مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اسے کپڑے کے دونوں کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لینے چاہئیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7466]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 360، م: 516.
حدیث نمبر: 7467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَحْتَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ. حَدَّثَنَاه الْخَفَّافُ ، عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7467]
الحكم على الحديث:
الحديث صحيح، خ: 5787، قد اختلف الرواة في إسناد هذا الحديث.
حدیث نمبر: 7468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ شِقْصٌ فِي مَمْلُوكٍ، فَأَعْتَقَ نِصْفَهُ، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ فِي ثَمَنِ رَقَبَتِهِ، غَيْرَ مَشْقُوقٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی کسی غلام میں شراکت ہو اور وہ اپنے حصے کے بقدر اسے آزاد کر دے تو اگر وہ مالدار ہے تو اس کی مکمل جان خلاصی کرانا اس کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ مالدار نہ ہو تو بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لئے غلام سے اس طرح کوئی محنت مزدوری کروائی جائے کہ اس پر بوجھ نہ بنے (اور بقیہ قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ مکمل آزاد ہوجائے گا) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7468]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2492، م: 1503.
حدیث نمبر: 7469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ ضَمْضَمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ". قَالَ يَحْيَى: وَالْأَسْوَدَانِ الْحَيَّةُ، وَالْعَقْرَبُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں کو مارا جاسکتا ہے یحییٰ نے دو کالی چیزوں کی وضاحت سانپ اور بچھو سے کی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7469]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7470
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُجُوِّزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ فِي أَنْفُسِهَا، أَوْ وَسْوَسَتْ بِهِ أَنْفُسُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ، أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو یہ چھوٹ دی گئی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7470]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2528، م: 127.
حدیث نمبر: 7471
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ . وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا، بَاتَتْ تَلْعَنُهَا الْمَلَائِكَةُ". قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ:" حَتَّى تَرْجِعَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں تاآنکہ وہ واپس آجائے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7471]
الحكم على الحديث:
إسناداه صحيحان، خ: 5194، م: 1436.
حدیث نمبر: 7472
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً، وَجَعَلَ ابْنُ عَوْنٍ يُرِينَا بِكَفِّهِ الْيُمْنَى، فَقُلْنَا: يُزَهِّدُهَا لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7472]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852.
حدیث نمبر: 7473
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ جميعا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہذا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7473]
الحكم على الحديث:
صحيح،.خ: 533، م: 615، وهذا إسناد ضعيف، أبو الوليد لم يعرف.
حدیث نمبر: 7474
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَمَمْتُمْ، فَخَفِّفُوا، فَإِنَّ فِيكُمْ الْكَبِيرَ، وَالضَّعِيفَ، وَالصَّغِيرَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بچے سب ہی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7474]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 703، م: 467.
حدیث نمبر: 7475
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ حَبِيبٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" لَوْ رَأَيْتُ الْأَرْوَى تَجُوسُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يَعْنِي الْمَدِينَةَ مَا هِجْتُهَا، وَلَا مَسِسْتُهَا، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّمُ شَجَرَهَا أَنْ يُخْبَطَ، أَوْ يُعْضَدَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر میں مدینہ منورہ میں پہاڑی بکرے کو گھومتا ہوا دیکھ بھی لوں تب بھی انہیں نہ ڈراؤں اور نہ ہاتھ لگاؤں کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے درختوں کے پتے توڑنے یا کانٹے کو حرام قرار دیتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7475]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1873، م: 1372، وهذا إسناد ضعيف، حبيب الهذلي مجهول.