مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ، مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ، وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اس دین کے معاملے میں تمام لوگ قریش کے تابع ہیں عام مسلمان قریشی مسلمانوں اور عام کافر قریشی کافروں کے تابع ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7306]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3495، م: 1818.
حدیث نمبر: 7307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبَيْه شَيْءٌ". وَقَالَ مَرَّةً" عَاتِقِهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص اس طرح ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کپڑے کا کوئی حصہ بھی نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7307]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 359، م: 516.
حدیث نمبر: 7308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ، بِكُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْكَ لَيْلًا طَوِيلًا فَارْقُدْ، وَقَالَ مَرَّةً: يَضْرِبُ عَلَيْهِ بِكُلِّ عُقْدَةٍ لَيْلًا طَوِيلًا، قَالَ: وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، فَذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا تَوَضَّأَ، انْحَلَّتْ عُقْدَتَانِ، فَإِذَا صَلَّى، انْحَلَّتْ الْعُقَدُ، وَأَصْبَحَ طَيِّبَ النَّفْسِ نَشِيطًا، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانً".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی ایک کے سر کے جوڑ کے پاس تین گرہیں لگاتا ہے ہر گرہ پر وہ یہ کہتا ہے کہ رات بڑی لمبی ہے آرام سے سوجا اگر بندہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرلے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے وضو کرلے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ اس کا دل مطمئن اور وہ چست ہوتا ہے ورنہ وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کا دل گندہ اور وہ خود سست ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7308]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1142، م: 776.
حدیث نمبر: 7309
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أُرْسِلَ عَلَى أَيُّوبَ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَقْبِضُهَا فِي ثَوْبِهِ، فَقِيلَ: يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ يَكْفِكَ مَا أَعْطَيْنَاكَ؟! قَالَ: أَيْ رَبِّ، وَمَنْ يَسْتَغْنِي عَنْ فَضْلِكَ؟" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! آپ کے فضل سے کون مستغنی رہ سکتا ہے؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7309]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 279، لكن هو هنا موقوف على أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَحْنُ الْآخِرُونَ، وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ كُلِّ أُمَّةٍ، وَقَالَ مَرَّةً:" بَيْدَ أَنَّ" وَجَمَعَهُ ابْنُ طَاوُسٍ، فَقَالَ: قَالَ أَحَدُهُمَا:" بَيْدَ أَنَّ"، وَقَالَ الْآخَرُ:: بَايْدَ كُلِّ أُمَّةٍ أُوتِيَتْ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، فَلِلْيَهُودِ غَدٌ، وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا: تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (ا تو ار) ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7310]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 876، م: 855.
حدیث نمبر: 7311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ آذَيْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَصَلَاةً".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی ایک انسان ہوں جیسے دوسرے لوگوں کو غصہ آتا ہے مجھے بھی آتا ہے (اے اللہ) میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذا پہنچائی ہو یا کوڑا مارا ہو اسے اس شخص کے لئے باعث تزکیہ و رحمت بنا دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7311]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601.
حدیث نمبر: 7312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7312]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ"، وَقَالَ مَرَّةً:" لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ بِغَيْرِ إِذْنِكَ، فَحَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ جُنَاحٌ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی تمہاری اجازت کے بغیر تمہارے گھر میں جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری دے مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7313]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6902، م: 2158.
حدیث نمبر: 7314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ بِالْمَسْأَلَةِ، فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جب دعا کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرما دے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7314]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679.
حدیث نمبر: 7315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ النَّاسُ: هَلَكُوا، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائتِ بِهِمْ، اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَاْئتِ بِهِمْ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ قبیلہ دوس کے لوگ نافرمانی اور انکار پر ڈٹے ہوئے ہیں اس لئے آپ ان کے خلاف بد دعا کیجئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی جانب رخ کر کے دونوں ہاتھ اٹھا لئے لوگ کہنے لگے کہ قبیلہ دوس کے لوگ تو ہلاک ہوگئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور انہیں یہاں پہنچا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7315]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6397، م: 2524.