مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2341
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ مِنْ كَتِفٍ أَوْ ذِرَاعٍ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف گوشت یا ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2341]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 354 .359
حدیث نمبر: 2342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: ثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ، كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے، اور فرماتے تھے کہ ”یوں کہا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ”اے اللہ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2342]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 588، هذا الحديث من مسند أبى هريرة
حدیث نمبر: 2343
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2343]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 590
حدیث نمبر: 2344
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ أَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2344]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730
حدیث نمبر: 2345
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبِّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ , يَعْنِي: مِثْلَ دُعَاءِ الْكَرْبِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2345]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7426، م: 2730
حدیث نمبر: 2346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ أَبِي الرُّقَادِ ، عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ، قَالَ" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي رَمَضَانَ" , وَكَانَ يَقُولُ:" لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ غَرَّاءُ، وَيَوْمُهَا أَزْهَرُ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَارِكْ لَنَا فِي رَمَضَانَ» ”اے اللہ! ماہ رجب اور شعبان کو ہمارے لئے مبارک فرما اور ماہ رمضان کی برکتیں ہمیں عطا فرما“، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے کہ ”جمعہ کی رات روشن اور اس کا دن چمکتا ہوا ہوتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2346]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، زائدة ابن أبى الرقاد ضعيف، وهذا الحديث من مسند أنس
حدیث نمبر: 2347
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَام، رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا، جَعْدَ الرَّأْسِ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام، مَرْبُوعَ الْخَلْقِ، فِي الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، سَبْطًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے شب معراج حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندم گوں، لمبےقد اور گھنگھریالے بالوں والے آدمی تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہوں، نیز میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، وہ درمیانے قد کے، سرخ و سفید رنگت اور سیدھے بالوں والے تھے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2347]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3239، م: 165
حدیث نمبر: 2348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" اجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَإِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَأَمَرْتُكُمْ بِهَا، ولَيَحِلُّ مَنْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ" , وَكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ. قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" , وَخَلَّلَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ ”اس احرام کو عمرے کا احرام بنا لو، کیونکہ بعد میں جو بات میرے سامنے آئی ہے، اگر پہلے آ جاتی تو میں تمہیں پہلے ہی اس کا حکم دے دیتا، اس لئے اب جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو اسے حلال ہو جانا چاہئے“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کے جانور تھے۔ نیز فرمایا: ”قیامت تک کے لئے عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے“، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھایا۔ نیز فرمایا: قیامت تک کے لئے عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2348]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يزيد ابن أبى زياد حسن الحديث فى الشواهد والمتابعات
حدیث نمبر: 2349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَعَرَّسَ مِنَ اللَّيْلِ فَرَقَدَ، وَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ" , قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا تَسُرُّنِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَا , يَعْنِي: الرُّخْصَةَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، رات کے آخری حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور سو گئے اور آنکھ اس وقت تک نہیں کھلی جب تک سورج نہ نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ رخصت کی جو سہولت ہمیں دی گئی ہے، مجھے اس کے بدلے میں اگر دنیا و مافیہا بھی دے دی جائے تو میں خوش نہ ہوں گا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2349]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف يزيد وجهالة شيخه فيه
حدیث نمبر: 2350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ يُرِيدُ مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى أَتَى عُسْفَانَ، قَالَ: فَدَعَا بِإِنَاءٍ، فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ، حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ثُمَّ أَفْطَرَ" , قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: مَنْ شَاءَ صَامَ , وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا، اس لئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے (بعد میں قضا کر لے)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2350]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4279، م: 1113