مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 5711
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِنْ أَفْرَى الْفِرَى أَنْ يُرِيَ عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ تَرَيَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے بڑاجھوٹ یہ ہے کہ آدمی وہ خواب بیان کرے جو اس نے دیکھا ہی نہ ہو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5711]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7043.
حدیث نمبر: 5712
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شریف ابن شریف ابن شریف ابن شریف سیدنا یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام تھے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5712]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3390.
حدیث نمبر: 5713
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حُلَلِ السِّيَرَاءِ، أَهْدَاهَا لَهُ فَيْرُوزُ، فَلَبِسْتُ الْإِزَارَ، فَأَغْرَقَنِي طُولًا وَعَرْضًا، فَسَحَبْتُهُ، وَلَبِسْتُ الرِّدَاءَ، فَتَقَنَّعْتُ بِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَاتِقِي، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بن عمر،" ارْفَعْ الْإِزَارَ، فَإِنَّ مَا مَسَّتْ الْأَرْضُ مِنَ الْإِزَارِ إِلَى مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ: فَلَمْ أَرَ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ تَشْمِيرًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان ریشمی جوڑوں میں سے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا جو فیروز نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے تھے، میں نے تہبند باندھا تو صرف اسی نے طول و عرض میں مجھے ڈھانپ لیا، میں نے اسے لپیٹا اور اوپر سے چادر اوڑھ لی اور اسے پہن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پکڑ کر فرمایا: ”اے عبداللہ! تہبند اوپر کرو، ٹخنوں سے نیچے شلوار کا جو حصہ زمین پر لگے گا وہ جہنم میں ہو گا“، عبداللہ بن محمد راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی انسان کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اہتمام کے ساتھ اپنے ٹخنے ننگے رکھنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5713]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل.
حدیث نمبر: 5714
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُهَنَّى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبُو شِبْلٍ , عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَسَاهُ حُلَّةً فَأَسْبَلَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا، وَذَكَرَ النَّارَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک ریشمی جوڑا دیا، وہ ان کے ٹخنوں سے نیچے لٹکنے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت بات کہی اور جہنم کا ذکر کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5714]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن كسابقه.
حدیث نمبر: 5715
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَذْهَبًا مُوَاجِهَ الْقِبْلَةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کے رخ چلتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5715]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف.
حدیث نمبر: 5716
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَائِلٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ، وَلَعَنَ شَارِبَهَا، وَسَاقِيَهَا، وَعَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَبَائِعَهَا، وَمُبْتَاعَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نفس شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، فروخت کرنے والے پر، خریدار پر، نچوڑنے والے پر اور جس کے لئے نچوڑی گئی، اٹھانے والے پر اور جس کے لئے اٹھائی گئی اور اس کی قیمت کھانے والے پر اللہ کی لعنت ہو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5716]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، بطرقه و شواهده.
حدیث نمبر: 5717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ، وَيَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ , فَقِيلَ لَهُ: لِمَ تَصْبُغُ ثِيَابَكَ وَتَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ؟ قَالَ: لِأَنِّي رَأَيْتُهُ" أَحَبَّ الْأَصْبَاغِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَّهِنُ بِهِ، وَيَصْبُغُ بِهِ ثِيَابَهُ".
اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کپڑوں کو رنگتے تھے اور زعفران کا تیل لگاتے تھے، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے کپڑوں کو کیوں رنگتے ہیں اور زعفران کا تیل کیوں لگاتے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ زعفران کا تیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رنگے جانے کی چیزوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ تھا، اسی کا تیل لگاتے تھے اور اسی سے کپڑوں کو رنگتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5717]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 5718
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ لَيَالِي الْحَرَّةِ، فَقَالَ: ضَعُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِ لِأَجْلِسَ، إِنَّمَا جِئْتُ لِأُخْبِرَكَ كَلِمَتَيْنِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَمْ تَكُنْ لَهُ حُجَّةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقًا لِلْجَمَاعَةِ، فَإِنَّهُ يَمُوتُ مَوْتَ الْجَاهِلِيَّةِ".
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے یہاں گیا، اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو خوش آمدید کہا اور لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں تکیہ پیش کرو، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں بیٹھنے کے لئے نہیں آیا بلکہ آپ کو ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتا ہے، قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص جماعت کو چھوڑ کر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5718]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح.
حدیث نمبر: 5719
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے ابتداءً صرف حج کا احرام باندھا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5719]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1231.
حدیث نمبر: 5720
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ ، وَاسْمُهُ الَّذِي يعرف به نعيم بن النحام، وكان رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ صَالِحًا، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: اخْطُبْ عَلَيَّ ابْنَةَ صَالِحٍ , فَقَالَ: إِنَّ لَهُ يَتَامَى، وَلَمْ يَكُنْ لِيُؤْثِرَنَا عَلَيْهِمْ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى عَمِّهِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ لِيَخْطُبَ، فَانْطَلَقَ زَيْدٌ إِلَى صَالِحٍ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ يَخْطُبُ ابْنَتَكَ، فَقَالَ: لِي يَتَامَى، وَلَمْ أَكُنْ لِأُتْرِبَ لَحْمِي , وَأَرْفَعَ لَحْمَكُمْ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَنْكَحْتُهَا فُلَانًا , وَكَانَ هَوَى أُمِّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، خَطَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ابْنَتِي، فَأَنْكَحَهَا أَبُوهَا يَتِيمًا فِي حَجْرِهِ، وَلَمْ يُؤَامِرْهَا، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَالِحٍ، فَقَالَ:" أَنْكَحْتَ ابْنَتَكَ وَلَمْ تُؤَامِرْهَا؟" , فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ:" أَشِيرُوا عَلَى النِّسَاءِ فِي أَنْفُسِهِنَّ"، وَهِيَ بِكْرٌ، فَقَالَ صَالِحٌ: فَإِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِمَا يُصْدِقُهَا ابْنُ عُمَرَ، فَإِنَّ لَهُ فِي مَالِي مِثْلَ مَا أَعْطَاهَا.
نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ ”جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صالح کا خطاب دیا تھا“ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے درخواست کی کہ صالح کی بیٹی سے میرے لئے پیغام نکاح بھیجیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اس کے یتیم بھتیجے ہیں، وہ ہمیں ان پر ترجیح نہیں دیں گے، ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے چچا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور ان سے بھی پیغام نکاح بھیجنے کے لئے کہا، چنانچہ زید رضی اللہ عنہ خود ہی صالح رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور فرمایا کہ مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیٹی کے لئے اپنی طرف سے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے، صالح رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے یتیم بھتیجے موجود ہیں، میں اپنے گوشت کو نیچا کر کے آپ کے گوشت کو اونچا نہیں کر سکتا، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اس لڑکی کا نکاح میں نے فلاں شخص سے کر دیا۔ لڑکی کی ماں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کی شادی کرنا چاہتی تھی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی، اے اللہ کے نبی! ابن عمر رضی اللہ عنہما نے میری بیٹی کا اپنے لئے رشتہ مانگا تھا لیکن اس کے باپ نے اپنی پرورش میں موجود یتیم بھتیجے سے اس کا نکاح کر دیا اور مجھ سے مشورہ تک نہیں کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صالح کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ کیا تم نے اپنی بیٹی کا رشتہ اپنی بیوی کے مشورے کے بغیر ہی طے کر دیا؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ایسا ہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے ان کے متعلق مشورہ کر لیا کرو جب کہ وہ کنواری بھی ہوں۔“ صالح رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں نے یہ کام صرف اس وجہ سے کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جو مہر اسے دیں گے، میرے پاس ان کا اتنا ہی مال پہلے سے موجود ہے (میں ان کا مقروض ہوں، اس لئے مجھے اس حال میں اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دینا گوارا نہ ہوا)۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5720]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد فيه نظر.