مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7426
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا يَبْتَغُونَ مَجَالِسَ الذِّكْر" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7426]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689.
حدیث نمبر: 7427
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ، مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ دنیا و آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا جو شخص کسی تنگدست کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے اللہ دنیا و آخرت میں اس کے لئے آسانیاں پیدا کرے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے اور جو شخص طلب علم کے لئے کسی راستے پر چلتا ہے اللہ اس کی برکت سے اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے جب بھی لوگوں کی کوئی جماعت اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرے اور آپس میں اس کا ذکر کرے اس پر سکینہ کا نزول ہوتا ہے رحمت الہٰی ان پر چھا جاتی ہے اور فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ اپنے پاس موجود فرشتوں کے سامنے ان کا تذکرہ فرماتا ہے اور جس کے عمل نے اسے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جاسکے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7427]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2699.
حدیث نمبر: 7428
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا الْعَبْدُ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ". قَالَ: فَحَدَّثْتُهُمَا كَعْبًا، قَالَ كَعْبٌ: لَيْسَ عَلَيْهِ حِسَابٌ، وَلَا عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کے حقوق کو ادا کرتا ہو تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث کعب احبار کو سنائی تو کعب نے اس پر اپنی طرف سے یہ اضافہ کیا کہ اس کا اور دنیا سے بےرغبت مومن کا کوئی حساب نہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7428]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666.
حدیث نمبر: 7429
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ، مَا تَرَكَ غِنًى". تَقُولُ امْرَأَتُكَ: أَطْعِمْنِي، وَإِلَّا فطَلِّقْنِي، وَيَقُولُ خَادِمُكَ: أَطْعِمْنِي، وَإِلَّا فَبِعْنِي، وَيَقُولُ وَلَدُكَ: إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَذَا شَيْءٌ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ، أَمْ هَذَا مِنْ كِيسِكَ؟ قَالَ: بَلْ هَذَا مِنْ كِيسِي.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کرے) تمہاری بیوی کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤور نہ مجھے طلاق دے دو خادم کہتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کردو اولاد کہتی ہے کہ آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں؟ لوگوں نے پوچھا اے ابوہریرہ! یہ آخری جملے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے ہیں یا یہ آپ کی تھیلی میں سے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں! بلکہ یہ میری تھیلی میں سے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7429]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5355.
حدیث نمبر: 7430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَنْ صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ، وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ، وَحُطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةٌ، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، كَانَ فِي صَلَاةٍ، مَا كَانَتْ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ، وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِهِمْ، مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی جو نماز جماعت کے ساتھ پڑھتا ہے وہ گھر میں یا بازار میں پڑھی جانے والی انفرادی نماز سے بیس درجوں سے کچھ او پر فضیلت رکھتی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرتا ہے اور خوب اچھی طرح کرتا ہے پھر مسجد میں آتا ہے جہاں اس کا مقصد سوائے نماز کے کوئی اور نہیں ہوتا اور نماز ہی اسے اٹھا کر لاتی ہے تو وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے اس کے ہر قدم کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اسی طرح وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔ _x000D_ پھر جب وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعا کرتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما اے اللہ اس پر خصوصی توجہ فرما بشرطیکہ وہ کسی کو تکلیف نہ پہنچائے یا بےوضو نہ ہو جائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7430]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 477، م: 649.
حدیث نمبر: 7431
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَقَالَ عَثْرَةً، أَقَالَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی لغزش کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے معاف فرما دیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7431]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7432
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا، وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ". قَالَ أَبُو مُعَاوِيَة يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ:" رَأْسُ الْكُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل اور رقیق القلب ہیں ایمان اور حکمت اہل یمن میں بہت عمدہ ہے جبکہ ابومعاویہ نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ کفر کا مرکز مشرق کی جانب ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7432]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52.
حدیث نمبر: 7433
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِقَوْمٍ سُودِ الرُّءُوسِ قَبْلَكُمْ، كَانَتْ تَنْزِلُ النَّارُ مِنَ السَّمَاءِ، فَتَأْكُلُهَا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ، أَسْرَعَ النَّاسُ فِي الْغَنَائِمِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالا طَيِّبًا سورة الأنفال آية 68 - 69".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے کسی کالے سر والی قوم کے لئے مال غنیمت کو حلال قرار نہیں دیا گیا بلکہ آسمان سے ایک آگ اترتی تھی اور وہ اس سارے مال غنیمت کو کھا جاتی تھی جب غزوہ بدر کا موقع آیا تو لوگ مال غنیمت کے حصول میں جلدی دکھانے لگے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر اللہ نے پہلے سے فیصلہ نہ کر رکھا ہوتا تو تم نے جو مال غنیمت حاصل کیا اس کی وجہ سے تمہیں بہت بڑا عذاب چھوتا اب جو تم نے مال غنیمت حاصل کیا ہے اسے حلال و طیب سمجھ کر کھالو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7433]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747.
حدیث نمبر: 7434
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَطَاعَنِي، فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ، وَقَالَ وَكِيعٌ: الْإِمَامَ، فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى الْأَمِيرَ، فَقَدْ عَصَانِي"، وَقَالَ وَكِيعٌ:" الْإِمَامَ، فَقَدْ عَصَانِي".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی در حقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7434]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2957، م: 1835.
حدیث نمبر: 7435
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي، عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ، لَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَبُولُونَ، وَلَا يَتَمَخَّطُونَ، وَلَا يَبْزُقُونَ، أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ، وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ، وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ، أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، عَلَى طُولِ أَبِيهِمْ، سِتِّينَ ذِرَاعًا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں میری امت کا جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا اس کے بعد درجہ بدرجہ لوگ ہوں گے یہ لوگ پیشاب پاخانہ نہیں کریں گے۔ نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کے پسینے سے مشک کی مہک آئے گی۔ ان کی انگیٹھیوں میں عود مہک رہا ہوگا۔ ان سب کے اخلاق ایک شخص کے اخلاق کی مانند ہوں گے وہ سب اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر اور ساٹھ ہاتھ لمبے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7435]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3254، م: 2834.