مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ، فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطا کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2301]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد ولين يوسف بن مهران
حدیث نمبر: 2302
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" أُتِيتُ، وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ، فَقِيلَ لِي: إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ، قَالَ: فَقُمْتُ وَأَنَا نَاعِسٌ، فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي، قال: فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ، فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں سو رہا تھا، خواب میں کسی نے مجھ سے کہا کہ آج کی رات شب قدر ہے، میں اٹھ بیٹھا، اس وقت مجھ پر اونگ کا غلبہ تھا، میں اسے دور کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کی ایک چوب سے لٹک گیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے جب غور کیا تو وہ تئیسویں (23) رات تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2302]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَبِيتُ اللَّيَالِي الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا، وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً" , قَالَ: وَكَانَ عَامَّةُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی راتیں مسلسل اس طرح خالی پیٹ گزار دیتے تھے کہ اہل خانہ کو رات کا کھانا نہیں ملتا تھا، اور اکثر انہیں کھانے کے لئے جو روٹی ملتی تھی وہ جو کی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2303]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خطبنا يعني رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ" , قَالَ: فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، فَقَالَ: أفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا، أَوْ لَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا الحج مرة، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ”لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے“، یہ سن کر اقرع بن حابس کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا، لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہو گا وہ نفلی حج ہو گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2304]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، سليمان بن كثير فى روايته عن الزهري متكلم فيه، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَعْيًا، وَإِنَّمَا سَعَى أَحَبَّ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر لگائے، اور سعی کے دوران بھی سات چکر لگائے، سعی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں (اس لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑ لگائی)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2305]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1949، م: 1266
حدیث نمبر: 2306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ الظُّهْرَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آٹھ ذی الحجہ کو نماز ظہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منی کے میدان میں ادا فرمائی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2306]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِرْفَقَهُ أَنْ يَضَعَهُ عَلَى جِدَارِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اپنی دیوار پر لکڑی رکھنے سے منع نہ کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2307]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ مَيْمُونٍ الْمَكِّيِّ :" أَنَّهُ رَأَى ابْنَ الزُّبَيْرِ عَبْدَ اللَّهِ، وَصَلَّى بِهِمْ، يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ، وَحِينَ يَرْكَعُ، وَحِينَ يَسْجُدُ، وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ، فَيَقُومُ فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى صَلَاةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا، فَوَصَفَ لَهُ هَذِهِ الْإِشَارَةَ، فَقَال:" إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْتَدِ بِصَلَاةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ".
میمون مکی کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، وہ کھڑے ہوتے وقت اور رکوع و سجود کرتے وقت اپنی ہتھیلیوں سے اشارہ کرتے تھے اور سجدہ سے قیام کے لئے اٹھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتے تھے، میں یہ دیکھ کر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ اس سے پہلے کسی کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، میں نے ان کے سامنے اس اشارہ کا تذکرہ بھی کیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز دیکھنا چاہتے ہو تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی نماز کی اقتدا کرو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2308]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ميمون المكي، مجهول
حدیث نمبر: 2309
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلْيَهُودِ:" أَعْطُونَا شَيْئًا نَسْأَلُ عَنْهُ هَذَا الرَّجُلَ، فَقَالُوا: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، فَسَأَلُوهُ، فَنَزَلَتْ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 , قَالُوا: أُوتِينَا عِلْمًا كَثِيرًا، أُوتِينَا التَّوْرَاةَ، وَمَنْ أُوتِيَ التَّوْرَاةَ، فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ سورة الكهف آية 109".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی چیز بتاؤ جو ہم اس شخص سے پوچھیں، انہوں نے کہا کہ ان سے روح کے متعلق سوال کرو، چنانچہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق سوال کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [الإسراء: 85] » ”یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ روح میرے رب کا حکم ہے، اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔“ وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمیں تو بہت علم دیا گیا ہے، کیونکہ ہمیں تورات دی گئی ہے، اور جسے تورات دی گئی اسے بڑی خیر نصیب ہوگئی، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ . . . . .﴾ [الكهف: 109] » ”اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ فرما دیجئے کہ اگر میرے رب کی صفات بیان کرنے کے لئے سمندر روشنائی بن جائے تو سمندر ختم ہوجائے . . . . .۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2309]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قال عبد الله بن أحمد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَسْلَمِيِّ:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ لَمَسْتَ، أَوْ نَظَرْتَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہو گا، یا ہاتھ لگایا ہو گاو یا صرف دیکھا ہوگا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2310]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6824