مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7276
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَاللَّهِ لَوْلَا آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا حَدَّثْتُ حَدِيثًا، ثُمَّ يَتْلُو هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى سورة البقرة آية 159، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
اعرج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بڑی کثرت سے حدیثیں بیان کرتے ہیں اگر کتاب اللہ میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں کبھی ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا۔ پھر وہ ان دو آیتوں کی تلاوت فرماتے جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح دلیلوں اور ہدایت کی باتوں کو چھپاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7276]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 118، م: 2492.
حدیث نمبر: 7277
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ... فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7277]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2047، م: 2492.
حدیث نمبر: 7278
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقُرِئَ عَلَيْهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ، فَلَا يَمْنَعْهُ". فَلَمَّا حَدَّثَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ طَأْطَئُوا رُؤُوسَهُمْ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ مُعْرِضِينَ؟! وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں اپنا شہتیر گاڑنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث لوگوں کے سامنے بیان کی تو لوگ سر اٹھا اٹھا کر انہیں دیکھنے لگے (جیسے انہیں اس پر تعجب ہوا ہو) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر فرمانے لگے کیا بات ہے کہ میں تمہیں اعراض کرتا ہوا دیکھ رہاہوں واللہ میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان مار کر (نافذ کر کے) رہوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7278]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2463، 1609.
حدیث نمبر: 7279
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُفْيَانُ : سَأَلْتُهُ أنا عَنْهُ: كَيْفَ الطَّعَامُ، أَيْ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي الْأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " شَرُّ الطَّعَامِ، طعامُ الْوَلِيمَةُ، يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ، وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7279]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5177، م: 1432، قال الحافظ في الفتح: أول هذا الحديث موقوف ولكن آخره يقتضي رفعه.
حدیث نمبر: 7280
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"، قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: سَمِعْتُهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ مِنْ سُفْيَانَ، وَقَالَ مَرَّةً:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ"، وَقَالَ مَرَّةً:" مَنْ قَامَ"، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے۔ اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے میرے والد فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان سے یہ حدیث چار مرتبہ سنی ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرلے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7280]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2014، م: 760.
حدیث نمبر: 7281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ يَعْنِي رَمَضَانَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام رمضان کی ترغیب دیتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7281]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 37، م: 759.
حدیث نمبر: 7282
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ، حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایتہ مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھونہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7282]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 162، م: 278.
حدیث نمبر: 7283
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَاسْتَغْفَرُوا لَهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب شاہ حبشہ نجاشی کا انتقال ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو ان کے انتقال کی اطلاع دی چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ عنم نے ان کے لئے استغفار کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7283]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951.
حدیث نمبر: 7284
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةٍ رَكْعَةً، فَقَدْ أَدْرَكَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص کسی بھی نماز کی ایک رکعت پالے گویا اس نے پوری نماز پالی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7284]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 580، م: 607.
حدیث نمبر: 7285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام کے بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7285]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422.