🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ دَاوُدَ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ: أَلَمْ أَنْهَكَ , فَانْتَهَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ: لِمَ تَنْتَهِرُنِي يَا مُحَمَّدُ؟ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِهَا رَجُلٌ أَكْثَرُ نَادِيًا مِنِّي , قَالَ: فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سورة العلق آية 17 , قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ , لَأَخَذَتْهُ زَبَانِيَةُ الْعَذَابِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور کہنے لگا: کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑک دیا، وہ کہنے لگا: محمد! تم مجھے جھڑک رہے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ اس پورے شہر میں مجھ سے بڑی مجلس کسی کی نہیں ہوتی؟ اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ آیت لے کر اترے: « ﴿فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ﴾ [العلق: 17] » ”اسے چاہئے وہ اپنی مجلس والوں کو بلا لے“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو اسے عذاب کے فرشتے ”زبانیہ“ پکڑ لیتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2321]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ" يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، پھر تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ جاتے اور دوبارہ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2322]

الحكم على الحديث:
حسن، عبدالرحمن المحاربي والحجاج مدلسان وقد عنعنا، إلا أنهما قد توبعا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الشَّيَاطِينِ" , قَالُوا: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک ہم نشین شیاطین میں سے بھی لگایا گیا ہے“، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے ساتھ بھی یہ معاملہ ہے؟ فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ نے میری مدد کی ہے اور میرا شیطان میرے تابع ہوگیا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2323]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، قابوس بن أبى ظبيان ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ الْجَنَّةَ، فَسَمِعَ مِنْ جَانِب?هَا وَجْسًا، قَالَ:" يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا؟" , قَالَ هَذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ , فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ إِلَى النَّاسِ:" قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ، رَأَيْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا" , قَالَ: فَلَقِيَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَلاَمَ، فَرَحَّبَ بِهِ، وَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الْأُمِّيِّ , قَالَ: فَقَالَ:" وَهُوَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِيلٌ، سَبْطٌ شَعَرُهُ مَعَ أُذُنَيْهِ، أَوْ فَوْقَهُمَا" , فَقَالَ:" مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟" , قَالَ هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام , قَالَ: فَمَضَى فَلَقِيَهُ عِيسَى، فَرَحَّبَ بِهِ، وَقَالَ:" مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟" , قَالَ: هَذَا عِيسَى , قَالَ: فَمَضَى، فَلَقِيَهُ شَيْخٌ جَلِيلٌ مَهِيبٌ، فَرَحَّبَ بِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، وَكُلُّهُمْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ، قَالَ:" مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟" , قَالَ: هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ , قَالَ: فَنَظَرَ فِي النَّارِ، فَإِذَا قَوْمٌ يَأْكُلُونَ الْجِيَفَ، َقَالَ:" مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟" , قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ , وَرَأَى رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ جَعْدًا شَعِثًا إِذَا رَأَيْتَهُ، قَالَ:" مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟" , قَالَ: هَذَا عَاقِرُ النَّاقَةِ , قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى قَامَ يُصَلِّي، ثُمَّ الْتَفَتَ , فَإِذَا النَّبِيُّونَ أَجْمَعُونَ يُصَلُّونَ مَعَهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ جِيءَ بِقَدَحَيْنِ، أَحَدُهُمَا عَنِ الْيَمِينِ، وَالْآخَرُ عَنِ الشِّمَالِ، فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ، وَفِي الْآخَرِ عَسَلٌ، فَأَخَذَ اللَّبَنَ فَشَرِبَ مِنْهُ، فَقَالَ الَّذِي كَانَ مَعَهُ الْقَدَحُ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی عظیم سعادت عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں داخل ہوئے اور اس کی ایک جانب ہلکی سی آہٹ سنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کیا ہے؟“ عرض کیا: یہ آپ کا مؤذن بلال ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کے بعد لوگوں سے فرمایا تھا کہ ”بلال کامیاب ہو گئے، میں نے ان کے لئے فلاں فلاں چیز دیکھی ہے۔“ بہرحال! شب معراج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا: «مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الْاُمِّيِّ»، وہ گندمی رنگ کے طویل القامت آدمی تھے جن کے بال سیدھے تھے اور کانوں تک یا اس سے اوپر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کون ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں، کچھ اور آگے چلے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کون ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کچھ اور آگے چلے تو ایک بارعب اور جلیل القدر بزرگ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا اور سلام کیا جیسا کہ سب ہی نے سلام کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کون ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کے والد (جد امجد) حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اسی سفر معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کو بھی دیکھا، وہاں ایک گروہ نظر آیا جو مردار لاشیں کھا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) ہیں، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سرخ رنگت کا آدمی بھی دیکھا جس کے گھنگھریالے بال تھے، اور اگر تم اسے دیکھو تو وہ پراگندہ معلوم ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل یہ کون ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت صالح کی اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا بدنصیب ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصی میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے تو وہاں سارے نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے، ایک دائیں طرف سے اور ایک بائیں طرف سے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ والا برتن لے کر دودھ پی لیا، وہ پیالہ لانے والا فرشتہ کہنے لگا کہ آپ نے فطرت سلیمہ کو اختیار کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2324]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، قابوس ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ أنا مِنْهُ، قَالَ: ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَنْ شِمَالِهِ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2325]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2326
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَ ذَلِكَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2326]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا جَرِير ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَمَنْ وَرَدَ أَفْلَحَ، وَيُؤْتَى بِأَقْوَامٍ، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، فَيُقَالُ: مَا زَالُوا بَعْدَكَ يَرْتَدُّونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر اور تم سے پہلے موجود ہوں گا، جو شخص حوض کوثر پر پہنچ جائے گا وہ کامیاب ہو جائے گا، البتہ وہاں بھی کچھ لوگ لائے جائیں گے لیکن انہیں بائیں طرف سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا: پروردگار! (یہ تو میرے امتی ہیں)، ارشاد ہوگا کہ یہ لوگ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ کر مرتد ہوگئے تھے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2327]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3349، م: 2860 ، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ، وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا نام پسند آتا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2328]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف ليث بن أبى سليم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْ الْكَبِيرَ، وَيَرْحَمْ الصَّغِيرَ، وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2329]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2330
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَمْسٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ، وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْحَيَّةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانچ چیزیں ایسی ہیں جن میں سے ہر ایک فاسق ہے اور محرم بھی انہیں قتل کر سکتا ہے، اور حرم میں بھی انہیں قتل کیا جا سکتا ہے، چوہا، بچھو، سانپ، باؤلا کتا اور کوا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2330]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں