🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7386
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ مُحَيْصِنٍ ، شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ سَهْمِيٌّ، سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 شَقَّتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَبَلَغَتْ مِنْهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَبْلُغَ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، فَكُلُّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ، حَتَّى النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو شخص برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔۔ تو یہ بات مسلمانوں پر بہت شاق گزری اور ان کے دلوں میں مختلف قسم کے وسوسے پیدا ہونے لگے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کے قریب رہو اور سیدھی راہ اور بات پر رہو کیونکہ مسلمان کو جو بھی مصیبت پیش آتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے حتیٰ کہ جو زخم اسے لگتا ہے یا جو کانٹا اسے چبھتا ہے (وہ بھی اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے)۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7386]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5641، م: 2574.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ طَاوُسًا ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام، فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُونَا، خَيَّبْتَنَا، وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّة! فَقَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسَى، أَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ، وَقَالَ مَرَّةً: بِرِسَالَتِهِ وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً؟! قَالَ: حَجَّ آدَمُ مُوسَى، حَجَّ آدَمُ مُوسَى".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم! آپ ہمارے باوا ہیں آپ نے ہمیں شرمندہ کیا اور جنت سے نکلوادیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا: اے موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا اور تمہیں اپنے ہاتھ سے تورات لکھ کردی کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے چالیس برس پہلے کر لیا تھا؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7387]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6614، م: 2652.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: لَا وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا أَنَا قُلْتُ:" مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا، فَلَا يَصُومُ" مُحَمَّدٌ وَرَبِّ الْبَيْتِ قَالَهُ، مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، مُحَمَّدٌ نَهَى عَنْهُ وَرَبِّ الْبَيْتِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات میں نے نہیں کہی کہ جو آدمی حالت ت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اور جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے میں نے منع نہیں کیا بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7388]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وفي هذا الإسناد عبدالله بن عمرو القاري، وقد تفرد بالرواية عنه يحيى، وقد توبع أيضاً.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7389
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ مُنَبِّهٍ يَعْنِي وَهْبًا ، عَنْ أَخِيهِ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: " لَيْسَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ، وَكُنْتُ لَا أَكْتُبُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مجھ سے زیادہ بکثرت جاننے والا کوئی نہیں سوائے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7389]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 113.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7390
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَيَحْيَى ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مُفْلِسٍ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7390]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2402، م: 1559، لسفيان فيه إسنادان: الأول: فيه هشام ابن يحيى، وإن كان مستورا، وقد توبع، والثاني: صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7391
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، سَمِعَهُ مِنْ شَيْخٍ، فَقَالَ مَرَّةً: سَمِعْتُهُ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَعْرَابِيٍّ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَرَأَ: وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1 فَبَلَغَ: فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ سورة المرسلات آية 50، فَلْيَقُلْ: آمَنَّا بِاللَّهِ، وَمَنْ قَرَأَ: وَالتِّينِ وَالزَّيْتُون، فَلْيَقُلْ: بَلَى، وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ، وَمَنْ قَرَأَ: أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى سورة القيامة آية 40، فَلْيَقُلْ: بَلَى". قَالَ إِسْمَاعِيلُ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ، هَلْ حَفِظَ؟ وَكَانَ أَعْرَابِيًّا، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَظَنَنْتَ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ! لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً، مَا مِنْهَا سَنَةٌ، إِلَّا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سورت مرسلات کی آخری آیت فبأی حدیث بعدہ یؤمنون کی تلاوت کرے اسے یوں کہنا چاہئے آمنا باللہ (ہم اللہ پر ایمان لائے) اور جو شخص سورت قیامۃ کی آخری آیت الیس ذلک بقادر علی ان یحییٰ الموتی کی تلاوت کرے اسے یوں کہنا چاہئے بلی (کیوں نہیں)۔ راوی حدیث اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے جس سے یہ حدیث سنی چونکہ وہ ایک دیہاتی آدمی تھا اس لئے میں نے اس کے حافظے کا امتحان لینا چاہا کہ وہ صحیح طرح یاد بھی رکھ سکا ہے یا نہیں؟ وہ کہنے لگا کہ اے بھتیجے کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں اس حدیث کو یاد نہیں رکھ سکا میں نے ساٹھ مرتبہ حج کیا ہے اور جس سال میں نے جس اونٹ پر حج کیا ہے مجھے اس تک کی شناخت یاد ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7391]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لجهالة الراوي عن أبي هريرة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7392
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْعُذْرِيِّ، قَالَ مَرَّةً: عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا، فَلْيَخُطَّ خَطًّا، وَلَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اپنے سامنے کوئی چیز (بطور سترہ کے) رکھ لے اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی ہی کھڑی کرلے اور اگر لاٹھی بھی نہ ہو تو ایک لکیر ہی کھینچ لے اس کے بعد اس کے سامنے سے کچھ بھی گزرے اسے کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7392]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطرابه وجهالة راويه أبي محمد بن عمرو.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7393
حَدَّثَنَا سُفْيَان ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7393]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7394
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7394]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7395
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ، فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا، فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ، وَلَا يُثَرِّبْ". قَالَ سُفْيَانُ: لَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا أَيْ لَا يُعَيِّرْهَا عَلَيْهَا فِي الثَّالِثَةِ، أَوْ الرَّابِعَةِ:" فَليَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ".

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2152، م: 1703.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں