🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5245
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا، فَوَافَقَ يَوْمَئِذٍ عِيدَ أَضْحَى أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ :" أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ".
زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال پوچھتے ہوئے دیکھا کہ میں نے یہ منت مان رکھی ہے کہ میں فلاں دن روزہ رکھا کروں گا، اب اگر فلاں دن عیدالاضحیٰ یا عیدالفطر آ جائے تو کیا کروں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ نے منت پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم النحر (دس ذی الحجہ) کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5245]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 1994 ، م : 1139 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5246
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرُنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ایک ساتھ دو کھجوریں کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5246]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 2489 ، م : 2045 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا بِالنَّبْلِ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَثَّلَ بِالْبَهِيمَةِ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، دیکھا کہ انہوں نے ایک مرغی کو باندھ رکھا ہے اور اس پر اپنا نشانہ درست کر رہے ہیں، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5247]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5248
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5248]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 2085 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَمَى بِهِ، وَقَالَ:" لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا"، قَالَ يَزِيدُ: فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ آئندہ میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5249]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 5867 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5250
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَجْعَلُ فَصَّ خَاتَمِهِ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5250]

الحكم على الحديث:
إسناداه صحيحان .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5251
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، وَنَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ" يَلْبَسُ السِّبْتِيَّةَ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، وَذَكَرَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رنگی ہوئی کھال کی جوتیاں پہن لیتے اور ان میں وضو کر لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5251]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ، مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ أَبَدًا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان معلوم ہو جائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہا سفر نہ کرے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5252]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 2998 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ ضَارٍ، أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایسا کتا رکھے جو حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5253]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 1574 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وعبدُ الرحمن ، عن سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ"، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: نُقِصَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایسا کتا رکھے جو حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5254]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 5480 ، م : 1574 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں