مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنْ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالداری ساز و سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7316]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051.
حدیث نمبر: 7317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا، فَيَحْتَطِبَ، فَيَحْمِلَهُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَأْكُلَ أَوْ يَتَصَدَّقَ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَغْنَاهُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ، فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ بِأَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخدا! یہ بات بہت بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی رسی پکڑے لکڑیاں باندھے اور اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کر دے بہ نسبت اس کے کہ کسی ایسے آدمی کے پاس جائے جسے اللہ نے اپنے فضل سے مال اور دولت عطاء فرما رکھی ہو اور اس سے جا کر سوال کرے اس کی مرضی ہے کہ اسے کچھ دے یا نہ دے کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7317]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1470، م: 1042.
حدیث نمبر: 7318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ، وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا، وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي، وَهُوَ مُؤْمِنٌ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شخص شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7318]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2475، م: 57.
حدیث نمبر: 7319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْظُرُ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فَوْقَهُ فِي الْخَلْقِ أَوْ الْخُلُقِ أَوْ الْمَالِ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو جسم اور مال کے اعتبار سے اپنے سے اوپر والے کو نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ہمیشہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھنا چاہیے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7319]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6490، م: 2963.
حدیث نمبر: 7320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ، وَالثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کو کفایت کر جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7320]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5392، م: 2058.
حدیث نمبر: 7321
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفَرَاشُ، وَالدَّوَابُّ تَتَقَحَّمُ فِيهَا، فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ، وَأَنْتُمْ تَوَاقَعُونَ فِيهَا".
اور میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے آس پاس کی جگہ کو روشن کر دیا تو پروانے اور درندے اس میں گھسنے لگے چنانچہ میں تمہیں پشت سے پکڑ کر کھینچ رہا ہوں اور تم اس میں گرے چلے جا رہے ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7321]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3426، م: 2284.
حدیث نمبر: 7322
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِإِسْنَادِهِ" وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا، فَأَحْسَنَهُ، وَأَكْمَلَهُ، وَأَجْمَلَهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ، يَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا، إِلَّا هَذِهِ الثُّلْمَةَ، فَأَنَا تِلْكَ الثُّلْمَةُ". وَقِيلَ لِسُفْيَانَ مَنْ ذَكَرَ هَذِهِ؟ قَالَ: أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ، عَنْ.
اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کی مثال ایسے ہے کہ ایک آدمی نے کوئی عمارت تعمیر کی اسے خوب حسین و جمیل اور کامل بنایا لوگ اس کے گرد چکر لگاتے جاتے اور کہتے جاتے کہ ہم نے اس سے خوبصورت کوئی عمارت نہیں دیکھی البتہ اگر یہ سوراخ بھی بھر دیا جاتا تو کتنا اچھا ہوتا (ختم نبوت کی عمارت کا) وہ سوراخ میں ہوں (جس نے اب اس عمارت کو مکمل کر دیا ہے) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7322]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3535، م: 2286.
حدیث نمبر: 7323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ نے حضرت أدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7323]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2559، م: 2612.
حدیث نمبر: 7324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ، لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ". قَالَ سُفْيَانُ: يَكُونُ حَوْلَ بِئْرِكَ الْكَلَأُ، فَتَمْنَعُهُمْ فَضْلَ مَائِكَ، فَلَا يَعُودُونَ أَنْ يَدَعُوا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے گھاس روکی جاسکے۔ راوی حدیث سفیان اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کے کنوئیں کے پاس گھاس ہو اور آپ لوگوں کو زائد از ضرورت پانی لینے سے روکیں تو وہ لوگ اپنے جانور چرانے کے لئے وہاں دوبارہ نہیں آئیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7324]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2353، م: 1566.
حدیث نمبر: 7325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سر انجام دیتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7325]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6599، م: 2659.