مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 5731
قَالَ عَبْد الله بْنِ أَحْمَّد: قَالَ أَبِي: وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5731]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح كسابقه.
حدیث نمبر: 5732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ هَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" مَنْ اشْتَرَى ثَوْبًا بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ وَفِيهِ دِرْهَمٌ حَرَامٌ، لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً مَا دَامَ عَلَيْهِ"، قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: صُمَّتَا إِنْ لَمْ يَكُنْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جو شخص دس دراہم کا ایک کپڑا خریدے اور اس میں ایک درہم حرام کا ہو تو جب تک وہ کپڑا اس کے جسم پر رہے گا اس کی کوئی نماز قبول نہ ہو گی، اس کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کر کے فرمایا کہ یہ کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5732]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا، بقية بن الوليد الحمصي يدلس تدليس التسوية، وهو شر أنواعه، وعثمان بن زفر الجهني، مجهول الحال.
حدیث نمبر: 5733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، قَالَ شَرِيكٌ: أُرَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5733]
الحكم على الحديث:
حديث صيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك النخعي، سيئ الحفظ.
حدیث نمبر: 5734
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا هُرَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ تُحْمَلُ مَعَهُ الْعَنَزَةُ فِي الْعِيدَيْنِ فِي أَسْفَارِهِ، فَتُرْكَزُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عیدین کے موقع پر دوران سفر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک نیزہ بھی لے جایا جاتا تھا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گاڑا جاتا تھا اور اسے سترہ بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5734]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وقد سلف مختصرا برقم: 4614.
حدیث نمبر: 5735
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلُ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ وَاحِدَةً، فَتِلْكَ وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ الَّتِي لَا بُدَّ مِنْهَا، وَمَنْ تَوَضَّأَ اثْنَتَيْنِ، فَلَهُ كِفْلَانِ، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا، فَذَلِكَ وُضُوئِي، وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایک مرتبہ اعضاء وضو کو دھوتا ہے تو یہ وضو کا وہ وظیفہ ہے جس کا ہونا ضروری (اور فرض) ہے، جو دو مرتبہ دھوتا ہے اسے دہرا اجر ملتا ہے اور جو تین مرتبہ دھوتا ہے تو یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام (علیہم السلام) کا بھی یہی وضو ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5735]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف أبي إسرائيل.
حدیث نمبر: 5736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ حَالِفًا، فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ"، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا، قَالَ:" فَلَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قسم کھانا چاہتا ہے وہ اللہ کے نام کی قسم کھائے“، قریش کے لوگ اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھایا کرتے تھے اس لئے فرمایا: ”اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں مت کھاؤ۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5736]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي.
حدیث نمبر: 5737
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَافَ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ، خَبَّ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی چار چکروں میں عام رفتار رکھتے تھے اور صفاء مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے ”بطن مسیل“ میں دوڑتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5737]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1644، م: 1261.
حدیث نمبر: 5738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ قِبَلِ حَضْرَمَوْتَ تَحْشُرُ النَّاسَ"، قَالَ: قُلْنَا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرموت (جو کہ شام کا ایک علاقہ ہے) سے ایک آگ نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی“، ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! پھر آپ اس وقت کے لئے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: ”ملک شام کو اپنے اوپر لازم کر لینا (وہاں چلے جانا)۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5738]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ : حَفِظْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ صَلَوَاتٍ:" رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں، ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں اور دو رکعتیں نماز فجر سے سے پہلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5739]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 5740
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا، خُسِفَ بِهِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص زمین کا کوئی ٹکڑا ظلماً لے لیتا ہے وہ اس ٹکڑے کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسایا جاتا رہے گا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5740]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ: 2454.