبٌ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم پر یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ پر جب بھی کوئی حدیث مشتبہ ہو جاتی تو ہم عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے تو ہم اس کے متعلق ان کے ہاں علم پاتے تھے۔ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6194]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3883)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (ذِكْرُ فَصَاحَةِ وَبَلَاغَةِ حَضْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فصاحت اور بلاغت کا ذکر
حدیث نمبر: 6195
6195 - وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ. غَرِيبٌ.
موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے فصاحت و بلاغت میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا، اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اسے حسن صحیح غریب کہا ہے، اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6195]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3884)
٭ فيه عبد الملک بن عمير مدلس و عنعن و المفھوم صحيح .»
٭ فيه عبد الملک بن عمير مدلس و عنعن و المفھوم صحيح .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (فَضَائِلُ صَحَابَةٍ كِرَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ)
مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے فضائل
حدیث نمبر: 6196
[ 12 ] بَابُ جَامِعِ الْمَنَاقِبِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 6196 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي سَرَقَةً مِنْ حَرِيرٍ، لَا أَهْوِي بِهَا إِلَى مَكَانٍ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:"إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ - أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ -". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرے ہاتھ میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہے، میں جنت میں جس جگہ جانے کا قصد کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں لے جاتا ہے، میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھائی نیک آدمی ہے۔“ یا فرمایا: ”عبداللہ نیک آدمی ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6196]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7015) و مسلم (139/ 2478)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَنَاقِبُ حَضْرَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب
حدیث نمبر: 6197
6197 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: إِنَّ أَشْبَهَ النَّاسِ دَلًّا وَسَمْتًا وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ إِلَيْهِ، لَا نَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ إِذَا خَلَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: چال ڈھال اور سیرت و ہدایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) ہیں، اور ان کے گھر سے نکلنے سے لے کر واپس گھر جانے تک یہی صورت رہتی ہے، جب وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ خلوت میں ہوتے ہیں تو معلوم نہیں وہ کیا کرتے ہیں۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6197]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6097)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (ذِكْرُ عَلَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَضْرَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے تعلق کا ذکر
حدیث نمبر: 6198
6198 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ، فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نَرَى إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَا نُرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی یمن سے واپس آئے تو کچھ مدت تک ہم یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کے ایک فرد ہیں، وہ اس لیے کہ ان کا اور ان کی والدہ کا بکثرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنا جانا ہم دیکھا کرتے تھے۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6198]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3763) و مسلم (110/ 2460)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه