مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 719
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أخبرنا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ مَوْلَى امْرَأَتِهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، خَرَجَ الشَّيَاطِينُ يُرَبِّثُونَ النَّاسَ إِلَى أَسْوَاقِهِمْ، وَمَعَهُمْ الرَّايَاتُ، وَتَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ مَنَازِلِهِمْ: السَّابِقَ، وَالْمُصَلِّيَ، وَالَّذِي يَلِيهِ، حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ، فَأَنْصَتَ، واسْتَمَعَ، وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ نَأَى عَنْهُ، فَاسْتَمَعَ، وَأَنْصَتَ، وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ، فَلَغَا، وَلَمْ يُنْصِتْ، وَلَمْ يَسْتَمِعْ، كَانَ عَلَيْهِ كِفْلَانِ مِنَ الْوِزْرِ، وَمَنْ نَأَى عَنْهُ، فَلَغَا، وَلَمْ يُنْصِتْ، وَلَمْ يَسْتَمِعْ، كَانَ عَلَيْهِ كِفْلٌ مِنَ الْوِزْرِ، وَمَنْ قَالَ: صَهٍ، فَقَدْ تَكَلَّمَ، وَمَنْ تَكَلَّمَ، فَلَا جُمُعَةَ لَهُ"، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین اپنے اپنے ٹھکانوں سے نکل پڑتے ہیں اور لوگوں کو بازاروں میں روکنے کی کوششیں کرتے ہیں ان کے ساتھ کچھ جھنڈے بھی ہوتے ہیں دوسری طرف فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کے لئے ان کے مراتب کے مطابق ثواب لکھتے ہیں، پہلے کا، دوسرے کا، اس کے بعد آنے والے کا، یہاں تک کہ امام نکل آئے، سو جو شخص امام کے قریب ہو، خاموشی سے بیٹھ کر توجہ سے اس کی بات سنے، کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اس کے لی دہرا اجر ہے اور جو شخص امام سے دور ہو لیکن پھر بھی خاموش بیٹھ کر توجہ سے سننے میں مشغول رہے اور کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اس کے لئے اکہرا اجر ہے اور جو شخص امام کے قریب بیٹھ کر بیکار کاموں میں لگا رہے، خاموشی سے بیٹھے اور نہ ہی توجہ سے اس کی بات سنے تو اسے اکہرا گناہ ہو گا اور جو شخص کسی کو خاموش کرانے کے لئے ”سی“ کی آواز نکالے تو اس نے بھی بات کی اور جس شخص نے بات کی اسے جمعہ کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، پھر فرمایا کہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 719]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة مولي امرأة عطاء
حدیث نمبر: 720
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُلْتَمَسَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِي كَمَا تُلْتَمَسُ الضَّالَّةُ، فَلَا يُوجَدُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی (جب تک میرے صحابہ مکمل طور پر دنیا سے رخصت نہ ہو جائیں) یہاں تک کہ میرے کسی ایک صحابی کو اس طرح تلاش کیا جائے گا جیسے کسی گمشدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے لیکن کوئی ایک صحابی بھی نہ مل سکے گا۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 720]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 721
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَاحِبَ الرِّبَا، وَآكِلَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَالْمُحَلِّ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود خور، سود کھلانے والے، سودی معاملات لکھنے والے، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والے، حلالہ کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 721]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 722
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أخبرنا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ هُبَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَالْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 722]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 723
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُودَى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عبد مکاتب یعنی وہ غلام جس سے ایک مقررہ مقدار ادا کرنے پر آقا نے آزادی کا معاہدہ کر لیا ہو، اس نے جتنی مقدار ادا کر دی ہو، اتنی مقدار میں وہ دیت کا مستحق بھی ہو جائے گا۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 723]
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 724
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، فَأَوْقَدَ نَارًا، فَقَالَ: ادْخُلُوهَا، فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ آخَرُونَ: إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا:" لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، وَقَالَ لِلْآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا، وَقَالَ:" لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر کر دیا، اس نے آگ جلائی اور کہا کہ اس آگ میں داخل ہو جاؤ، لوگ ابھی اس میں چھلانگ لگانے کی سوچ ہی رہے تھے کہ ایک نوجوان کہنے لگا کہ آگ ہی سے تو بھاگ کر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوئے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کرنے والوں سے فرمایا کہ اگر تم اس میں ایک مرتبہ داخل ہو جاتے تو پھر کبھی اس میں سے نہ نکل نہ سکتے اور دوسروں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے، اطاعت کا تعلق تو صرف نیکی کے کاموں سے ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 724]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح. خ: 7257، م: 1840
حدیث نمبر: 725
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ: مَا تَرَوْنَ فِي فَضْلٍ فَضَلَ عِنْدَنَا مِنْ هَذَا الْمَالِ؟ فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ شَغَلْنَاكَ عَنْ أَهْلِكَ وَضَيْعَتِكَ وَتِجَارَتِكَ، فهو لك، فقال لِي: مَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: قَدْ أَشَارُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ: قُلْ، فَقُلْتُ: لِمَ تَجْعَلُ يَقِينَكَ ظَنًّا؟ فَقَالَ: لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ، فَقُلْتُ: أَجَلْ، وَاللَّهِ لَأَخْرُجَنَّ مِنْهُ، أَتَذْكُرُ حِينَ بَعَثَكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا، فَأَتَيْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَمَنَعَكَ صَدَقَتَهُ، فَكَانَ بَيْنَكُمَا شَيْءٌ، فَقُلْتَ لِي: انْطَلِقْ مَعِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْنَاهُ خَاثِرًا، فَرَجَعْنَا، ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَيْهِ فَوَجَدْنَاهُ طَيِّبَ النَّفْسِ، فَأَخْبَرْتَهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ لَكَ:" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ؟"، وَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي رَأَيْنَاهُ مِنْ خُثُورِهِ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ، وَالَّذِي رَأَيْنَاهُ مِنْ طِيبِ نَفْسِهِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي، فَقَالَ:" إِنَّكُمَا أَتَيْتُمَانِي فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ وَقَدْ بَقِيَ عِنْدِي مِنَ الصَّدَقَةِ دِينَارَانِ، فَكَانَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ خُثُورِي لَهُ، وَأَتَيْتُمَانِي الْيَوْمَ وَقَدْ وَجَّهْتُهُمَا، فَذَاكَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ طِيبِ نَفْسِي"؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَدَقْتَ، وَاللَّهِ لَأَشْكُرَنَّ لَكَ الْأُولَى وَالْآخِرَةَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا کہ ہمارے پاس یہ جو کچھ زائد مال بچ گیا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے؟ لوگوں نے کہا کہ امیر المؤمنین! آپ ہماری وجہ سے اپنے اہل خانہ، اپنے کاروبار اور تجارت سے رہ گئے ہیں، اس لئے یہ آپ رکھ رلیں، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ لوگوں نے آپ کو مشورہ دے تو دیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ آپ بھی تو کوئی رائے دیجئے، میں نے عرض کیا کہ آپ اپنے یقین کو گمان میں کیوں تبدیل کر رہے؟ فرمایا: آپ اپنی بات کی وضاحت خود ہی کر دیں۔ میں نے کہا: بہت بہتر، میں اس کی ضرور وضاحت کروں گا، آپ کو یاد ہو گا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو صدقات و زکوٰۃ کی وصولی کے لئے بھیجا تھا، آپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا، آپ دونوں کے درمیان کچھ اونچ نیچ ہو گئی۔ آپ نے مجھ سے کہا کہ میرے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو، ہم وہاں پہنچے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ نشاط نہ دیکھا جو ہوتا تھا، چنانچہ ہم واپس آ گئے، اگلے دن جب ہم دوبارہ حاضر ہوئے تو اس وقت ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہشاش بشاش پایا، پھر آپ نے انہیں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بتایا، انہوں نے آپ سے فرمایا کہ کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ انسان کا چچا اس کے باپ کے مرتبہ میں ہوتا ہے۔ پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دن کی کیفیت اور دوسرے دن کی کیفیت کے حوالے سے پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب آپ دونوں پہلے دن میرے پاس آئے تھے تو میرے پاس زکوٰۃ کے دو دینار بچ گئے تھے، یہی وجہ تھی کہ آپ نے مجھے بوجھل طبیعت میں دیکھا اور جب آج آپ دونوں میرے پاس آئے تو میں وہ کسی کو دے چکا تھا اسی وجہ سے آپ نے مجھے ہشاش بشاش پایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سن کر فرمایا: آپ نے صحیح فرمایا: بخدا! میں دنیا و آخرت میں آپ کا شکر گزار رہوں گا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 725]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو البختري- واسمه سعيد بن فيروز- لم يدرك علياً، و أن عم الرجل صنو أبيه له شاهد صحيح من حديث أبى هريرة فى صحيح مسلم وغيره
حدیث نمبر: 726
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَقَّنَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَأَمَرَنِي إِنْ نَزَلَ بِي كَرْبٌ أَوْ شِدَّةٌ أَنْ أَقُولَهُنَّ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْكَرِيمُ الْحَلِيمُ، سُبْحَانَهُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی تکلیف یا مصیبت آنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعا سکھائی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ بڑا بردبار اور مہربان ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے، وہ عرش عظیم کا رب ہے اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 726]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 727
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا مَاءٌ، فَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ"، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعْرِي.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہوئے ایک بال کے برابر بھی جگہ خالی چھوڑ دے جہاں پانی نہ پہنچا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم میں ایسا ایسا معاملہ کریں گے، بس اسی وقت سے میں نے اپنے بالوں کے ساتھ دشمنی پال لی۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 727]
الحكم على الحديث:
إسناده مرفوعاً ضعيف، عطاء بن السائب اختلط بأخرة، وعامة من رفع عنه هذا الحديث، فإنما رواه عنه بعد اختلاطه
حدیث نمبر: 728
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبْعَةِ أَثْوَابٍ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات کپڑوں میں دفنایا گیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 728]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لتفرد عبدالله بن محمد بن عقيل به، ولمخالفة الحديث الصحيح الذى رواه البخاري: 1264، ومسلم: 941 من حديث عائشة إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كفن فى ثلاثة أثواب