مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 709
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَسَعْدٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ سَعْدٌ: ابْنِ الْهَادِ، سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ:" ارْمِ يَا سَعْدُ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی کے لئے سوائے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا غزوہ احد کے دن آپ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کہ سعد تیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 709]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح. خ: 4059، م: 2411
حدیث نمبر: 710
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أَقُولُ: نَهَاكُمْ، عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ، وَكَسَانِي حُلَّةً مِنْ سِيَرَاءَ فَخَرَجْتُ فِيهَا، فَقَالَ:" يَا عَلِيُّ، إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا"، قَالَ: فَرَجَعْتُ بِهَا إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَعْطَيْتُهَا نَاحِيَتَهَا، فَأَخَذَتْ بِهَا لِتَطْوِيَهَا مَعِي، فَشَقَّقْتُهَا بِثِنْتَيْنِ، قَالَ: فَقَالَتْ: تَرِبَتْ يَدَاكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، مَاذَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِهَا، فَالْبَسِي وَاكْسِي نِسَاءَكِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ”میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں“ سونے کی انگوٹھی، ریشم یا عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے اور ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا:: میں اسے پہن کر نکلا تو فرمایا: علی! میں نے تمہیں یہ اس لئے نہیں دیا کہ تم خود اسے پہن لو، چنانچہ میں اسے لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آ گیا اور اس کا ایک کنارہ ان کے ہاتھ میں پکڑایا تاکہ وہ میرے ساتھ زور لگا کر اسے کھینچیں، چنانچہ میں نے اس کے دو ٹکڑے کر دئیے، یہ دیکھ کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ آپ کو کیا ہو گیا ہے، یہ آپ نے کیا کیا، میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ لباس پہننے سے منع فرمایا ہے اس لئے اب تم اپنے لئے اس کا لباس بنا لو اور گھر کی جو عورتیں ہیں انہیں بھی دے دو۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 710]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وانظر الشطر الأول فى م: 2078
حدیث نمبر: 711
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَّةِ: مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا، وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑی دی ہے اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہو گی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہو گا، ایک سو نوے درہم تک کچھ واجب نہ ہو گا، لیکن جب ان کی تعداد دو سو تک پہنچ جائے تو اس پر پانچ درہم واجب ہوں گے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 711]
الحكم على الحديث:
صحيح، أبو عوانة وإن روي عن أبى إسحاق بعد تغيره، لكن قد تابعه غير واحد
حدیث نمبر: 712
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ غُفِرَ لَكَ، مَعَ أَنَّهُ مَغْفُورٌ لَكَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ جب تم انہیں زبان سے ادا کر لو تو تمہارے گناہ معاف کر دئیے جائیں حالانکہ تمہارے گناہ معاف ہو چکے، یہ کلمات کہہ لیا کرو جن کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ حلیم و کریم ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ بزرگ و برتر ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، وہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 712]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، عبدالله بن سلمة قد توبع
حدیث نمبر: 713
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ ، عَنْ أَبِي تَحْيَى ، قَالَ: لَمَّا ضَرَبَ ابْنُ مُلْجِمٍ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الضَّرْبَةَ، قَالَ عَلِيٌّ : افْعَلُوا بِهِ كَمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَفْعَلَ بِرَجُلٍ أَرَادَ قَتْلَهُ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ، ثُمَّ حَرِّقُوهُ".
ابویحییٰ کہتے ہیں کہ جب ابن ملجم نامی ایک بدنصیب اور شقی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ وہی سلوک کرو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے ساتھ کیا تھا جس نے انہیں شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا، پھر فرمایا کہ اسے قتل کر کے اس کی لاش نذر آتش کر دو۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 713]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شريك، وهو ابن عبدالله النخعي- وعمران بن ظبيان
حدیث نمبر: 714
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ: لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ"، وَاللَّهِ إِنَّ رَخَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ مِائَةِ عَامٍ.
نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ ہی نے یہ بات فرمائی ہے کہ لوگوں پر سو سال نہیں گزریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ ایسی باقی نہ بچے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی سب لوگ مر جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گزرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ رہے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں، یعنی قیامت مراد نہیں ہے، بخدا! اس امت کو سو سال کے بعد تو سہولیات ملیں گی۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 714]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي، عبدالله بن سلمة قد توبع
حدیث نمبر: 715
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي خَمِيلٍ، وَقِرْبَةٍ، وَوِسَادَةِ أَدَمٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لِيفٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں روئیں دار کپڑے، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 715]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 716
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، وَالْمُجَالِدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ يُحَدِّثُ: أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ رَجَمَ الْمَرْأَةَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، ضَرَبَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَالَ:" أَجْلِدُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَرْجُمُهَا بِسُنَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی ایک عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی، جمعرات کے دن اسے کوڑے مارے اور جمعہ کے دن اسے سنگسار کر دیا اور فرمایا کہ میں نے کوڑے قرآن کریم کی وجہ سے مارے اور سنگسار سنت کی وجہ سے کیا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 716]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، رجاله ثقات من طريق سلمة ، وأما مجالد فضعيف، روي له مسلم مقرونة، وأصحاب السنن. وفي خ: 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد
حدیث نمبر: 717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ فُلَانِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ" كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ، وَكَبَّرَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کی تکبیر ہونے کے بعد اللہ اکبر کہتے، کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے، قرأت مکمل ہونے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے لگتے تب بھی اسی طرح کرتے، رکوع سے سر اٹھا کر بھی اسی طرح کرتے، بیٹھے ہونے کی صورت میں کسی رکن کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین نہ فرماتے تھے، البتہ جب دونوں سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو رفع یدین کر کے تکبیر کہتے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 717]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 718
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أخبرنا وَرْقَاءُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَنْتَ الْقَائِلُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ عَامٍ وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ عَامٍ وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ"، وَإِنَّ رَخَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ الْمِائَةِ.
نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ ہی نے یہ بات فرمائی ہے کہ لوگوں پر سو سال نہیں گزریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ ایسی باقی نہ بچے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی سب لوگ مر جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گزرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ رہے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی قیامت مراد نہیں ہے، بخدا! اس امت کو سو سال کے بعد تو سہولیات ملیں گی۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 718]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي