مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ، فَيَلْبِسُ عَلَيْهِ، حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، وَهُوَ جَالِسٌ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آ کر اسے اشتباہ میں ڈال دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ جس شخص کے ساتھ ایسا معاملہ ہو تو اسے چاہیے کہ جب وہ قعدہ اخیرہ میں بیٹھے تو سہو کے دو سجدے کرلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7286]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1232، م: 389.
حدیث نمبر: 7287
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا السَّامَ". قَالَ سُفْيَانُ السَّامُ: الْمَوْتُ، وَهِيَ الشُّونِيزُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7287]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5688، م: 2215.
حدیث نمبر: 7288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَوْ سَعِيدٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ". وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ :" وَاجْتَنِبُوا الْحَنَاتِمَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت نامی برتنوں میں نبیذ بنانے اور پینے سے منع فرمایا ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ حنتم نامی برتن استعمال کرنے سے بھی اجتناب کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7288]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1993.
حدیث نمبر: 7289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَقْرَعُ يُقَبِّلُ حَسَنًا، فَقَالَ: لِي عَشَرَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ قَطُّ! قَالَ:" إِنَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ، لَا يُرْحَمُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ اقرع بن حابس نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسن رضی اللہ عنہ کو چوم رہے ہیں وہ کہنے لگے کہ میرے تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو کبھی نہیں چوما؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7289]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5995، م: 2318.
حدیث نمبر: 7290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ، قَالَ:" وَمَا أَهْلَكَكَ"، قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ:" أَتَجِدُ رَقَبَةً؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" تَسْتَطِيعُ تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" اجْلِسْ"، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرْقٍ فِيهِ تَمْرٌ، وَالْعَرْقُ الْمِكْتَلُ الضَّخْم، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهَذَا"، قَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنَّا؟! مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنَّا، قَال: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ". وَقَالَ مَرَّةً: فَتَبَسَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، وَقَالَ:" أَطْعِمْهُ عِيَالَكَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے ہلاک کر دیا؟ اس نے کہا کہ میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کر لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام آزاد کردو اس نے کہا کہ میرے پاس غلام نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو اس نے کہا مجھ میں اتنی طاقت نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں؟ نبی کریم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک بڑا ٹوکرا آیا جس میں کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضرورت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا: جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھا لیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7290]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6709، م: 1111.
حدیث نمبر: 7291
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيِّ ، فِي بَيْتِهِ عَلَى فِرَاشِهِ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَيُّمَا صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فهي خداج، ثم هي خداج، ثم هي خداج" . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَقَالَ قَبْلَ ذَلِكَ حَبِيبِي عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، قَالَ: فَقَالَ يَا فَارِسِيُّ، اقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَقَالَ مَرَّةً: لِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، قَال: حَمِدَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3، قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، أَوْ أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4، قَالَ: فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5، قَالَ: فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، وَقَالَ مَرَّةً: مَا سَأَلَنِي، فَيَسْأَلُهُ عَبْدُهُ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 - 7، قَالَ: هَذَا لِعَبْدِي، ولَكَ مَا سَأَلْتَ، وَقَالَ مَرَّةً: وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَنِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے اور یہ بات مجھ سے پہلے میرے حبیب علیہ السلام نے بھی فرمائی ہے پھر فرمایا: کہ اے فارسی! سورت فاتحہ پڑھا کرو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ارشادباری تعالیٰ ہے میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے (اور میرا بندہ جو مانگے گا اسے وہ ملے گا) چنانچہ جب بندہ الحمد للہ رب العلمین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری تعریف بیان کی جب بندہ کہتا ہے الرحمن الرحیم۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری بزرگی یا ثناء بیان کی جب بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیاجب بندہ ایاک نعبد وایاک نستعین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرا بندہ مجھ سے جو مانگے گا اسے وہ ملے گا پھر جب بندہ اھدناالصراط المستقیم سے آخر تک پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندے کے لئے ہے اور جو تو نے مجھ سے مانگاوہ تجھے مل کر رہے گا ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرے بندے نے مجھ سے جو مانگا وہ اسے ملے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7291]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 395.
حدیث نمبر: 7292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا، فَسَأَلَهُ:" كَيْفَ تَبِيعُ؟" فَأَخْبَرَهُ، فَأُوحِيَ إِلَيْهِ: أَدْخِلْ يَدَكَ فِيهِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ، فَإِذَا هُوَ مَبْلُولٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشّ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے آدمی پر ہوا جو گندم بیچ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کس حساب بیچ رہے ہو؟ اس نے قیمت بتائی اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی ہوئی کہ اس گندم کے ڈھیر میں اپنا ہاتھ ڈال کر دیکھئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ہاتھ ڈالا تو وہ اندر سے گیلا نکلا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دھوکہ دینے والا ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7292]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 102.
حدیث نمبر: 7293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی قسم کھانے سے سامان تو بک جاتا ہے لیکن برکت مٹ جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7293]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2087، م: 1606.
حدیث نمبر: 7294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ:" إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ، يَضَعُ يَدَهُ عَلَى فِيهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اپنے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7294]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2994.
حدیث نمبر: 7295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ، وَلَا عَبْدِهِ صَدَقَةٌ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7295]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982.