🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2072]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 157.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا سَجَدَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2073]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شعبة مولى ابن عباس سيء الحفظ.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2074
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ , عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسِمَةٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ عمامہ - جو تیل سے چکنا ہوگیا تھا - باندھ رکھا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2074]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 927.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَصَفْوَانُ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُدِيمُوا إِلَى الْمَجْذُومِينَ النَّظَرَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں کو مستقل نہ دیکھا کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2075]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لمحمد بن عبدالله بن عمرو الديباج وفي هذا الحديث اضطراب.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2076
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ فِي الْوَصِيَّةِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کاش! لوگ وصیت کرنے میں تہائی سے کمی کر کے چوتھائی کو اختیار کر لیں، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کو بھی زیادہ قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2076]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2743، م: 1629.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ وَأَنَّهَا سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقَ قَوْمِي وَكَذَبُوا،" قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، وَلَكِنَّهُ قَدِمَ وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى جَبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَتَحَدَّثُوا أَنَّ بِهِ وَبِأَصْحَابِهِ هَزْلًا وَجَهْدًا وَشِدَّةً، فَأَمَرَ بِهِمْ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ لِيُرِيَهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُصِبْهُمْ جَهْدٌ".
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے، فرمایا: اس میں آدھا سچ ہے اور آدھا جھوٹ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل تو فرمایا ہے لیکن یہ سنت نہیں ہے اور رمل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف لائے تو مشرکین جبل قعیقعان نامی پہاڑ پر سے انہیں دیکھ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ یہ لوگ آپس میں مسلمانوں کے کمزور ہونے کی باتیں کر رہے ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ مشرکین کو دکھا سکیں کہ انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2077]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2078
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ذَرٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام" أَلَا تَزُورُنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا، فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا سورة مريم آية 64 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (فترت وحی کا زمانہ گزرنے کے بعد) حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ ”آپ ہمارے پاس ملاقات کے لئے اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے جتنا اب آتے ہیں؟“ اس پر آیت نازل ہوئی: « ﴿وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ . . . ﴾ [مريم: 64] » ”ہم تو اسی وقت زمین پر اترتے ہیں جب آپ کے رب کا حکم ہوتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2078]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3218.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2079
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهْدَى فِي بُدْنِهِ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ بُرَتُهُ فِضَّةٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی دی، جن میں ابوجہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2079]

الحكم على الحديث:
حسن، أبن أبى ليلي سيء الحفظ ولكنه توبع.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2080
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِجُبْنَةٍ، قَالَ فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَضْرِبُونَهَا بِالْعِصِيِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ضَعُوا السِّكِّينَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے پنیر آیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے لاٹھی سے ہلانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھریاں رکھ دو اور بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2080]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر ، وقد توبع.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2081
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ وَعَطَاءٍ ، قَالَا: الْأُضْحِيَّةُ سُنَّةٌ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ بَالْضُحَى وَالْوَتْرِ وَلَمْ تُكْتَبْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے چاشت کی دو رکعتوں اور وتر کا حکم دیا گیا ہے لیکن انہیں امت پر فرض نہیں کیا گیا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2081]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف جابر الجعفي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں